صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 10 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے اہلخانہ کی سپریم کورٹ کے باہر بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی

آنر 25 کے 10 پاکستانیوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جائے اور صومالیہ میں قید تمام سی فیرز کی رہائی کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں، پریس کانفرنس

جمعرات 10 ستمبر 2026 21:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 ستمبر2026ء) صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے ان کے اہلخانہ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی دے دی۔ کراچی پریس کلب میں مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ اور وکلا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کو اغوا ہوئے 140 دن سے زائد گزر چکے ہیں، لیکن ان کے پیاروں کی واپسی کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ایک مغوی کے بیٹے نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ سے والد کی آواز تک نہیں سنی، گھر کا ہر فرد انہیں دیکھنے کے لیے ترس گیا ہے۔مغوی انجینئر کے بھانجے سید طالب عباس نے کہا کہ کسی خاندان کو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر آنے کا شوق نہیں، انہیں حالات نے احتجاج پر مجبور کیا ہے۔

(جاری ہے)

وزارت خارجہ کو چار ماہ قبل درخواست دی گئی، فالو اپ لیٹر بھی لکھا گیا، لیکن بروقت کوئی جواب نہیں ملا، جس کے باعث متاثرہ خاندان احتجاج پر مجبور ہوئیتھے۔

مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ نے کہا کہ فارن آفس کے باہر احتجاج کے دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم اپنے پیاروں کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔متاثرہ اہلخانہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا کہ صومالیہ میں قزاقوں کے ساتھ سفارتی مذاکرات تیز کیے جائیں اور مغوی پاکستانیوں کی فوری اور بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے ہمیں واضح یقین دہانی کرائی جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کیا جائے گا۔

متاثرہ خاندانوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بھی اپیل کی کہ وہ معاملے میں ذاتی دلچسپی لیں اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مغوی پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔ اہلخانہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ اقوام متحدہ، عالمی بحری تنظیم اور دیگر ممالک صومالیہ میں قید سی فیرز کی رہائی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں کیوں کہ یہ معاملہ کچھ ہزار ڈالرز میں حل کیا جاسکتا ہے متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور عالمی برادری سے دوٹوک مطالبہ کیا کہ آنر 25 کے 10 پاکستانیوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جائے اور صومالیہ میں قید تمام سی فیرز کی رہائی کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں۔

متاثرہ خاندانوں نے خبردار کیا کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، سپریم کورٹ کے باہر بھی بھوک ہڑتال کی جائے گی۔