Live Updates

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف مسلح کارروائیاں تیز، ایرن جنگ میں تہران کا مذاکرات پر زور

DW ڈی ڈبلیو پیر 5 اکتوبر 2026 12:40

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف مسلح کارروائیاں تیز، ایرن جنگ میں تہران ..
  • یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف مسلح کارروائیاں تیز، ایرن جنگ میں تہران کا مذاکرات پر زور

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف مسلح کارروائیاں تیز، ایرن جنگ میں تہران کا مذاکرات پر زور

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا کہ حکومتی مسلح افواج اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی، جب تک ملک کو ’’دہشت گرد ملیشیا کے قبضے سے آزاد‘‘ نہیں کرا لیا جاتا۔

بعد ازاں ایک فوجی ترجمان نے حوثیوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا۔

حوثی باغی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعاء اور ملک کے وسیع تر شمال مغربی علاقوں پر قابض ہیں، جہاں ملک کی زیادہ تر آبادی رہتی ہے۔

(جاری ہے)

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے گزشتہ برسوں کے دوران کیے گئے لاتعداد حملوں کے باوجود حوثی باغیوں نے اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے اور ایران کی مدد سے اپنے ہتھیاروں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

علیمی نے کہا کہ جوابی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ تنازعے میں کشیدگی کم کرنے کے تمام امکانات ختم ہونے کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی حمایت پر ریاض حکومت کا شکریہ ادا کیا اور یمن کے علاقائی اتحادیوں اور بین الاقوامی شراکت داروں سے صدارتی قیادت کونسل کی فورسز اور اداروں کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔

یمنی حکومت کی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے بھی حوثیوں کو شکست دینے کے لیے عالمی برادری سے مزید مدد طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کا مستحکم ہونا ’’دنیا کے مفاد میں‘‘ ہے۔

انہوں نے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا، ’’ہم اپنے بھائیوں، دوستوں اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یمنی عوام، ریاست اور قومی اداروں کی اس دہشت گرد حوثی ملیشیا کے خلاف جدوجہد میں حمایت کریں، جو ہتھیاروں کے زور پر عوام کی خواہشات سلب کر رہی ہے اور ان کے بیٹوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے، جبکہ کشیدگی میں کمی اور امن کے تمام مواقع ختم ہو چکے ہیں۔

‘‘

ایک ہزار سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، یمنی حکومت

یمنی حکومت کی حامی فورسز کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے ٹھکانوں پر 1,122 حملے کیے گئے، جن میں توپ خانے کے مورچے، راکٹ لانچر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز شامل تھے۔

بریگیڈیئر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جنگی طیاروں، ڈرونز، میزائلوں، راکٹوں، توپ خانے اور اسنائپرز کے ذریعے یہ حملے صعدہ، الجوف، تعز اور ملک کے ساحلی علاقوں میں کیے گئے۔

ان کے دعوے کے مطابق ان کارروائیوں میں تقریباً 1,747 حوثی جنگجو مارے گئے۔

تاہم آزاد ذرائع سے اس عسکری دعوے کی فی ال‍حال تصدیق نہیں ہو سکی۔

حوثیوں کی پیش قدمی

حوثیوں نے گزشتہ ماہ اچانک کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران انہوں نے چند ہی ہفتوں میں بہت اہم آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر کے تقریباً 150 کلومیٹر طویل یمنی ساحلی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس پیش قدمی سے حوثیوں کو خطے میں بین الاقوامی بحری راستے پر مزید اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔

اس حالیہ پیش قدمی کے نتیجے میں اس سال فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی وسیع تر امریکی اسرائیلی جنگ میں ایک نیا محاذ بھی کھل گیا۔ تہران کے جوابی اقدامات میں جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل کو محدود کرنا بھی شامل تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مسلح تنازعے کے بارے میں کہا کہ ’’اس کا کوئی فوجی حل نہیں،‘‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی مسلح کارروائی کی صورت میں تہران اپنا بھرپور دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔

روئٹرز سے بات کرنے والے چھ افراد کے مطابق امریکہ پہلے ہی یمن میں ریاض حکومت کی کارروائیوں کے لیے انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی فوجی امداد دے رہے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات