بند کریں
صحت صحت کی خبریںکراچی میں حالات کی خرابی کی ذمہ دار اپوزیشن ہے ۔وزیر اعظم۔۔یہ تاثر غلط ہے کہ 12مئی کو کراچی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 20/05/2007 - 13:18:28 وقت اشاعت: 18/05/2007 - 14:44:00 وقت اشاعت: 17/05/2007 - 13:43:41 وقت اشاعت: 16/05/2007 - 18:02:54 وقت اشاعت: 16/05/2007 - 13:09:01 وقت اشاعت: 16/05/2007 - 12:34:53 وقت اشاعت: 16/05/2007 - 12:02:57 وقت اشاعت: 14/05/2007 - 16:09:40 وقت اشاعت: 14/05/2007 - 15:36:56 وقت اشاعت: 13/05/2007 - 15:27:58 وقت اشاعت: 12/05/2007 - 17:44:06

کراچی میں حالات کی خرابی کی ذمہ دار اپوزیشن ہے ۔وزیر اعظم۔۔یہ تاثر غلط ہے کہ 12مئی کو کراچی میں پولیس اور رینجرز تعینات نہیں تھی، سیکیورٹی کے سخت انتظامات نہ ہوتے تو حالات زیادہ خراب ہو سکتے تھے ، تمام طبقات مل جل کر شہرمیں امن و امان و سکون کیلئے کام کریں۔۔حکومت و اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں، شوکت عزیز کی گورنر ہاؤس میں تاجروں و صنعتکاروں سے ملاقات کے دوران گفتگو

کراچی (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار16 مئی2007) وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ کراچی میں حالات کی خرابی کی ذمہ دار اپوزیشن جماعتیں ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ 12مئی کو پولیس اور رینجرز تعینات شہر میں تعینات نہیں تھیں اگر سیکیورٹی کے سخت انتظامات نہ ہوتے تو حالات بہت زیادہ خراب ہو سکتے تھے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت حالات پر کنٹرول کرلیا، کراچی کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجا سکتا ، تمام طبقات مل جل کر شہر میں امن و سکون کیلئے کام کریں، حکومت اور اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں، کراچی کاسموپولیٹن سٹی اور پاکستان کا اقتصادی انجن ہے اور شہر میں سکون و باہمی ہم آہنگی کی فضاء کی ضرورت ہے ۔

شہر کے حالات معمول پر آ رہے ہیں تاہم حالات کو بہتر بنانے کے لئے تاجر برادری بھی اپنا کردار ادا کرے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم شوکت عزیز نے بدھ کو یہاں گورنر ہاؤس میں تاجر وں و صنعتکاروں سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کراچی کے حالات پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیر اعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم ، وفاقی وزیر داخلہ آفتاب خان شیر پاؤ ، وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی ، وفاقی وزراء بابر خان غوری ، سلیم سیف اللہ ، وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ، وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے داخلہ وسیم اختر، ناظم کرا چی سید مصطفی کمال ، پی آئی اے اور بینکوں کے سربراہان ، شوکت ترین، کے سی سی آئی کے صدر مجید عزیز ، تاجر رہنما سراج قاسم تیلی ، ایس ایم منیر ، زبیر موتی والا ، شیخ خالد تواب ، طارق رفیع، عمران شوکت ، مسعود نقی ، میاں زاہد حسین بھی ملاقات کے لئے موجود تھے ۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ کراچی کے حالات خراب کرنے کی ذمہ داری اپوزیشن جماعتوں پر عائد ہوتی ہے ، کراچی میں اگر حالات زیادہ خراب ہوں تو اس شہر کی خوبی یہ ہے کہ جلد ہی یہ حالات معمول پر آ جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ 12 مئی کو شہر میں رینجرز و پولیس تعینات نہ تھی بلکہ اگر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نہ ہوتی تو حالات بہت زیادہ خراب ہو سکتے تھے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت حالات کنٹرول میں کئے ۔ انہو ں نے کہا کہ کراچی کی اہمیت سے کسی بھی طرح نفری نہ ہوتی تو حالات بہت زیادہ خراب ہو سکتے تھے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت حالت کنٹرول میں کئے۔ انہو ں نے کہا کہ کراچی کی اہمیت سے کسی بھی طرح انکار نہیں کیا جا سکتااور یہاں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے حکومت اہم اقدامات کر رہی ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ تاجر برادری امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے حکومت کا بھر پور ساتھ دے تا کہ کراچی مزید ترقی کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات مل جل کر شہر میں امن و سکون کے لئے کام کریں ۔ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں اور ماضی میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں کبھی اتنی مضبوط نہ تھیں جتنی آج ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہیں اور ترقی کا بھر پور عمل جا رہی ہے ۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اس موقع پر بتایا کہ کراچی میں تعینات تمام ممالک کے قونصل جنرل سمیت سفارتی نمائندوں کو کراچ کے بہتر حالات سے آگاہی کے حوالے سے آگاہی کے لئے گورنر ہاؤس میں مدعو کیا جائے گا۔ گورنر سندھ نے اجلاس کو شہر کے حوالے سے مکمل رپورٹ پیش کی ۔

اس موقع پر کے سی سی آئی کے صدر مجید عزیز نے وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بزنس کمیونٹی نے حکومت کے ساتھ مل کر شہر کی تعمیر و ترقی میں بے پناہ محنت کی ہے جسے ضائع نہ ہونے دیا جائے۔ 12 مئی کے واقعات سے کراچی چیمبر کی مائی کراچی کو بھی خطرات لاحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاستدان ،وکلاء ، صحافی اور حکومت بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں جس کے لئے کراچی چیمبر برج کا کردار ادا کر سکتاہے ۔

اس دوران تاجر رہنما ایس ایم منیر نے کہا کہ بات کی تحقیق کی جائے کہ 12 مئی کو سڑکوں پر سے بالخصوص حساس مقام پر سے رینجرز اور پولیس غائب کیوں تھیں۔ تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ فساد پھیلانے اور قتل وغارت کرنے والوں کے چہرے مووی کیمرے میں موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں گرفتار کیا جائیجبکہ زبیر موتی والا نے کہا کہ شہر کے حالات خراب ہونے سے صنعتی علاقوں میں پیداواری سرگرمیوں میں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پیداواری لاگت بڑھنے سے عالمی مارکیت میں برآمد کنندگان کو حریف ممالک سے سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چےئرمین عمران شوکت نے کہا کہ حالات بہتر بنانے کے لئے شہر میں رینجرز و پولیس کی نفری بڑھائی جائے ۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چےئرمین مسعود نقی نے کہا کہ صنعتی علاقوں میں ریلیاں نکالنے پر پابندی ہونی چاہئے ۔ پاکستنا انڈسٹریل پروشن فورم کے چےئرمین خالد تواب نے کہا کہ شہر میں امن وامان کی بحالی کے لئے تاجر برادری حکومت کا بھر پور ساتھ دے گی ۔ کاٹی کے سابق چےئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں تاجر برادری کو بہکا رہی ہیں کہ حکومت مخالفت میں وہ اپوزیشن کا ساتھ دے ۔
16/05/2007 - 12:34:53 :وقت اشاعت