لکی مروت میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا دن، عوام کی محدود شرکت، روزگار اور بنیادی مسائل کو ترجیح

پیر 5 اکتوبر 2026 00:43

لکی مروت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 اکتوبر2026ء) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لکی مروت کے گنڈی چوک سے اتوار کو شروع ہونے والے پہلے روز کے لانگ مارچ میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی، نسبتاً کم تعداد میں لوگوں کی شرکت نے جنوبی اضلاع خیبر پختونخوا میں عوامی حمایت متحرک کرنے کی پارٹی کی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شدید سوشل میڈیا مہم اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی کے باوجود لکی مروت کے گنڈی چوک پر اجتماع توقعات سے کہیں کم رہا۔ مقامی لوگوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو مسترد کرتے ہوئے روزگار اور اپنی معمول کی زرعی و کاروباری سرگرمیوں کو ترجیح دی۔سڑکوں کی ناکہ بندی کے باعث لکی مروت کے رہائشیوں اور ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بڑی تعداد میں شہری غیر ضروری سیاسی سرگرمی سے دور رہے اور روزگار، ملازمت، مویشیوں اور بنیادی شہری سہولیات جیسے مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔

(جاری ہے)

محدود شرکت اس لیے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے لانگ مارچ کو جنوبی اضلاع سے ایک بڑی سیاسی تحریک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عوامی ردعمل اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ محاذ آرائی کی سیاست اور غیر منطقی سڑکوں پر احتجاج کے بجائے روزمرہ کے معاشی مسائل کو زیادہ ترجیح دے رہا ہے۔

سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مبینہ طور پر سرکاری وسائل، بشمول وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر، کو پارٹی کی سیاسی سرگرمی میں شرکت کے لیے استعمال کیے جانے پر بھی تنقید کی۔پیپلز پارٹی کے ٹانک سے رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی نے دعویٰ کیا کہ جنوبی اضلاع کے عوام نے لانگ مارچ سے دور رہ کر پی ٹی آئی کی کال مسترد کر دی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر سیاسی سرگرمی کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر حکومتی وسائل استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عوامی وسائل کو صوبے کے عوام کو درپیش سنگین مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے عوام بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور محدود معاشی مواقع کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ شہریوں کو غیر ضروری سیاسی مارچوں کے لیے متحرک کرنے کے بجائے ان مسائل پر توجہ مرکوز کرے۔احمد کنڈی نے سوال اٹھایا کہ ایسے وقت میں جب صوبہ مالی مشکلات، خراب ہوتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بڑے ترقیاتی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، سیاسی سرگرمیوں کے لیے عوامی وسائل کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ بھی 2014 کے ناکام لانگ مارچ جیسا انجام دیکھے گا۔لکی مروت کے رہائشی اور سماجی کارکن سلیم خان نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو بار بار اور بے مقصد لانگ مارچوں کے بجائے روزگار، امن، اسکول، اسپتال اور معاشی مواقع کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ناخواندگی، غربت اور صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی لکی مروت کے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سیاسی طور پر باشعور ہو چکے ہیں اور کھوکھلے احتجاجی نعروں سے مزید گمراہ نہیں کیے جا سکتے۔ وہ اپنے مسائل کا عملی حل چاہتے ہیں۔تاجازئی کے ایک اور رہائشی عبدالرحمٰن نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو صاف پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے شہریوں اور بچوں کے لیے لانگ مارچوں کے بجائے فلٹریشن پلانٹس کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کے بہت سے سرکاری اسکولوں میں کلاس رومز اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی ہے، جن پر صوبائی حکومت کی فوری توجہ درکار ہے۔سیاسی مبصرین نے کہا کہ گنڈی چوک پر نسبتاً کم شرکت پی ٹی آئی قیادت کے لیے خصوصاً جنوبی اضلاع کے عوام کی ترجیحات کے حوالے سےایک سیاسی اشارہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوامی حمایت کو اس وقت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جب شہری بے روزگاری، مہنگائی، عدم تحفظ، صحت و تعلیم کی ناکافی سہولیات اور بنیادی ضروریات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہوں۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور جمہوری روابط کو فروغ دیں، کیونکہ خیبر پختونخوا کو فوری طور پر امن، استحکام، سرمایہ کاری اور روزگار پیدا کرنے والے اقدامات کی ضرورت ہے۔ایم پی اے ملک طارق اعوان نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ایک کنٹینر پر کھڑے ہو کر ریاستی اداروں پر سیاسی دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ اپنی جماعت کے سزا یافتہ رہنما کے لیے ریلیف حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق صوبائی حکومت کا مؤقف عوام اور صوبے کے مفادات کے خلاف تھا۔طارق اعوان نے کہا کہ سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر مبینہ اتفاق رائے کے باوجود صوبائی حکومت نے سخت رویہ اختیار کیا اور بار بار اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتی رہی۔

طارق اعوان نے مزید الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے وزیراعلیٰ کے سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر حکومتی وسائل کا استعمال اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے ایک فیصلے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے اور وزیراعلیٰ کو وضاحت کے لیے طلب کیا جائے۔

دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق متعدد شرکاء وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آمد سے قبل ہی اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ مقامی ذرائع نے شرکاء کے جلد منتشر ہونے کی وجہ ناقص انتظامات اور محدود شرکت کو قرار دیا۔ان واقعات کے بعد جنوبی اضلاع میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آیا سیاسی محاذ آرائی اور لانگ مارچ ان شہریوں کے روزمرہ مسائل حل کر سکتے ہیں جو روزگار، صاف پینے کے پانی، بہتر اسکولوں، بہتر سیکیورٹی اور پائیدار معاشی مواقع کے خواہاں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لکی مروت میں عوام کی کم شرکت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے ایک “آنکھیں کھول دینے والا” لمحہ ہونی چاہیے، اور امید ظاہر کی کہ وہ جلد اپنے لانگ مارچ کی کال واپس لینے کا اعلان کریں گے۔