سعودی حکومت نے غیر قانونی تارکین کو پناہ دینے والوں کے خلاف اہم اعلان کر دیا

جوازات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس جُرم میں ملوث افراد کو 6ماہ قید اور ایک لاکھ ریال کا جرمانہ ہو گا، غیر مُلکی ڈی پورٹ کر دیا جائے گا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر نومبر 12:58

سعودی حکومت نے غیر قانونی تارکین کو پناہ دینے والوں کے خلاف اہم اعلان ..
ریاض (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔4 نومبر 2019ء ) سعودی مملکت کی جانب سے غیر قانونی تارکین کو پناہ دینے یا انہیں ملازمت فراہم کرنے والوں کے خلاف اہم وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کی جانب سے انتباہ کیا گیا ہے کہ اقامہ و لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر مُلکیوں کو پناہ دینے، اُن کی مدد کرنے، اُنہیں ملازمت دینے، ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے اور دیگر نوعیت کی امداد کرنے والوں کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے۔

ایسے اشخاص کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد اُنہیں 6ماہ قید کی سزا جائے گی اور ایک لاکھ ریال کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔اگر کسی شخص نے ایک سے زائد غیر قانونی تارکین کو اپنے ہاں پناہ یا ملازمت دے رکھی ہو گی تو ایسی صورت میں اُس پر جرمانے کی رقم غیر قانونی تارکین کے حساب سے عائد کی جائے گی۔

(جاری ہے)

مثلاً اگر کسی نے دو تارکین کو سہولت فراہم کی ہو گی تو اُسے ایک لاکھ ریال کی بجائے دو لاکھ ریال کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

اگر غیر قانونی تارکین کی مدد کرنے والا غیر سعودی ہوا تو ایسی صورت میں اُسے مذکورہ سزاؤں کے علاوہ ڈی پورٹ بھی کر دیا جائے گا۔ جوازات کے مطابق اُن غیر مُلکیوں کو پناہ دینے والوں پر بھی ہو گا جو اپنے کفیلوں کو چھوڑ کر مملکت میں رُوپوش ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ایسی کمپنیاں جو غیر قانونی تارکین کو ملازمت فراہم کریں گی، اُنہیں اگلے پانچ سال تک ویزے جاری کرنے کی سہولت سے محروم کر دیا جائے، کمپنی کی تشہیر اُسی کے خرچے پر کی جائے گی اور کمپنی کے سربراہ کو بھی سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔

اگر کمپنی کا مینجر غیر سعودی ہوا اتو اُسے سزا کے بعد مملکت سے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ جوازات کی جانب سے کفیلوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر اُن کا کوئی غیر مُلکی کارکن فرار ہو جاتا ہے تو وہ فوری طور پر اس کی اطلاع آن لائن سسٹم ابشر کے ذریعے دیں، تاکہ اس کارکن کو بلیک لسٹ کیا جا سکے اور سیکیورٹی اداروں کو اس کے بارے میں آگاہ کر دیا جائے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments