عمران خان کو رہائی کا پروانہ اسلام آباد پر چڑھائی یا حملہ کرنے سے نہیں بلکہ عدالتوں سے ملنا ہے، سینیٹررانا ثناءاللہ

گزشتہ دو اڑھائی سال میں خیبرپختونخوا میں کوئی کام نہیں ہوا، اگر ایک صوبہ حکومتی طاقت پر پرتشدد کارروائیاں کرے تو پھر آئین وفاق کو ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن دیتا ہے۔ وزیراعظم کے مشیرسیاسی امور کی گفتگو

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 30 ستمبر 2026 21:44

عمران خان کو رہائی کا پروانہ اسلام آباد پر چڑھائی یا حملہ کرنے سے نہیں ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 30 ستمبر 2026ء ) وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو رہائی کا پروانہ اسلام آباد پر چڑھائی یا حملہ کرنے سے نہیں بلکہ عدالتوں سے ملنا ہے، گزشتہ دو اڑھائی سال میں خیبرپختونخوا میں کوئی کام نہیں ہوا۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے، لیکن جب ایک صوبے کی حکومت اس بات پر تل جائے کہ وہ اپنی حکومتی طاقت سے ملک اور صوبے میں پرتشدد کاروائیاں کرے گی۔

اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گی، بلکہ صوبائی حکومت اپنی ہی وفاقی حکومت پر چڑھ دوڑے گی، تو ایسی صورت میں پھر آئین وفاقی حکومت کو گورنر راج یا ایمرجنسی کا راستہ دیتا ہے تاکہ ملک کوپرتشدد صورتحال سے بچایا جاسکے،اور ایسی صوبائی حکومت جو پرتشدد کاروائیوں میں ملوث ہو، اس کے اختیارات کو واپس لے لے ۔

(جاری ہے)

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پچھلے دواڑھائی سال بلکہ پچھلے ایک سال جب سے سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں، انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، انہوں نے نہ صوبے میں عوامی فلاح وبہبود، تعمیروترقی کا کوئی کام نہیں کیا۔

بلکہ وہ خود کہتے ہیں کہ عوامی فلاح وبہبود، تعمیروترقی کے کام کرنا میرا مینڈیٹ نہیں ہے، میرا مینڈیٹ صرف عمران خان کو رہا کروانا ہے۔پھر ان کو عدالتوں میں جانا چاہیئے، عمران خان کو رہائی کا پروانہ عدالتوں سے ملنا ہے، اسلام آباد پر چڑھائی یا حملہ کرنے سے عمران خان رہا نہیں ہوں گے، کے پی حکومت کا یہ عمل آئین قانون کے مطابق نہیں ہے۔اگر وہ اس پر بضد ہیں اور اس عمل کو جاری رکھتے ہیں تو پھر آئین جو وفاقی حکومت کو ذمہ داری دیتا ہے، پھر اس عمل کو کرنا ناگزیر صورتحال ہوگی، وزیراعظم کی اب بھی پہلی ترجیح یہی ہے کہ کے پی حکومت خود آئین قانون کے دائرے میں لے کر آئے، خلاف قانون اقدامات سے خود کو باز رکھے۔