Live Updates

لانگ مارچ سے پہلے معاملات طے ہوسکتے ہیں اگر حکومت سپریم کورٹ کے آرڈر پر ہی عمل کر دے

اس وقت پٹرول کی قیمتیں 109 ڈالر پر پہنچ گئی ہیں، اب صرف پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی اور کسان اتحاد بھی مارچ کرنا چاہتے ہیں، مصطفیٰ نواز کھوکھر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 14 ستمبر 2026 23:19

لانگ مارچ سے پہلے معاملات طے ہوسکتے ہیں اگر حکومت سپریم کورٹ کے آرڈر ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 14 ستمبر 2026ء ) سیاسی رہنماء مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ سے پہلے معاملات طے ہوسکتے ہیں اگر حکومت سپریم کورٹ کے آرڈر پر ہی عمل کر دے ۔ مصطفی نواز کھوکھر نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ سے پہلے بات چیت ہو سکتی ہے اور معاملات طے ہو سکتے ہیں۔

ہم نے محمود خان اچکزئی کی جانب سے وزیراعظم کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی تجویز دے دی ہے۔ مطالبات چھوڑیں حکومت سپریم کورٹ کے آرڈر پر ہی عمل کر دے۔ سیاست دان بیٹھ جائیں گے تو معاملات حل ہو سکتے ہیں۔ صرف تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کر رہی، 20 تاریخ کو جماعت اسلامی، 25 ستمبر کو کسان اتحاد اور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہے۔

(جاری ہے)

اس وقت پٹرول کی قیمتیں 109 ڈالر پر پہنچ گئی ہیں، ملک کے اندرونی مسائل کا تقاضا ہے کہ اندرونی سیاسی معاملات کو درست کر لیں۔۔ ہم چاہتے ہیں 27 ستمبر سے پہلے پہلے بات چیت ہو جائے۔ پروگرام میں عاصمہ شیرازی نے سوال کیا کہ 27 ستمبر ابھی دور ہے مگر ابھی سے اسلام آباد کے انٹری پوائنٹس پر کنٹینرز لگنا شروع ہو چکے ہیں، کیوں؟ جس پر خرم دستگیر خان نے کہا کہ ابھی تیرہ دن باقی ہیں، ہم کہتے ہیں سنگجانی تک آئیں وہ کہتے ہیں نہیں ہم تو اسلام آباد کے اندر آئیں گے۔

اگر جمہوریت اور سیاست کو ساتھ ساتھ چلنا ہے تو ہمیں پرامن احتجاج کا راستہ ڈھونڈنا ہو گا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں بلاول بھٹو لانگ مارچ لائے تھے ڈی چوک پر۔۔۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز مہنگائی مارچ لائے اسلام آباد کے اندر۔۔۔ تو سیاست کو اتنا کشادہ دل ہونا چاہیے۔ حکومت آنے کی اجازت دے، پی ٹی آئی والے سنجیدہ لوگ ہیں، پرامن احتجاج کریں گے۔

پروگرام میں راہنما پی ایم ایل این خرم دستگیر خان نے کہا کہ اس وقت گفتگو اور مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہو چکی ہے۔۔ مذاکرات اب ہو جانے چاہئیں۔ ملک دہشت گردی کا شکار ہے،، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران دہشت گرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی انتظامیہ کے تعاون کے ساتھ پرامن لانگ مارچ کرے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ آج ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو سڑکیں بند کرنے کا حق نہیں۔

مگر جو احتجاج نہیں کر رہے انہیں بھی جینے کا حق ہے۔ راہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو طعنے بازی نا کرے۔۔ یہ بہترین موقع ہے، عمران خان سے مذاکرات کروائیں، عمران خان اپنی پارٹی کو بتائیں کہ احتجاج ملتوی کریں تب لانگ مارچ ملتوی ہو سکتا ہے۔ اب تک جتنے بھی احتجاج کیے گئے ہماری طرف سے گولیاں نہیں چلیں، ہمارا راستہ روکا گیا، ہم پر شیلنگ کی گئی، پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے جس سے متعلق غلط بیانی کی جا رہی ہے۔ اپنی مرضی کے فیصلوں کے لیے یہ عدالت جاتے ہیں، فیصلہ آتا ہے تو عمل نہیں کرتے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات