منی پور میں احتجاجی مظاہرین پر بھارتی فورسز کی آنسو گیس کی شیلنگ

بھارتی فورسز نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیاجس کے بعد امپھال میں کشیدگی پھیل گئی

پیر 7 ستمبر 2026 17:08

امپھال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 ستمبر2026ء) بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں شہریوں کو قتل اور لاپتا کئے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لئے بھارتی پیراملٹری فورسز اور پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریاست میں طویل عرصے سے جاری تشدد کے دوران ہلاک اورلاپتا ہونے والے افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے لوگوں نے احتجاج کیا جس کو روکنے کے لئے بھارتی فورسز نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیاجس کے بعد امپھال میں کشیدگی پھیل گئی۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب بھارتی فورسز اور پولیس نے امپھال میں مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے۔ احتجاج خوائرام بند اما مارکیٹ کی خواتین دکانداروں، جوائنٹ ٹرائب کونسل آف کوآرڈینیشن کمیٹی امپھال اور سیو انڈیجینس پیپل آف منی پور نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

(جاری ہے)

مختلف ناگا قبائل سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔

مظاہرین نے مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے انہیں روک دیا اور انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔یہ مظاہرہ منی پور قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ اجلاس کے اختتام سے قبل ریاست میں طویل عرصے سے جاری تشدد سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔

مظاہرین کے مطالبات میں تشدد کے دوران ہلاک یا لاپتا ہونے والے مقامی لوگوں کے لیے انصاف کی فراہمی شامل تھی۔ مظاہرین نے تشدد سے متاثرہ ریاست میں مردم شماری سے قبل نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے نفاذ کے بارے میںفیصلہ کرنے اور سسپنشن آف آپریشنز (ایس او او) معاہدے کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ اسمبلی اجلاس کے اختتام سے پہلے ان مسائل کو حل کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹھوس اقدامات نہ کرنے سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔