سعودیہ ؛ خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے تارکین وطن کو لوٹنے والا گروہ گرفتار

گرفتار کیے گئے 6 رکنی گروہ میں ایک خاتون بھی شامل ہے ، گروپ خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے غیرملکیوں سے رقم بٹورتا تھا، ایک سعودی شہری اس گروپ کا حصہ ہے دیگر 5 کا تعلق مختلف ممالک سے ہے

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 22 اکتوبر 2021 12:02

سعودیہ ؛ خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے تارکین وطن کو لوٹنے والا گروہ گرفتار
مکہ مکرمہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - 22 اکتوبر 2021ء ) سعودی عرب میں خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے تارکین وطن کو لوٹنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا گیا ، گرفتار کیے گئے 6 رکنی گروہ میں ایک خاتون بھی شامل ہے ، یہ گروہ خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے غیرملکیوں سے رقم بٹورتا تھا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مکہ مکرمہ ریجن پولیس کی جانب سے ایک کارروائی عمل میں لائی گئی ، اس دوران پولیس نے خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے تارکین وطن کو لوٹنے والے 6 رکنی گروہ کو گرفتار کیا جس میں ایک خاتون بھی شامل ہے جن کے بارے میں پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ یہ گروہ خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے غیرملکیوں سے رقم ہتھیانے میں ملوث ہے۔

مکہ پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملزمان ناصرف سکیورٹی اہلکار ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کو لوٹتے تھے بلکہ گھروں میں چوری کی وارداتوں میں بھی ملوث رہے ، ایک سعودی شہری بھی اس گروپ کا حصہ ہے ، تاہم دیگر 5 کا تعلق مختلف ممالک سے ہے ، ملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا۔

(جاری ہے)

دوسری طرف سعودی عرب میں بینک اے ٹی ایم لوٹنے کی کوشش کرنے والے غیرملکی شہری کو گرفتار کرلیا گیا ، نقب لگا کر اے ٹی ایم سے رقم چوری کرنے کی کوشش کا یہ واقعہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیش آیا جہاں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چور کو گرفتار کرلیا جس کا تعلق بھارت سے بتایا گیا ہے ، ملزم کو ریاض پولیس کے کرائم کنٹرول یونٹ نے ایک علاقے میں نصب اے ٹی ایم کو توڑ کر اس میں موجود رقم چرانے کے الزام میں حراست میں لیا ، اس حوالے سے پولیس ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزم کی عمر 50 سال کے قریب ہے ، جس کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرکے ملزم کو مزید تحقیقات کے لیے پراسیکیوشن کے ادارے کے حوالے کر دیا گیا جہاں کیس مکمل کرنے کے بعد مقدمہ فوجداری عدالت میں بھیج دیا جائے گا۔

مکہ مکرمہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments