پی ٹی آئی گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے تمام مواد پورا کرتی دکھائی دے رہی ہے، اختیارولی خان

لیکن یاد رکھو! ہم جمہوری لوگ ہیں، ایمرجنسی لگانے کیلئے آخری حد تک صبر کریں گے، جب تک صوبے کی عوام اور سیاسی جماعتیں نہیں بولیں گی ہم گورنرراج نہیں لگائیں گے، رہنماء ن لیگ کی گفتگو

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 24 ستمبر 2026 19:39

پی ٹی آئی گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے تمام مواد پورا کرتی ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 24 ستمبر 2026ء ) مرکزی رہنماء ن لیگ اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے تمام مواد پورا کرتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن یاد رکھو! ہم جمہوری لوگ ہیں، ایمرجنسی لگانے کیلئے آخری حد تک صبر کریں گے۔ انہوں نے وفاقی وزیر بیرسٹرعقیل ملک کے ہمراہ نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آپ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے تمام مواد پورے کرتے دکھائی دیتے ہو۔

لیکن یاد رکھو ہم جمہوری لوگ ہیں، اگرچہ گورنر راج اور ایمرجنسی لگانا قانون میں ہے لیکن ہم آخری حد تک صبر کریں گے۔ جب تک صوبے کے لوگ نہیں بولیں گے کہ ہٹاؤ انکو بھگاؤ ۔ہم گورنر راج نہیں لگائیں گے۔ اختیار ولی نے کہا کہ جب تک تمام سیاسی جماعتیں نہیں بولیں گی کہ یہ لوگ اب آپے سے باہر ہوچکے ہیں یہ پاکستان کے وجود اور نظریاتی اساس پر حملہ آور ہورہے ہیں، جب ساری سیاسی جماعتیں ایمرجنسی کا مطالبہ کریں گی تب ایمرجنسی لگانے کا دیکھیں گے۔

(جاری ہے)

مزید برآں سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے وی لاگ میں انہوں نے بتایا کہ شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے آرٹیکل232 کی تیاری کی گئی ہے، آرٹیکل 232 ایمرجنسی سے متعلق ہے، ایمرجنسی کے دو پہلو ہیں، اگر کوئی بیرونی جارحیت ہوتی ہے یا اندرونی خلفشار ہوتا ہے، تو صوبے کے اندر ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، جس کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ایسا نہیں ہوتا تو صدر مملکت کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرسکتے ہیں،18ویں ترمیم کے بعد یہ آرٹیکل 232 کہتا ہے ۔
ایمرجنسی لگانے کیلئے دو شرائط ہیں، ایک بیرونی جارحیت اور دوسری اندرونی خلفشار، بیرونی جارحیت والی شرط خیبرپختونخواہ میں پوری ہوچکی ہے۔ دوسری شرط اندرونی خلفشار کی ہے وہ ابھی لانگ مارچ، دہشتگرد تنظیموں اور امن وامان کی صورت میں موجود ہے۔

یہ میں آپ کو خبر بتا رہی ہوں، یہ میری کوئی خواہش نہیں ہے، آئین کے اندر یہ ایک سب سے ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔ کہ کن کن صورتوں میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگ سکتا ہے۔ اگر صوبائی اسمبلی ایمرجنسی کی قرارداد منظور نہیں کرتی تو صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی نفاذ کے بعد دس دن کے اندر مجلس شوریٰ الگ الگ ایوانوں سے قرارداد منظور کرسکتی ہے۔ اس بار ڈرایا ، دھمکایا نہیں جائے گا، اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رکتا تو حکومت پاکستان فوری ایمرجنسی کا نفاذ کرسکتی ہے۔