پمز سانحہ، غریب اور امیر کے لیے دو الگ نظام قائم ہیں، سلمان اکرم راجہ

جمعرات 27 اگست 2026 23:09

پمز سانحہ، غریب اور امیر کے لیے دو الگ نظام قائم ہیں، سلمان اکرم راجہ
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اگست2026ء) پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ملک میں غریب اور امیر کے لیے دو الگ نظام قائم ہیں، پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات اسی ناکام نظام کا نتیجہ ہیں، عوام کے ووٹ اور بنیادی حقوق کا تحفظ کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مرکزی قیادت کے ہمراہ 3 سے 6 ستمبر تک سندھ کا دورہ کریں گے جبکہ 6 ستمبر کو کراچی میں جلسہ ہوگا۔

انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی شہادت انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پیش آنے والا سانحہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے، اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ نظام کہاں ناکام ہوا بلکہ اصل نظام کو درست کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں غریب اور امیر کے لیے دو نظام مسلط ہیں، جہاں امیر کے بچے جاتے ہیں وہاں غریب کا بچہ نہیں جاسکتا۔ 1980 کی دہائی تک سرکاری اسکولوں کا نظام بہتر تھا اور امیر و غریب کے بچے ایک ہی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے، بعدازاں مہنگے انگلش میڈیم اسکول قائم ہوئے جہاں غریب بچے بھاری فیسوں کے باعث تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، ہم ان بچوں کی صلاحیت ضائع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی تفریق نے ملک کے مستقبل کو نقصان پہنچایا ہے اور پمز کا واقعہ بھی اسی نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ بنیادی صحت یونٹس میں زیادہ تر غریب عوام جاتے ہیں، اس لیے صحت کا نظام ان کے لیے بہتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً 40 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے ذہنی نشوونما میں پیچھے ہیں، ایسے بچوں کی صلاحیت ضائع ہونا ملک کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان امیر اور غریب کے بچوں کو یکساں تعلیم اور مواقع دینے کی بات کرتے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے الزام عائد کیا کہ آج آواز اٹھانے والے کو اٹھا لیا جاتا ہے، سچ بولنے والے صحافیوں کو اداروں سے نکال دیا جاتا ہے جبکہ حق کی بات کرنے والے ارکان اسمبلی کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے لاہور میں میلاد النبیﷺ کے پروگرام میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت بھی کی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ غریب اپنی آواز ووٹ کے ذریعے بلند کرتا ہے لیکن اس کا ووٹ چوری کیا گیا۔ ان کے مطابق 8 فروری کو کروڑوں پاکستانیوں نے عمران خان کو ووٹ دیا مگر عوام کی آواز کو کچل دیا گیا۔ انہوں نے انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسترد کردہ لوگوں کو مسلط کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو کبھی پنپنے نہیں دیا گیا۔ صوبے بنانا یا صوبوں کو چھوٹا کرنا عوام کا فیصلہ ہونا چاہیے اور یہ فیصلہ ایسی اسمبلی کرسکتی ہے جو عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی نمائندہ ہو۔ انہوں نے لوکل گورنمنٹ نظام کو مضبوط بنانے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔سلمان اکرم راجہ نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو یومِ جمہوریت منایا جائے گا اور عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک دن کا معرکہ نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مرکزی قیادت کے ہمراہ 3 ستمبر کو سندھ میں داخل ہوں گے اور صبح 11 بجے کموں شہید بارڈر پر ان کا استقبال کیا جائے گا۔ 4 ستمبر کو جیکب آباد سے نوشہرو فیروز، 5 ستمبر کو نوشہرو فیروز سے حیدرآباد اور 6 ستمبر کو کراچی پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کو شاہراہ قائدین پر بڑا جلسہ ہوگا۔حلیم عادل شیخ نے سندھ کے صحت کے نظام، مہنگائی اور کراچی کے شہری مسائل پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے ولیکا اسپتال میں 96 بچے غلط انجکشن کے باعث ایڈز کا شکار ہوئے جبکہ رتوڈیرو میں بھی ایڈز کا مسئلہ موجود ہے۔ انہوں نے سندھ میں 60 ہزار افراد کے منہ کے کینسر میں مبتلا ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت سے صحت کے شعبے پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں آٹا 180 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے اور مہنگائی نے غریب خاندانوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے میر رضا علی قتل کیس میں بھی شفاف تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر فہیم خان نے پمز سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال سے بھی فوری استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی نے 6 ستمبر کو کراچی میں جلسے کے لیے اجازت کی درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق، جمہوریت، شفاف انتخابات، مضبوط بلدیاتی نظام، صحت، تعلیم اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔