برطانیہ ،جبری شادیاںِ، لڑکیوں کے جنسی اعضاء کاٹنے کی روک تھام کیلئے نیا قانون لانے کا فیصلہ

بدھ 23 جولائی 2014 06:52

لند ن (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔23جولائی۔2014ء)برطانیہ میں ایک نیا قانون لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے مطابق اْن والدین کو سزا ہو سکتی ہے جو اپنی بیٹیوں کے جنسی اعضا کے کاٹنے کو نہیں روکیں گے۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے جنسی اعضا کاٹنا، جبری شادی کو روکنا ضروری ہے، میڈیا رپورٹ کے مطابق لندن میں منگل کو شروع ہونے والے ’گرل سمٹ‘ میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس عمل کی روک تھام کے لیے 14 لاکھ پاوٴنڈ کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ایف جی ایم اور زبردستی کی شادی کو اسی نسل میں روکنا ضروری ہے۔برطانیہ میں مقیم ایک لاکھ 37 ہزار خواتین کے جنسی اعضا کو کاٹا جا چکا ہے۔برطانیہ میں ہونے والے ’گرل سمٹ‘ میں زبردستی کی شادیاں ختم کرنے پر بھی بات ہو گی۔

(جاری ہے)

اس اجلاس کا انعقاد برطانوی حکومت اور یونیسیف کے تعاون سے کیا گیا ہے اور اس میں بین الاقوامی سیاست دان اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم شخصیات شرکت کر رہی ہیں جن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں وہ خواتین بھی شرکت کریں گی جن کے جنسی اعضا کو کاٹا گیا ہے۔کانفرنس سے قبل بات کرتے ہوئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ’خواتین کا حق ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کی شادی نہ کی جائے اور ان کی ایف جی ایم کر کے انھیں زندگی بھر کے لیے نفسیاتی اور جسمانی طور پر معذور نہ کیا جائے۔ اس طرح کی روایات چاہے کسی معاشرے میں کتنی ہی قدیم کیوں نہ ہوں، وہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں خواتیں کے حقوق کی پامالی کرتی ہیں۔‘

متعلقہ عنوان :