آج سندھ اسمبلی کے لیے نہایت اہم اور تاریخی دن ہے۔ ایوان میں نثار احمد کھوڑو کی جانب سے پیش کردہ تحریکِ التواء پر بحث ہو رہی ہے، شرجیل میمن

آج ہونے والی بحث کو سندھ اسمبلی کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اور آنے والے وقت میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ تحریک التوا کس اہم مسئلے پر پیش کی گئی تھی تحریکِ التواء پر ہونے والی مکمل بحث کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ ایوان میں ہونے والی ہر تقریر اور ایک ایک لفظ کو تاریخی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا

جمعہ 4 ستمبر 2026 04:00

fکراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 ستمبر2026ء) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج سندھ اسمبلی کے لیے نہایت اہم اور تاریخی دن ہے۔ ایوان میں نثار احمد کھوڑو کی جانب سے پیش کردہ تحریکِ التواء پر بحث ہو رہی ہے جو ایک اہم معاملے سے متعلق ہے۔

آج ہونے والی بحث کو سندھ اسمبلی کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اور آنے والے وقت میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ تحریک التوا کس اہم مسئلے پر پیش کی گئی تھی۔ سندھ اسمبلی میں آج ہونے والی بحث کی اپنی تاریخی اہمیت ہے، اسی لیے تحریکِ التواء پر ہونے والی مکمل بحث کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ ایوان میں ہونے والی ہر تقریر اور ایک ایک لفظ کو تاریخی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا جبکہ سندھ کی وحدانیت کے معاملے پر ہونے والی بحث کو تاریخی دستاویز کی صورت میں محفوظ کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اس کتاب میں تحریکِ التوائ پر حکومتی اور اپوزیشن بینچز سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین کی تقاریر اور ان کے مؤقف شامل کیے جائیں گے تاکہ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچایا جاسکے اور آنے والی نسلوں کے لیے مکمل ریکارڈ محفوظ رہے۔سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وہ ایوان میں پہلے بیان کی گئی تاریخ اور ماضی کے واقعات کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتے۔

بہت سے مقررین سندھ کی تاریخ، ماضی اور موجودہ حالات پر تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں جبکہ 1948ئ سے اب تک کے واقعات پر بھی ایوان میں تفصیلی روشنی ڈالی جاچکی ہے۔ سندھ کی تاریخ ایک وسیع موضوع ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ آج کی بحث میں ان نکات پر بات کی جائے جو پہلے زیرِ بحث نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا سندھ کے معاملے پر مؤقف بالکل واضح ہے اور سندھ حکومت کا مؤقف بھی واضح ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ متعلقہ اسمبلیوں کو کرنا چاہیے۔ نئے صوبے کے قیام یا نہ ہونے کا فیصلہ سندھ اسمبلی، پنجاب اسمبلی یا کسی بھی متعلقہ صوبائی اسمبلی کو کرنا ہوگا۔ ہر صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلہ اسی صوبے کی منتخب اسمبلی کے ذریعے ہونا چاہیے اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فیصلہ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کا آئینی مینڈیٹ ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی شق 4 میں صوبے کی حدود میں تبدیلی کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ صوبوں سے متعلق اہم فیصلے ٹاک شوز میں نہیں بلکہ منتخب اسمبلیوں کے فلور پر ہونے چاہئیں۔ نئے صوبوں کے فیصلے کسی ٹی وی چینل کے ریفرنڈم یا سروے کے ذریعے نہیں ہوسکتے اور صوبے کی تقسیم یا انتظامی تبدیلی کا فیصلہ سڑکوں، جلسوں اور جلوسوں میں نہیں بلکہ آئینی فورم پر ہونا چاہیے۔

اگر سندھ کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو وہ سندھ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی سندھ کی وحدت کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور آج تحریکِ التوائ کے بعد سندھ کی وحدت کے حوالے سے ایک اور قرارداد بھی ایوان میں لانے کی توقع ہے۔ سندھ کے مستقبل سے متعلق فیصلہ عوام کے منتخب نمائندوں کو آئینی طریقہ کار کے تحت کرنا چاہیے۔

سندھ کی وحدت کے معاملے پر سندھ اسمبلی کا مؤقف پہلے بھی واضح اور دوٹوک رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام پاکستان سے جتنی محبت کرتے ہیں، اپنی صوبائی اکائی سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں۔ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، پاکستان کی آئینی اور قانونی حیثیت ہمارے لیے ناقابلِ سمجھوتہ ہے اور پاکستان کی وحدت و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

سندھ کی شناخت اور پاکستان سے وابستگی دونوں ہمارے لیے اہم ہیں، ہم پاکستان کو اپنی ریڈ لائن سمجھتے ہیں۔سینئر وزیر انعام میمن نے کہا کہ انہوں نے ایوان کے دونوں جانب سے اراکین کی بہت سی تقاریر غور سے سنی ہیں۔ حکومتی اور اپوزیشن بینچز سے ہونے والی گفتگو کا انہوں نے مشاہدہ کیا۔ گزشتہ کابینہ اجلاس کے بعد معمول کی بریفنگ میں ان سے نئے صوبے کے معاملے پر متعدد سوالات کیے گئے، جن میں دس میں سے آٹھ سوالات نئے صوبے کے قیام سے متعلق تھے۔

انہوں نے ہر سوال کے جواب میں احتیاط سے بات کرنے پر زور دیا اور واضح کیا کہ نئے صوبوں جیسے حساس معاملات پر صبر، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حساس سیاسی معاملات کو جذبات کے بجائے صبر اور تحمل کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جن سیاسی قوتوں کی پالیسیاں مسترد ہوچکی ہیں، وہ شاید ووٹ بینک کے لیے لسانی کارڈ استعمال کررہی ہیں۔

بعض عناصر اپنے سیاسی مفادات اور ووٹ بینک کے لیے لسانی سیاست کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سندھ کے عوام بے فکر رہیں، ان کے منتخب نمائندے سندھ کے مفادات پر کبھی سودے بازی نہیں کریں گے اور اپنے صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ قطعی طور پر لسانی مسئلہ نہیں ہے اور سندھ میں یہ سندھی اور مہاجر کا مسئلہ بھی نہیں۔

سندھ کی تقسیم کا معاملہ سندھی بولنے والوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان تنازع نہیں ہونا چاہیے۔ سندھ کے مختلف لسانی طبقات کے درمیان اختلاف پیدا کرنا درست نہیں اور بعض عناصر ماضی کی طرح اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لسانی کارڈ کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں سندھ کے عوام کے مفاد میں نہیں، اس لیے سندھ کے عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا۔

شرجیل انعام میمن نے ماضی کے سیاسی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2014ئ میں بانی ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ ون اور سندھ ٹو کی بات کی گئی۔ 2014ئ میں ایم کیو ایم کی قیادت کی جانب سے سندھ کو تقسیم کرنے اور الگ صوبے کے مطالبے سے متعلق بیانات سامنے آئے، 2015ئ میں بھی کراچی کو شہری و دیہی سندھ کے تناظر میں تقسیم کرنے کی بات کی گئی، 2016ئ میں ایم کیو ایم کے ایک رکن کی جانب سے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کے مطالبے کا معاملہ اٹھایا گیا جبکہ 2018ئ میں بھی ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ دوبارہ سامنے آیا۔

مختلف اوقات میں سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے کے مطالبے کے حوالے سے ایم کیو ایم کی قیادت کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نہیں بلکہ سابقہ بیانات اور واقعات کے تناظر میں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم کے ہمارے دوست جس کیفیت میں گفتگو کررہے ہیں، ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ ایوان میں موجود ہمارے کئی دوست شاید یہ تقاریر دل سے نہیں بلکہ سیاسی حالات کے تحت کررہے ہیں۔ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر ماضی کے بیانات اور موجودہ مؤقف کے درمیان فرق عوام کے سامنے واضح ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایوان میں موجود تمام اراکین کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ بعض اراکین کی باڈی لینگویج ان کے الفاظ سے مختلف دکھائی دی اور محسوس ہوا کہ بعض اراکین کی گفتگو اور ان کے حقیقی جذبات میں واضح فرق ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کے اردو اور سندھی بولنے والے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارہ قابلِ تحسین ہے۔ سندھ کے عوام کی باہمی محبت سیاسی اختلافات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ بعض سیاسی دوست شاید موجودہ حالات میں سیاسی مجبوری کے تحت کچھ باتیں کررہے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ سندھ میں بسنے والے اردو بولنے والے عوام بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔

ماضی میں سیاسی قیادت نے جو مؤقف اختیار کیے وہ اپنی جگہ، لیکن سندھ کے عوام کی خواہش تقسیم نہیں بلکہ اتحاد ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم صرف پیپلز پارٹی یا سندھی بولنے والوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ سندھ کی وحدت کا معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک لسانی طبقے تک محدود نہیں۔ سندھ میں رہنے والا ہر شخص، چاہے کسی بھی زبان یا قومیت سے تعلق رکھتا ہو، سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا۔

سندھ کے غیر سیاسی اور مختلف لسانی طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری بھی سندھ کو تقسیم کرنے کے حق میں نہیں۔ سندھ کی وحدت کے تحفظ کا مؤقف سندھ میں بسنے والے تمام لوگوں کا مشترکہ مؤقف ہونا چاہیے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر مختلف لوگوں کے متعدد ویڈیو کلپس موجود ہیں، تاہم وقت کی پابندی کے باعث انہوں نے صرف چھ سات اہم کلپس ایوان کے سامنے رکھے ہیں۔

ان کلپس میں موجود تمام افراد سندھ اسمبلی کے اراکین نہیں ہیں۔ انہوں نے معزز اراکین سے کہا کہ ان مہمانوں کا تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا جائے جنہوں نے سندھ کے معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور سندھ کے معاملے پر آواز اٹھانے والوں کو ایوان کی جانب سے خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد کے ویڈیو کلپس پیش کیے گئے، ان میں کوئی بھی پیپلز پارٹی سے تعلق نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی کوئی سندھی بولنے والا یا پیپلز پارٹی سے وابستہ شخص شامل تھا۔ ان ویڈیو کلپس میں معروف اور آزاد صحافیوں سمیت مختلف غیر جانب دار شخصیات کے بیانات شامل تھے جو اپنی غیر جانب دارانہ حیثیت اور صحافتی خدمات کے حوالے سے معروف ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں سندھی اور اردو بولنے والوں کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور ملک بھر میں رابطے اور اظہار کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ میں خود اردو بولتا ہوں اور آج ایوان میں اردو زبان میں اظہارِ خیال کررہا ہوں۔ وفاقی سطح پر بھی سرکاری امور اور اجلاسوں میں اردو زبان استعمال کی جاتی ہے جبکہ پاکستان کے ڈراموں، فلموں اور خبروں میں بھی اردو بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔

سندھ میں رہنے والے تمام لوگوں کو ہم اپنا بھائی سمجھتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں۔ مختلف لسانی طبقات کے درمیان بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے اور سندھی و اردو بولنے والوں کے درمیان تفریق کا تاثر ختم کرکے ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آزاد ہوئے 75 سے زائد برس گزر چکے ہیں، اب ہمیں پرانی تقسیم کی سیاست سے آگے بڑھنا ہوگا۔

اب ایوان میں روزگار کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق ایجنڈا موشن آنی چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن کو عوام کو روزگار دینے کے طریقوں پر سنجیدہ بحث کرنی چاہیے اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے ایوان میں عملی تجاویز اور اقدامات زیرِ بحث آنے چاہئیں۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگر کسی کو گورننس کا مسئلہ نظر آتا ہے تو اس پر ضرور بات کی جائے، تاہم گورننس کے مسائل کا حل نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا نہیں ہوسکتا۔

کسی ادارے میں انتظامی مسئلہ پیدا ہو تو اسے الگ صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔ اسلام آباد کے اسپتال میں 14 معصوم بچوں کی ہلاکت کو انتظامی یونٹ بنانے سے جوڑنا درست نہیں۔ اگر ہر گورننس کے مسئلے کا حل نیا انتظامی یونٹ بنانا ہے تو ہر ادارے کے لیے الگ نظام بنانا پڑے گا۔ گورننس بہتر بنانے کے لیے موجودہ نظام میں اصلاحات اور مؤثر انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایوان کی ترجیح سیاسی تقسیم نہیں بلکہ عوام کو روزگار، بہتر سہولیات اور مسائل کا حل فراہم کرنا ہونی چاہیے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس دھرتی نے ہم سب کو سایہ دیا ہے، اسے توڑنے کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ سندھ کی تقسیم کے معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ پنجاب اسمبلی 9 مئی 2012ئ کو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام اور بہاولپور صوبے کی بحالی کی قراردادیں منظور کرچکی ہے۔

جب پنجاب اسمبلی میں نئے صوبوں سے متعلق قراردادیں منظور ہوچکی ہیں تو وہاں اس معاملے پر خاموشی کیوں ہی اگر نئے صوبوں کا معاملہ آئینی ہے تو اس کا آغاز ان صوبوں سے بھی ہونا چاہیے جہاں متعلقہ قراردادیں پہلے ہی منظور ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو جماعت خود کو پورے پاکستان کی جماعت قرار دیتی ہے، اسے وفاقی کابینہ میں بھی نئے صوبوں کا معاملہ اٹھانا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے سامنے جنوبی پنجاب اور بہاولپور سے متعلق قراردادوں پر کتنی مرتبہ معاملہ اٹھایا گیا سندھ کے معاملے پر شور کرنے والوں کو پنجاب اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں پر بھی اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔ نئے صوبوں کے معاملے میں ایک ہی اصول تمام وفاقی اکائیوں کے لیے اختیار کیا جانا چاہیے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو نئے صوبوں کے معاملے پر بات نہ کرنے کی ہدایت کی۔

پنجاب میں بھی حکومت ہے اور وفاق میں بھی، پھر پارٹی قیادت نے نئے صوبوں کے معاملے پر بات کرنے سے کیوں روکا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری واضح کرچکے ہیں کہ نئے صوبوں کا فیصلہ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کو کرنا چاہیے۔ پنجاب کے بارے میں فیصلہ پنجاب اسمبلی، سندھ کے بارے میں سندھ اسمبلی، خیبر پختونخوا کے بارے میں متعلقہ اسمبلی اور بلوچستان کے بارے میں بلوچستان اسمبلی کو کرنا چاہیے۔

اگر پنجاب میں نئے صوبے سے متعلق قراردادیں موجود ہیں تو پہلے وہاں اس معاملے پر بحث اور فیصلہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کا مؤقف سامنے آنا چاہیے۔ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی سندھ کی وحدت کے حوالے سے کئی مرتبہ اپنا فیصلہ دے چکی ہے اور آج ایک مرتبہ پھر سندھ اسمبلی سندھ کی وحدت کے بارے میں اپنا واضح فیصلہ سنانے جارہی ہے۔

سندھ کے مستقبل سے متعلق فیصلہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت منتخب ایوان میں ہی ہونا چاہیے اور نئے صوبوں کے معاملے پر تمام صوبوں کے لیے ایک ہی آئینی اصول اور طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں بھائی چارے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ پاکستان ایک گلدستہ ہے جس میں چاروں صوبے، مختلف زبانیں اور مختلف ثقافتیں شامل ہیں۔

پاکستان کی حقیقی خوبصورتی اس کے مختلف صوبوں، زبانوں اور ثقافتوں کے امتزاج میں ہے۔ پاکستان کے تنوع کی سب سے خوبصورت مثال صوبہ سندھ میں نظر آتی ہے جہاں کراچی میں مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں سندھی، اردو، پنجابی، پشتو اور بلوچی سمیت مختلف زبانیں بولنے والے نمائندے موجود ہیں جبکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نمائندے بھی ایوان کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی صرف ایک میٹروپولیٹن شہر نہیں بلکہ مختلف قومیتوں اور ثقافتوں کے امتزاج کی علامت ہے۔ سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی مختلف زبانیں بولنے اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ سندھ کی اصل طاقت اس کا ثقافتی، لسانی اور مذہبی تنوع ہے اور پاکستان کی وحدت و خوبصورتی اسی تنوع میں اتحاد قائم رکھنے سے ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سکھر کے میئر اردو بولنے والے سندھی ہیں، جبکہ نواب شاہ سے رکن سندھ اسمبلی جاوید آرائیں پنجابی بولنے والے ہیں۔ جاوید آرائیں نے تقریباً 70 ہزار ووٹ حاصل کیے، جن میں تقریباً 20 ہزار ووٹ پنجابی بولنے والے ووٹرز جبکہ 50 ہزار ووٹ دیگر ووٹرز نے دیے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ سندھ کے عوام لسانی تفریق سے بالاتر ہوکر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

سندھ کے عوام کا یہی طرزِ عمل باہمی محبت اور بھائی چارے کی بہترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام امن پسند اور روشن خیال سوچ کے حامل ہیں، وہ لسانی تعصب اور نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کی سوچ لسانی نفرتوں سے پاک اور انسان دوستی پر مبنی ہے۔ سندھ میں لوگ زبان اور نسل کے بجائے انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کی دھرتی مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کے درمیان محبت، بھائی چارے، اتحاد اور رواداری کی علامت ہے۔