چیف جسٹس کے روبرو خواتین نے مختلف محکموں اور دیگر سے متعلق شکایات کے انبار لگادئیے، متعلقہ حکام سے وضاحت طلب

جمعہ مئی 23:52

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار پر مشتمل سنگل بینچ کے روبرو خواتین نے مختلف محکموں اور دیگر سے متعلق شکایات کے انبار لگادئیے جس پر چیف جسٹس نے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرلی ۔گزشتہ روز سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں کیسز کی سماعت کے دوران خواتین نے کھڑے ہوکر چیف جسٹس کو مختلف مسائل سے متعلق درخواستیں دینا چاہیں تو چیف جسٹس نے پہلے پہل ریمارکس دئیے کہ وہ انفرادی نوعیت کے کسی بھی درخواست کو نہیں لیںگے تاہم بعدا زاں انہوں نے خواتین کو چیمبر بلا یا اورکہاکہ وہ وہاں آکر انہیں درخواست دیں بعدازاں انہوں نے خواتین کی جانب سے دی جانے والی درخواست کی سماعت کی ۔

گزشتہ روز تاج بی بی نامی خاتون پیش ہوئے اور موقف اختیار کیاکہ ان کی بیٹی کے قاتل انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں بلکہ ان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جاسکی ہے جس پر چیف جسٹس نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ سے استفسار کیاکہ تو انہوں نے بتایاکہ مذکورہ خاتون کی بیٹی کو لیویز تھانہ ولی خان کی حدود میں قتل کیا گیا تھا جس پر خاتون کی مدعیت میں ملزمان رب نواز اورمحمدعلی کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا بلکہ ہائی کورٹ نے مقدمہ کو کرائمز برانچ منتقلی کے بھی احکامات دئیے اس دوران ایک اور ملزم بشیر کو گرفتار کیا گیا جس نے دوران تفتیش انکشاف کیاکہ وہ بچی کو ملزمان کے پاس لے کر گئے تھے بلکہ 5مزید افراد بھی اس جرم میں ملوث ہے تاہم جب بھی چھاپہ مار ٹیم موبائل لوکیٹر کے ذریعے ملزمان کے خلاف کارروائی کیلئے پہنچتی ہے تو وہ اس سے پہلے ہی فرار ہوجاتے ہیں اس پر چیف جسٹس نے تفتیشی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی کہ 15دن کے اندر ملزمان کی گرفتاری کو عمل میں لائیں اس سلسلے میں اگر انہیں ایف آئی اے کی مدد درکار ہے تو وہ انہیں بھی احکامات جاری کردیںگے عدالت نے تاج بی بی اور اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھی احکامات دئیے ۔

(جاری ہے)

شکوری بیگم نامی خاتون نے پیش ہوکر عدالت کوبتایاکہ ان کے پلاٹ کا مسئلہ ہے ان کے شوہر اور بچے فوت ہوچکے ہیں تاہم اسے پلاٹ نہیں ملا جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اس سلسلے میں ہم کیا کرسکتے ہیں آپ کا پلاٹ کہاں گیا تو خاتون نے کہاکہ اسے نہیں پتہ جس پر چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو معاملہ بھیجنے کی ہدایت کی اور کہاکہ وہ اس سلسلے میں پتہ لگائیںگے ۔

گلشن بی بی نامی خاتون نے سنگل بینچ کے سامنے پیش ہوکر بتایاکہ ان کے بیٹے کو کوئٹہ جبکہ دو بھتیجوں کو اسلام آباد سے اٹھایاگیاہے ان کی بازیابی کیلئے عدالت عظمی احکامات دیں تو چیف جسٹس نے آئی جی پولیس بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائیں اور لاپتہ افراد کی ریکوری سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ اور ہیومین رائٹس سیل میں پیش کرے ۔

ایک اور خاتون نے پیش ہوکر بتایاکہ ان کے بیٹے مچھ جیل میں قید ہیں وہ گزشتہ 7سال سے دیت کی رقم کی عدم ادائیگی کے باعث پابند سلاسل ہے ان کے بیٹے نے ڈیرہ مراد جمالی میں جھگڑے کے دوران قتل کیا تھا جس پر چیف جسٹس نے معاملہ چیف سیکرٹری بلوچستان کو بھجوانے کی ہدایت کی کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ رقم دے سکتا تھا تو اسے کہاجائے گا۔معظمہ علی نامی خاتون نے پیش ہوکر موقف اختیارکیاکہ این ٹی ایس ٹیسٹ میں وہ پاس ہوئی لیکن اسے محکمہ تعلیم میں تعیناتی کے آرڈرز نہیں دئیے گئے بلکہ ان کانام اب غائب کردیاگیاہے جس پر چیف جسٹس نے این ٹی ایس حکام سے رپورٹ طلب کرلی اور کہاکہ وہ اس سلسلے میں این ٹی ایس حکام سے معلومات لیںگے ۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز فرزانہ نے پیش ہوکر بتایاکہ انہیں گزشتہ 16سال سے پروموشن نہیں دی جارہی جس پر عدالت نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرلی اورکہاکہ اس سلسلے میں سیکرٹری صحت کو احکامات دئیے جائیںگے جبکہ ذکیہ بی بی نامی خاتون کے کیس کو جسٹس آصف کھوسہ بینچ اسلام آباد کے روبرو لگانے کا حکم دیا۔عدالت نے الیاس اور اس کی اہلیہ کی جانب سے پیش کی گئی درخواست پرکہاکہ انہوں نے ان کے مسئلے پر آئی جی بلوچستان سے بات کی ہے جنہوں نے اسے بتایاہے کہ ایف آئی آر میں نامزد بعض ملزمان نے ضمانت کروالی ہے جبکہ فرانزک رپورٹ ابھی تک انہیں موصول نہیں ہوئی ۔

آئی جی پولیس نے انہیں ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کیلئے کہاہے کہ آپ بھی ایک درخواست اس سلسلے میں دائر کریں آپ کے ساتھ انصاف ضرور ہوگا۔ راحیلہ بی بی نامی خاتون نے پیش ہوکر بتایاکہ ان کے شوہرکاانتقال ہوچکاہے لیکن ان کے سسر نے اسے بچے لے لئے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے ٹرائل کورٹ میں کیس دائرکررکھاہے جو کراچی میں ہے وہ کراچی کے ٹرائل کورٹ میں پیشی کیلئے جاتی ہے تاہم سسر مقدمے کی پیروی نہیں کرتا جس پر عدالت نے مقدمے کو فیملی کورٹ کوئٹہ ٹرانسفر کرنے کے احکامات دے دئیے ۔

خاتون نسیمہ عثمان نے بتایاکہ ان کے شوہر26جون 2014ء کو دوران سروس انتقال کرگئے ہیں لیکن ان کے 21لاکھ 74ہزار روپے میں سے اسے اب تک صرف انہیں پینشن اوردیگر کی رقم نہیں دی جارہی اس سلسلے میں انہوں نے صوبائی محتسب کو اپیل دائرکررکھی ہے جس پرعدالت نے صوبائی محتسب کو ایک ماہ کے دوران مذکورہ درخواست پر فیصلہ اور عدالت عظمیٰ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔

نسیمہ نور نامی خاتون نے پیش ہوکرشکایت کی کہ وہ لیڈی ہیلتھ ورکرایس اینڈجی اے ڈی اوردیگر میں ملازمت کیلئے درخواستیں جمع کرتی رہی ہیں لیکن وہاں انہیں قابلیت کے باوجود ملازمت نہیں دی جاتی اس لئے عدالت اس سلسلے میں احکامات دیں ۔عارفہ شاہ نامی خاتون نے کہاکہ وہ این سی ایچ ڈی میں فرائض انجام دے رہی تھی تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے ان کی ملازمت کے حوالے سے احکامات جاری کئے تاہم اس پرعملدرآمد نہیں ہورہا یہ ان سمیت تین ہزار افراد کے روزگار کامسئلہ ہے ہماری فائل سیکرٹری خزانہ کے پاس موجود ہیں لیکن وہ اس پر کسی قسم کے احکامات نہیں دے رہے جس پر عدالت نے 2ہفتے کے دوان سیکرٹری خزانہ سے وضاحت طلب کرلی ۔

بعض خواتین نے شکایت کی کہ وہ این ٹی ایس 2015ء کے میرٹ لسٹ میں شامل تھیں اس سلسلے میں عدالت نے احکامات بھی دئیے تھے لیکن ابھی تک ان احکامات پرعملدرآمد نہیں جس پر عدالت نے معاملے پر چیف سیکرٹری سے وضاحت طلب کرلی ۔

Your Thoughts and Comments