سندھ کبھی تقسیم نہیں ہوگا، فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی، مراد علی شاہ

سندھ اسمبلی نے 1948، 2000، 2014، 2019 اور 2026 میں تقسیم سندھ کے خلاف قراردادیں منظور کیں، کوئی ٹی وی، جلسہ یا عدالت صوبے کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتی، وزیراعلیٰ سندھ

پیر 31 اگست 2026 21:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 اگست2026ء) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا فیصلہ لاہور کے چند کاروباری افراد نہیں کرسکتے، صوبے کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار سندھ اسمبلی کے منتخب ارکان کے پاس ہے، سندھ کبھی تقسیم نہیں ہوگا۔ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی صوبے کی تقسیم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور ضرورت پڑی تو ایک بار پھر قرارداد منظور کی جائے گی۔

وہ پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سینئر پارلیمنٹرین نثار احمد کھوڑو کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے خلاف پیش کی گئی تحریک التوا پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے۔ سندھ اسمبلی نے مذکورہ تحریک جمعہ کو بحث کے لیے منظور کی تھی۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ سندھ نے جذباتی انداز میں کہا کہ سندھ اسمبلی 1948، 2000، 2014، 2019 اور 2026 میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کرچکی ہے۔

اگر کسی میں ہمت ہے تو سندھ کی تقسیم کی قرارداد لاکر دکھائے۔ جب تک ہم میں سے ایک بھی رکن زندہ ہے، ہمارا صوبہ تقسیم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی اور اس ایوان میں اس موضوع پر بحث ہوگی۔ کوئی ٹی وی، جلسے یا سیمینار میں سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ عدالت کے فیصلے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم صوبے کی تقسیم کا اصل فیصلہ سندھ اسمبلی میں ہوگا کیونکہ بحث کی اصل جگہ یہی ایوان ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری واضح کرچکے ہیں کہ عوام جو چاہیں گے، ہم وہی کریں گے۔ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر دونوں جانب کا مؤقف اسمبلی میں سنا جانا چاہیے اور بحث کو درست نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ صدیوں سے قائم ہے اور سندھ کے عوام نے اسے دوبارہ متحد کیا۔ سندھ کی تقسیم کے حوالے سے اٹھنے والی تمام آوازوں کا جواب سندھ اسمبلی دے گی۔

آئین کے مطابق ریاست کے اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوتے ہیں۔اس موقع پر اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ ارکان جتنی بحث کرنا چاہتے ہیں کریں، تاہم یہ صوبہ ہمیشہ ایک رہے گا۔ اسپیکر نے معمول کا بزنس معطل کرکے تحریک التوا پر بحث شروع کرائی۔تحریک کے محرک نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ انہوں نے تحریک التوا اس لیے پیش کی ہے کہ باہر ہونے والی تقریروں کو نہیں روک سکتے، تاہم سندھ کے عوام اپنا ردعمل دے چکے ہیں۔

وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون لوگ دھرتی ماں کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو پاکستان کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ اسلام آباد میں کاروباری افراد کی کانفرنس میں صوبوں کے قیام کی بحث شروع ہونا حیران کن ہے۔ سندھ اور وادی سندھ کی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے، سندھ کی اجرک پانچ ہزار سال قدیم تہذیبی نشانی ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ نے بمبئی پریزیڈنسی سے آزادی حاصل کی اور اسی اسمبلی سے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور ہوئی۔

ملک بننے کے بعد بھی سندھ پر حملے بند نہیں ہوئے اور صوبوں کی حیثیت ختم کرکے ون یونٹ قائم کیا گیا۔ اب دوبارہ سندھ کے ٹکڑے کرنے کی بات کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اپنے اختلافات چھپانے کے لیے سندھ کی تقسیم کی بات کررہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے افواج پاکستان کا نام استعمال کرنا بھی افسوسناک ہے۔ سندھ کے بارے میں فیصلہ سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کرے گی۔

سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔بحث میں ایم کیو ایم کے رکن ریحان اکرم نے کہا کہ 1973 کے آئین میں صوبوں کے قیام کا طریقہ کار موجود ہے۔ انتظامی یونٹس بنانے سے سندھ تقسیم نہیں ہوگا۔پیپلز پارٹی کے راجہ رزاق بلوچ نے کہا کہ انہیں سندھ کی تقسیم کسی صورت منظور نہیں۔ سندھ کے وسائل پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے رکن شارق جمال نے کہا کہ سندھ ان کی دھرتی اور پاکستان ان کا ملک ہے، تاہم عوام کو بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے اور نئے انتظامی یونٹس پر بات ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم کے رکن عادل عسکری نے کہا کہ سندھ ایک ہے، تاہم انتظامی بنیادوں پر سندھ کو مختلف یونٹس میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے کہا کہ کوئی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا، تاہم کراچی کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔ پیپلز پارٹی کے فیاض بٹ اور ڈاکٹر سکندر شورو نے سندھ کی وحدت کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔سندھ اسمبلی میں بحث جاری تھی کہ اجلاس منگل کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔