دکھی انسانیت کی خدمت میرے لہو میں رچی بسی ہوئی ہے ، صحت کی سہولتوں کوعالمی معیار تک لیجانامشن ہے،باقی صوبوںکو بھی دعوت دیتا ہوں کہ یہاں آئیں اورہماری ٹیم سے سیکھیں کہ سٹیٹ آف دی آرٹ صحت کے ادارے کیسے بنائے جاتے ہیں ‘ 100دن کی باتیں کرنے والے عوام کو سبز باغ دکھا رہے ہیں، ہم نے تعلیم،صحت ،امن و امان ،زراعت ،انفراسٹرکچر ،تعلیمی وظائف ،بلاسود قرضے اوردیگر فلاحی پروگراموںیہ سب کچھ کر کے دکھایا ہے ،100دن کی بات کرنے والوں نے 5سالوں میں کے پی کے کا بیڑہ غرق کردیا،کے پی کے اورپاکستان کیلئے بجلی پیدا کرنے کے دعویداروں نے گزشتہ پانچ سالوںمیں منفی چھ میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی میڈیا سے گفتگو

پیر مئی 23:26

لاہور۔21 مئی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے جنرل ہسپتال میں سٹیٹ آف دی آرٹ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کا افتتاح کیا۔ شہبازشریف نے انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کے مختلف وارڈز اور شعبوں کا دورہ کیااور زیرعلاج مریضوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔وزیراعلیٰ نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے انسٹی ٹیوٹ میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا۔

مریضوں نے انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں فراہم کی جانے والی سہولتوں پر اطمینان کا اظہارکیااور بہترین علاج معالجے کی سہولتوں پرشہبازشریف کا شکریہ ادا کیا۔مریضوںنے وزیراعلیٰ سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کے مسائل آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔

(جاری ہے)

آپ دن رات صحت کی سہولتوں کی بہتری کیلئے کام کرتے نظرآرہے ہیں ۔ہم آپ کی صحت اوردرازی عمر کیلئے دعا گو ہیں۔

مریضوں اوران کے عزیز و اقارب نے شہبازشریف کیلئے ڈھیروں دعائیں دیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت میرے لہو میں رچی بسی ہوئی ہے۔ ہسپتالوں کی بہتری کیلئے ہرطرح کے وسائل دیکر آ پ کو آپ کا حق دیا ہے۔ صحت کی سہولتوں کوعالمی معیار تک لے جانا میرامشن ہے ۔انہوںنے کہا کہ آج پنجاب کے ہسپتالوںکو عالمی معیار کے مطابق بنانے کا سفر سے تیزی سے جاری ہے۔

دکھی انسانیت کی دعائیں میرا خون اورحوصلہ بڑھا دیتی ہیں ۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسزکی 10 منزلہ عمارت کی تعمیر پر 3 ارب روپے لاگت آئی ہے۔دور جدید کے طبی تقاضوں سے ہم آہنگ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز 500 بیڈز پر مشتمل ہے۔100 بیڈز پر مشتمل ایمرجنسی اور حادثات میں زخمیوں کیلئے 2 نیورو تھیٹرز 24 گھنٹے کام کریں گے۔ انسٹی ٹیوٹ میں8آپریشن تھیٹرز بنائے گئے ہیں۔

آپریشن تھیٹر، طبی و تشخیصی سہولیات اور دماغی امراض سے متعلق دیگر شعبے ایک ہی چھت تلے قائم کئے گئے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں جدید ترین تھری ٹیسلاایم آر آئی مشین، 128 سلائس سی ٹی سکین مشینیں نصب کی گئی ہیں۔انسٹی ٹیوٹ میں سٹاف کی حاضری کیلئے بائیومیٹرک نظام، انفیکشن کنٹرول سسٹم، تھیٹر آٹومیشن سسٹم اور فارمیسی مینجمنٹ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں۔

صفائی کے انتظامات کی نگرانی اور سکیورٹی کیلئے 24 گھنٹے سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کا نظام اپنایا گیا ہے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے جنرل ہسپتال میں سٹیٹ آف دی آرٹ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسزکا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کے کچھ شعبے کچھ ماہ پہلے سے کام کررہے تھے تاہم آج یہ ادارہ پوری آب و تاب کے ساتھ آپریشنل ہوچکا ہے۔

اس ادارے کے تمام شعبے سٹیٹ آف دی آرٹ ہیں۔یہاں 8آپریشن تھیٹر ز بنائے گئے ہیں،جن کا موازنہ صفائی ،ٹیکنالوجی اورمینٹیننس کے لحاظ سے دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے ہسپتال کے آپریشن تھیٹرسے کیا جاسکتا ہے ۔یہاں بہترین ڈاکٹرز،فزیشنز،سرجنز، نرسیں اورپیرمیڈیکل سٹاف بہترین خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔سٹیٹ آف دی آرٹ پتھالوجی لیب بھی بنائی گئی ہے ۔

پنجاب حکومت نے ضلعی ہسپتالوں میں جو پتھا لوجی لیب بنائی ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے عالمی معیار سے کم نہیں ،تاہم اس ادارے میں سٹیٹ آف دی آرٹ پتھالوجی لیب دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے ۔یہاں جدید ترین ایم آئی آر مشین اورسی ٹی سکین مشینیںہیں ۔ادارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے مربوط ،منظم اوربہترین نظام بنایا گیاہے۔ادارے میں دماغی امراض میں مبتلا مریضوں کے آپریشن ہورہے ہیں اوریہاں علاج معالجے کی بہترین سہولتیں موجود ہیں۔

تین ارب روپے سے زائد کی لاگت سے یہ شاندار ادارہ قائم کیاگیا ہے جو طب کے میدان میں ایک بڑا اقدام ہے اوراس کا کریڈٹ پنجاب حکومت کو جاتا ہے ۔میں صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق،سیکرٹری صحت نجم سعید،پی جی ایم آئی کے پرنسپل پروفیسرغیاث النبی،پراجیکٹ ڈائریکٹرپروفیسر آف نیورسرجری ڈاکٹرخالد محمود،ہسپتال کے ایم ایس اورپوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں ۔

ادارے سے شفاء یاب ہونیوالے مریض اوران کے لواحقین بھی یہ شاندار ادارہ قائم کرنے پر جھولیاں اٹھا کر دعائیں دے رہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ میں باقی صوبوںکو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ یہاں آئیں اورہماری ٹیم سے سیکھیں کے سٹیٹ آف دی آرٹ صحت کے ادارے کیسے بنائے جاتے ہیں۔ان لوگوں نے اپنے صوبوں میں صحت کے حوالے سے وعدے تو بہت کیے لیکن عمل کے لحاظ سے ان کا دامن خالی ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان ہم سب کا سانجھا ہے ،پنجاب ،سندھ،کے پی کے ،بلوچستان اورگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے ملکر پاکستان بنتا ہے اوراسے ہم نے ملکر سنوارنا ہے۔دیگر صوبوں کو صحت کے میدان میں ہم سے جو خدمات درکار ہیں اس کیلئے ہم حاضر ہیں۔وزیراعلیٰ نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ سامنے آئی ہے اس سے نتائج خو داخذ کریں۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب ترقی کے لحاظ سے باقی صوبوں سے آگے ہے تاہم منزل لمبی ہے اورہمیں دن رات محنت کر کے منزل حاصل کرنا ہے ۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ 100دن کی باتیں کرنے والے عوام کو سبز باغ دکھا رہے ہیں وہ تو تب کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ انہیں موقع دے گا تاہم ہم نے تعلیم،صحت ،امن و امان ،زراعت ،انفراسٹرکچر ،تعلیمی وظائف ،بلاسود قرضے اوردیگر فلاحی پروگراموںیہ سب کچھ کر کے دکھایا ہے ۔

100دن کی بات کرنے والوں نے 5سالوں میں کے پی کے کا بیڑہ غرق کردیا،کے پی کے اورپاکستان کے لئے بجلی پیدا کرنے کے دعویداروں نے گزشتہ پانچ سالوںمیں منفی چھ میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے ۔عوام سبز باغ دکھانے والوں کا خود فیصلہ کریںگے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دماغ کا علاج تو میںنہیں کرسکتا لیکن ہم آپ کو یہ ضرور سکھا سکتے ہیں کہ ہسپتال ،تعلیمی ادارے کس طرح بنتے ہیں ،وسائل کا صحیح استعمال کس طرح ہوتا ہے اورکس طرح محنت کی جاتی ہے ۔

لوڈ شیڈنگ اورتوانائی منصوبوں کے بارے میں سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ 2013ء میں 20،20گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اورانہی ایام میں ماہ رمضان کے دوران سحری و افطاری اورتراویح کے دوران بھی بجلی غائب ہوتی تھی۔لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے آج اور2013ء کے مقابلے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی شب و روز کی محنت سے ملک میں چھائے اندھیرے چھٹ رہے ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے ایک اورسوال کے جواب میں کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ہسپتالوں کا جال بچھا دیا ہے ،صوبائی دارلحکومت میں گردے اورجگر کے امراض کا شاندار ہسپتال بنایا گیاہے جبکہ کاہنہ ،بیدیاں،رائے ونڈ،سبزازار اوردیگر علاقوں میں 100،100بستروں کے 6ہسپتال گزشتہ ڈیڑھ سال میں بنائے گئے ہیں ۔کسی کے کہنے پر سوال کرنے کی بجائے یہ حقائق سامنے رکھے جائیںاورعوام کوحقائق سے آگاکیا جائے۔

Your Thoughts and Comments