مفرور سعودی لڑکی کو واپس سعودی عرب بھیج دیا جائے گا

بنکاک میں موجود سعودی لڑکی کے بارے میں تھائی نائب وزیراعظم کا اعلان

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جنوری 12:30

مفرور سعودی لڑکی کو واپس سعودی عرب بھیج دیا جائے گا
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری 2019ء) مملکت سے فرار ہو کر بنکاک ایئر پورٹ پہنچنے والی سعودی لڑکی رہاف تاحال تھائی لینڈ کے حکام کی تحویل میں ہے۔ تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم نے تھائی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی لڑکی کو ضروری دستاویزات نہ ہونے کی بناء پر تھائی لینڈ میں داخلے سے روکا گیا۔ سعودی لڑکی کو قوانین و ضوابط کے مطابق کسی بھی تیسرے مُلک نہیں بھیجا جا سکتا۔

اسے واپس سعودی عرب ہی بھیجا جائے گا۔ تھائی لینڈ کے محکمہ پاسپورٹ کے ڈائریکٹر کے مطابق سعودی لڑکی کے پاس نہ تو شناختی دستاویزات پائی گئیں اور نہ واپسی کی ریزوریشن اور ٹکٹ تھی۔ اور نہ ہی وہ کسی ٹورازم پروگرام کے تحت یہاں آئی تھی۔ لڑکی نے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے جو کچھ بتایا، اُس میں انتہا درجے کا مبالغہ معلوم ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دُوسری جانب تھائی لینڈ میں سعودی ناظم الامور عبداللہ الشعیبی نے بتایا کہ سعودی سفارت خانہ اپنے کسی بھی شہری کو کسی دُوسرے مُلک کے ایئرپورٹ پر گرفتار کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ چونکہ لڑکی کے پاس نہ تو واپسی کا ٹکٹ ہے اور نہ ہی ہوٹل میں بُکنگ کروائی گئی ہے، اس لیے اُسے واپس سعودی مملکت ہی بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سعودی لڑکی رہاف القنون کے مطابق اُس نے اسلام سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور اپنے سعودی والدین کے پاس سے بھاگ کر آسٹریلیا جانے کے لیے بنکاک پہنچی تھی مگر اُسے مزید آگے سفر کرنے سے روک دیا گیا ۔

رہاف کے بنکاک ایئرپورٹ پہنچنے پر وہاں موجود ایک سعودی عہدے دار نے اُس کا پاسپورٹ ضبط کر لیاتھا ۔ کیونکہ اُس کے والد نے سعودی حکام کو سارے معاملے سے آگاہ کیا تھا کہ وہ اپنے ولی کی مرضی کے بغیر سفر کر رہی ہے جس کی سعودی قانون میں ممانعت ہے، جس پر بنکاک میں موجود سعودی حکام حرکت میں آ گئے اور لڑکی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ سعودی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ ایک خاندان کا نجی معاملہ ہے۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان نے رہاف کا معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اُس کے حق میں زور شور سے آواز اُٹھانی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں #SaveRahaf کے نام سے ہیش ٹیگ بھی بن چکا ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments