بند کریں
صحت صحت کی خبریںحکومت سیلاب سے عوام کے نقصانات کے ازالے کیلئے معاوضہ جات کا اعلان کرے ،ریلیف کی سرگرمیوں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/08/2013 - 22:39:02 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:27:50 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:16:34 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:15:04 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 14:11:36 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 22:50:40 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 22:47:09 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 22:30:45 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 21:30:48 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 21:23:02 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 14:03:08

حکومت سیلاب سے عوام کے نقصانات کے ازالے کیلئے معاوضہ جات کا اعلان کرے ،ریلیف کی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے،وزیراعظم کا قوم سے خطاب متوازن تھا، مسائل کی درست نشاندہی اور ان کے حل کے عزم کی تجدید کی گئی ، حکومتی ارکان کی تحسین ،وزیراعظم کا خطاب مایوس کن تھا، دہشت گردی، غربت، بیروزگاری اور لوڈشیڈنگ کے مارے عوام کو روشنی اور امید کی کوئی کرن نہیں دکھائی ،اپوزیشن ارکان کی وزیراعظم کے خطاب پر شدید تنقید ،صوبوں کے اختیارات سلب کئے جارہے ہیں، تعلیم اور صحت کی وزارتیں دوبارہ مرکز میں قائم کردی گئی ہیں،اپوزیشن کا الزام ، ریکوڈک میں سونے کے ذخائر پر صوبائی حکومت کا آئین کے مطابق 5 فیصد حصہ مقرر کیا جائے،بلوچستان سے ارکان کا مطالبہ ،قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کے دن ارکان اسمبلی کا نکتہ اعتراض پر خیالات کا اظہار

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔20اگست۔ 2013ء)قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی نے پنجاب اور دیگر صوبوں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو ملکی معیشت اور زراعت کیلئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عوام کے نقصانات کے ازالے کیلئے معاوضہ جات کا اعلان کرے اور ریلیف کی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے، حکومتی ارکان نے وزیراعظم کے قوم سے خطاب کو متوازن، مسائل کی درست نشاندہی اور ان کے حل کے عزم کی تجدید قرار دیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے شدید تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کے خطاب کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی، غربت، بیروزگاری اور لوڈشیڈنگ کے مارے عوام کو روشنی اور امید کی کوئی کرن نہیں دکھائی گئی، اپویشن نے یہ الزام بھی لگایا کہ اٹھارہویں ترمیم کو بے اثر بناکر صوبوں کے اختیارات سلب کئے جارہے ہیں، تعلیم اور صحت کی وزارتیں دوبارہ مرکز میں قائم کردی گئی ہیں، ریکوڈک میں سونے کے ذخائر پر صوبائی حکومت کا آئین کے مطابق 5 فیصد حصہ مقرر کیا جائے۔

منگل کو ایوان میں نجی کارروائی کے روز ارکان اسمبلی عیسیٰ نوری، عامر زمان راجہ، عبدالرشید گوڈیل، ساجد احمد، طاہرہ اورنگزیب، نواب یوسف تالپور، اعجاز چوہدری، خواجہ سہیل منصور، عمران ظفر لغاری، صاحبزادہ محمد یعقوب، چوہدری محمد اشرف، مراد سعید، مولانا قمرالدین، مولانا امیرالدین، قیصر احمد شیخ، مولانا گوہر شاہ، عارف خالد اور شاہجہاں بیگم نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنے حلقوں اور قومی ایشوز پر ایوان اور حکومت کی توجہ مبذول کروائی۔

بی این پی کے رکن عیسیٰ نوری نے کہا کہ بلوچستان میں فورسز کے لوگ عوام پر مظالم ڈھارہے ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ ہلاک شدگان کے جنازوں میں شرکت کرنے والوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے۔ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے۔ بلوچوں کیساتھ سوتیلانہ سلوک کیا جارہا ہے۔ سرکار عوام سے خوفزدہ ہے، گوادر پورٹ کی تعمیر کو مقامی لوگ شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

لوگو ں کو شک ہے کہ گوادر پورٹ کے ذریعے بلوچوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کے راجہ عامر زمان نے کہا کہ تربیلا اور غازی بروتھا ڈیم ہری پور میں ہیں لیکن ہری پور ضلع میں 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزراء اور ان کی وزارتوں کے افسران کی ایوان میں عدم موجودگی افسوسناک ہے۔ ارکان کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران 126 ارکان اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

ایم کیو ایم کے عبدالرشید گوڈیل نے کہاکہ (ن) لیگ کی حکومت میں دو ماہ میں ڈالر کی قیمت 92 روپے سے 103 روپے ہوگئی ہے جس سے غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوگیا۔ غیر ملکی قرضے صرف دو ماہ میں 9 ففیصد بڑھ گئے ہیں۔ غربت کی وجہ سے نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ قائمہ کمیٹیوں کی عدم تشکیل حکومت کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہے۔ ایم کیو ایم کے ساجد احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا عوام سے پہلا خطاب مایوس کن تھا۔

بھارت کیساتھ تعلقات اور مذاکرات کا اعلان اور جنگ سے گریز کا عزم نیک شگون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی ناکامی کی صورت میں طاقت کے استعمال کا عندیہ بھی قابل تحسین ہے۔ عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہئے کہ حکومت ڈرون حملے نہیں روک سکتی۔ (ن) لیگ کی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ تمام این جی اوز کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔

سیلاب اور قدرتی آفات میں این جی اوز کا کردار مثالی ہے۔ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی ڈاکٹر نگہت نے کہا کہ گداگری ملک کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ کراچی میں گداگروں کو ہراساں بھی کرتے ہیں۔ حکومت گداگروں کیلئے سکیمیں بنائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر حاضر ارکان پر تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ یہ تمام ارکان سیلاب زدگان کیلئے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے یہ اجلاس بھی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونا چاہئے تھا۔ پی پی پی کے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی لیکن اب اس ترمیم کو بے اثر کرنے کیلئے بعض چیزوں کو نکالا جارہا ہے۔ صحت کا شعبہ صوبوں کا اختیار ہے مگر صحت اور تعلیم کی وزارتیں دوبارہ بحال کردی گئی ہیں۔ اگر صوبوں کا کوئی اختیار کم کرنا ضروری ہے تو پھر اس کیلئے نئی ترمیم منظوری کرائی جائے۔

ترامیم کے بغیر کوئی بھی اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگا۔ (ن) لیگ کے چوہدری احمد اعجاز نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی کا وقت آگیا ہے۔ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کیلئے ترمیم کے ذریعے مرکز کو اختیارات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کو ختم کرکے 500 ارب روپے امن و امان کو بہتر بنانے پر صرف کئے جانے چاہئیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کو معاوضہ جات ادا کرے اور بے گھر ہونے والوں کو عارضی رہائشگاہیں فراہم کی جائیں۔ میڈیا اور قوم مل کر سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں۔ ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل منصور نے کہا کہ ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی عدم حاضری کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی پر 6 فیصد ٹیکس اضافہ قابل مذمت ہے۔

دنیا بھر میں امیر سے ٹیکس لے کر غریب کی امداد کی جاتی ہے۔ ٹارگٹڈ سبسڈی ہونی چاہئے۔ گیس عام آدمی کا ایندھن ہے مگر اس کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ کیا جارہا ہے۔ حکومت اور ارکان غریب کیلئے کچھ نہیں کررہے۔ غریب کیلئے دال روٹی کا بندوبست کیا جائے اور اس کی عزت نفس بحال کی جائے۔ پی پی پی کے عمران ظفر لغاری نے کہا کہ ان کے حلقے میں لوڈشیڈنگ غیر اعلانیہ کی جارہی ہے۔

500 ارب کے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب ختم نہیں ہورہا بلکہ اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنا صرف صوبوں کے بس میں نہیں وفاقی بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ وفاقی حکومت تین ماہ بعد بھی فیصلہ نہیں کرسکی کی دہشت گردوں کیخلاف طاقت استعمال کی جائے یا مذاکرات کئے جائیں۔

جماعت اسلامی کے صاحبزادہ محمد یعقوب نے کہا کہ سوات اور دیر میں گذشتہ سیلاب اور دہشت گردی کے دوران تباہ ہونے والے تعلیمی ادارے ابھی تک بحال نہیں کئے جاسکے۔ حکومت اس کیلئے خصوصی اقدامات کرے۔ (ن) لیگ کے چوہدری اشرف نے کہا کہ پنجاب میں کسانوں اور واپڈا کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے۔ کسانوں کو زائد بل بھجوادئیے گئے ہیں۔ گھریلو صارفین کیساتھ ٹیوب ویلوں کے بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

بھارت میں کاشتکار کو مفت بجلی دی جارہی ہے۔ ہمارے ملک میں کاشتکار کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ زراعت پر توجہ دےٴ کر ہم افراط زر کا مسئلہ بھی حل کرسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے مراد سعید نے کہا کہ گذشتہ روز وزیراعظم کا قوم سے خطاب ایک عام آدمی کی فریاد پر مبنی تھا۔ وزیراعظم نے مسائل گنوائے لیکن ان کا حل پیش نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سوات آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والوں کو آج تک معاوضہ اور متبادل رہائشگاہیں فراہم نہیں کی گئیں۔ اس جنگ سے عوام اور ملک کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ حکومت قائد کی رہائشگاہ کو نہیں بچاسکی تو خدارا اس کے پاکستان کو ہی بچالے۔ جے یو آئی کے مولانا قمرالدین نے کہا کہ ایوان میں اذان کے فوری بعد نماز کیلئے وقفہ ہونا چاہئے۔ ایک طرف عمرہ اور اعتکاف کیلئے صدارتی الیکشن کا التواء کیا جاسکتا ہے تو نماز فرض عبادت ہے اس کیلئے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کیلئے موخر کی جانی چاہئے۔

جے یو آئی کے مولانا امیرالدین نے کہا کہ بلوچستان میں اس قدر بدامنی ہے کہ ارکان اپنے حلقوں میں نہیں جاسکتے۔ اگر حکومت بلوچوں کو پاکستان کا حصہ سمجھتی ہے تو ریکوڈک میں سونے کے ذخائر میں صوبائی حکومت کا حصہ ایک فیصد کیوں رکھا گیا ہے حالانکہ آئین میں طے ہے کہ صوبائی وسائل پر صوبوں کا حصہ 5 فیصد ہوگا۔ تمام صنعتوں کو بند کردیا گیا ہے۔

سیلاب زدگان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کسی کی زندگیا ور جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ اگر وفاق چاروں اکائیوں کو ساتھ رکھنا چاہتا ہے تو انصاف کیساتھ وسائل تقسیم کرنا ہوں گے۔ (ن) لیگ کے قیصر احمد شیخ نے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف کا قوم سے خطاب متوازن اور جاندار تھا۔ نعرے بازی اور دعوؤں کی بجائے انہوں نے مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے حل کا عزم ظاہر کیا۔

بھارت کیساتھ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کا عزم اور جنگ سے گریز دونوں ممالک کیلئے مفید ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے چنیوٹ میں بڑی تباہی ہوئی ہے۔ آج وزیراعلی پنجاب چنیوٹ کے دورے پر ہیں جوکہ خوش آئند بات ہے لیکن میں احتجاج کرتا ہوں کہ حلقے کا نمائندہ ہونے کے باوجود مجھے ساتھ لے کر نہیں گئے۔ مقامی انتظامیہ ہماری بات نہیں سنتی۔

منتخب نمائندوں کو آن بورڈ لینا ضروری ہے کیونکہ ان کے بغیر عوامی مسائل کی نشاندہی نہیں ہوسکتی۔ جے یو آئی کے مولانا گوہر شاہ نے کہا کہ چارسدہ میں بھی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہے، اگرچہ کمی آئی ہے مگر مزید کمی کی ضرورت ہے۔ چارسدہ میں ٹرانسفارمرز کی مرمت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چارسدہ میں سیلاب سے بہت نقصانات ہوئے ہیں جن کے ازالے کی ضرورت ہے۔

چارسدہ میں تمباکو کی کاشت ہوتی ہے۔ یہ غریب کاشتکاروں کا ذریعہ روزگار ہے مگر اس پر ٹیکس لگاکر ان کی کمر توڑی جارہی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نجومیوں پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور ایمان خراب کرتے ہیں۔ (ن) لیگ کی عارفہ خالد نے کہا کہ وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں دنیا سے رابطے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی طرح حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھی رابطے بہتر اور موثر ہونے چاہئیں۔ انہی رابطوں کو مربوط بناکر دہشت گردی پر بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔ (ن) لیگ کی شاہجہاں بیگم نے کہا کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود انہیں پارلیمنٹ لاجز میں رہائش نہیں مل سکی۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے معذوری ظاہر کی ہے جوکہ افسوسناک ہے۔ ایک خاتون رکن کیساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہئے۔
20/08/2013 - 22:50:40 :وقت اشاعت