شریف فیملی نے کہا ہماری لندن میں کوئی جائیداد نہیں ، فواد چوہدری

دن کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا تو اکاوئنٹ میں تین سو ارب روپیہ اور اربوں کی پراپرٹی کہاں سی آگئی، خواجہ حارث کہتے ہیں کہ مقدمہ دبائو میں رہ کر نہیں لڑسکتا تو سرکاری وکیل کے ذریعے مقدمہ آگے بڑھایا جائے، ہمارا مطالبہ ہے کہ نہ تو ڈھیل دی جائے اور نہ ڈیل دی جائے، ترجمان تحریک انصاف

پیر جون 20:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء)پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف فیملی نے کہا ہے کہ ہماری لندن میںکوئی جائیداد نہیں ہے۔ 34دن کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا کہ 16اکاوئنٹ میں تین سو ارب روپیہ اور اربوں کی پراپرٹی کہاں سے آئی ۔ خواجہ حارث کہتے ہیں کہ مقدمہ دبائو میں رہ کر نہیں لڑسکتا تو سرکاری وکیل کے ذریعے مقدمہ آگے بڑھایا جائے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ نہ تو ڈھیل دی جائے اور نہ ڈیل دی جائے۔ تحریک انصاف پریس کلب کے سامنے لوڈ شیڈنگ کے خلاف منگل کو ملک گیر احتجاج کریگی ۔ وزیر اعظم جاتے جاتے من پسند لوگون کی تقرریاں کرگئے ۔ الیکشن کمیشن نوٹس لے۔ تفصیلات کے مطابق سوموار کے روز پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ 134دن کی سماعت کے بعد آیا۔

(جاری ہے)

جس میں 16اکائونٹ میں تین سو ارب سے زائد اور اربوں کی جائیداد ثابت ہوگئی جبکہ شریف فیملی کہتی رہی کہ ہماری لندن تو کیا پاکستان میںکوئی جائیداد نہیں۔ تو یہ پیسہ کہاں سے آیا ۔ آج خواجہ حارث کہتے ہیں وہ دبائو میں کام نہیں کرسکتے ۔ تو مقدمہ سرکاری وکیل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ خواجہ حارث کی دستبرداری مقدمہ لٹکانے کیلئے بہانے ہیں۔

پانامہ کیس میںکوئی پاکستانی میڈیا ملوث نہیں۔ شریف فیملی نے کہا کہ دبئی ملز فروخت کرکے پیسہ آیا۔ یہ جتنے ہاتھ پائوں ماریں گے انہیںاتنے پھنستے جائیں گے ۔ انہوںنے نے لوڈ شیڈنگ کے بارے میں کہا کہ عمران خان نے نگران وزیر اعظم ناصر الملک کو خط لکھ دیا ہے اور سب سے پہلے اس مسئلے پر عمران خان نے آواز اٹھائی ۔ لوڈ شیڈنگ کے خلاف کل منگل کو تین بجے ملک بھر میں پریس کلب کے سامنے تحریک انصاف احتجاج کریگی ۔

انہوںنے کہاکہ شاہد خاقان عباسی نے جاتے جاتے اپنے لوگوں کو نوازا اور بیورو کریسی میں بھرتیاں کی گئیں۔ جنوبی پنجاب اور سینٹرل میں بیورو کریسی میں بھرتیاں کی گئیں۔ فواد حسن فوادکے لوگ وفاقی بیورو کریسی میں لگائے گئے تھے۔ تو انتخابات شفاف کیسے ہوسکتے ہیں الیکشن کمیشن نوٹس لے۔

Your Thoughts and Comments