سعودی مسلح افواج میں اب خواتین بھی بھرتی ہونے جا رہی ہیں

وزارت دفاع کی جانب سے خواہش مند خواتین کو درخواستیں جمع کروانے کی ہدایت کر دی گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ اکتوبر 10:42

سعودی مسلح افواج میں اب خواتین بھی بھرتی ہونے جا رہی ہیں
جدہ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 اکتوبر2019ء) سعودی عرب حقیقت میں تبدیلی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ وہ سعودی خواتین جن کا گھر کی چار دیواری سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا، اب وہ باقاعدہ فوجیوں کی ٹریننگ حاصل کر کے فوجی ساز و سامان سے لدی پھندی نظر آئیں گی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اب سے خواتین کو عام سپاہی، سٹاف سارجنٹ، فرسٹ سارجنٹ، میجر اور دیگر عہدوں پر بھرتی کیا جا رہا ہے۔

فوجی خدمات سرانجام دینے خواہش مند خواتین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی درخواستیں آن لائن جمع کرائیں۔ وزارت دفاع کی جانب سے خواتین کو درخواستیں جمع کرانے کے لیے ای میل اکاؤنٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ جس پر خواتین اپنے کوائف بھیج سکتی ہیں۔وزارت دفاع کی جانب سے خواتین سپاہیوں کی بھرتی کے لیے جو شرائط درج کی گئی ہیں، ان کے مطابق بھرتی کی خواہش مند خاتون کا سعودی النسل ہونا ضروری ہے، جبکہ اس کی پیدائش اور پرورش سعودی عرب میں ہوئی ہو، اخلاق اور سیرت عمدہ ہو، کوئی کریمنل ریکارڈ نہ ہو، جسمانی صحت ٹھیک ٹھاک ہو، عمر کم از کم 21 سال ہو، قد 155 سینٹی میٹر سے کم نہ ہو، کم از کم ہائی سکول کی تعلیم مکمل کر چکی ہو۔

(جاری ہے)

جبکہ اس کی شادی کسی غیر سعودی سے نہ ہوئی ہو اور نہ ہی وہ مستقبل میں ایسا کر سکتی ہے۔ اس بارے میں ایک سعودی قانونی مشیر ریم الحسن کا کہنا ہے کہ سعودی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ وزارت دفاع میں خواتین کو بطور مسلح ملازم کے بھرتی کیا جا رہا ہے اس سے سعودی حکومت کا مقامی خواتین کی صلاحیتوں اور کارکردگی پر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ وہ وقت بھی جلد آ جائے گا جبکہ خاتون بطور وزیر اور جج بھی تعینات ہو سکیں گی۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments