تارکین وطن کیلئے بری خبر، سعودیہ میں غیر ملکیوں پر انحصار کم کرنے کا منصوبہ شروع

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فروغ افرادی قوت پروگرام کا آغاز کر دیا ، جس کے تحت سعودی شہریوں میں مہارتیں پیدا کرکے لیبر مارکیٹ کے نت نئے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 16 ستمبر 2021 11:29

تارکین وطن کیلئے بری خبر، سعودیہ میں غیر ملکیوں پر انحصار کم کرنے کا منصوبہ شروع
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 16 ستمبر 2021ء ) سعودی عرب نے غیر ملکیوں پر انحصار کم کرنے کا منصوبہ شروع کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فروغ افرادی قوت پروگرام کا آغاز کر دیا ، پروگرام 89 سکیموں پر مشتمل ہے ، جس کے ذریعے سعودی وژن 2030ء کے 16 سٹراٹیجک اہداف پورے ہوں گے۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ فروغ افرادی قوت پروگرام سعودی وژن 2030 میں شامل ہے ، جس کے تحت افرادی قوت کے فروغ کا سفر بچپن سے شروع ہوگا ، جو کالجوں، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ انسٹی ٹیوٹس اور یونیورسٹیوں سے ہوتے ہوئے لیبر مارکیٹ تک پہنچے گا ، اس کا مقصد سعودی شہریوں میں مہارتیں پیدا کرنا اور ان کی علمی قابلیت کو بڑھانا ہے ، لیبر مارکیٹ کے نت نئے تقاضوں کو پورا کرنا بھی اس کا ایک اہم مقصد ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نیا پروگرام معاشرے کے تمام طبقوں کی ضروریات اور آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے ، ہر شہری کی استعداد پر مجھے پورا بھروسہ ہے ، یہ پروگرام ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قومی افرادی قوت میں مسابقت کا جذبہ مضبوط کرے گا ، یہ مضبوط معیشت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا اور ہمارے عوام موجودہ اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ کے چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے ، جس کے لیے کمسنی سے بچوں کی استعداد بڑھانے کے لیے نرسری سکول بڑے پیمانے پر قائم ہوں گے ، بچوں کی نجی مہارتوں کو فروغ دیا جائے گا ، طلبہ کو لیبر مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لیے پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کی جائے گی اور پیشہ ورنہ رجحانات متعین کرنے میں مدد کی جائے گی۔

سعودی ولہ عہد نے کہا کہ 2030 تک سعودی عرب کی دو یونیورسٹیوں کو دنیا کی سو بہترین جامعات کی فہرست میں شامل کرایا جائے گا ، 23 فیصد سے 90 فیصد تک بچوں کو نرسری سکولوں سے منسلک ہونے کے مواقع مہیا ہوں گے ، فروغ افرادی قوت پروگرام مملکت میں افرادی قوت کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے گا ، پرائیویٹ سیکٹر اور بغیر منافع والے سیکٹر کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت کا اہتمام کرے گا ، اس حوالے سے متعدد اہداف حاصل کیے جائیں گے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments