منی بجٹ، تبدیلی حکومت کاخوش آئندہ اقدام

موبائل فون مہنگے جبکہ فائلرز کے لئے بینک ٹرانزکشن پر ٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ نان فائلرز 13سو سی سی تک نئی گاڑی خرید سکیں گے

بدھ جنوری

mini budget tabdeeli hukoomat ka khosh aindah iqdaam
احمد جمال نظامی
گزشتہ روز وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے مالی سال 2018-19ء کا دوسرا منی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ میں زرعی قرضوں پر ٹیکس 39 فیصد سے کم کر کے 29فیصد کر دیا گیا ہے۔ سٹاک ایکسچینج ممبران کو ایڈوانس ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی ہے جبکہ نیوز پرنٹ پر 5فیصد ڈیوٹی، سیونگز پر ٹیکس، نان بینکنگ افراد پر سوپرٹیکس ختم کرنے کے لئے تجویز دی گئی ہے۔

منی بجٹ میں لگژری گاڑیاں، موبائل فون مہنگے جبکہ فائلرز کے لئے بینک ٹرانزکشن پر ٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ نان فائلرز 13سو سی سی تک نئی گاڑی خرید سکیں گے لیکن انہیں بھاری ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ صنعتیں لگانے، خام مال پر ٹیکس میں رعایت اور چھوٹے شادی ہالوں کے لئے ٹیکس کی شرح کم کر کے پانچ ہزار مقرر کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

بجٹ میں زرعی آلات پر ڈیوٹیز کم کرنے، شیئرز کی خریدوفروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے جبکہ چھوٹے اور درمیانے اداروں کے لئے قرضوں پر ٹیکس آدھا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ویلتھ ٹیکس سال میں دو مرتبہ جمع کروایا جا سکے گا۔ کارپوریٹ انکم ٹیکس پر بھی ایک فیصد سالانہ کمی برقرار رکھنے، 60ہزار روپے تک کے موبائل فون سستے کرنے کا کہا گیا ہے۔

گھروں کے لئے بینک قرضہ پر ٹیکس 39 فیصد سے کم کر کے 20فیصد ہو گا جس کی وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیرخزانہ اسدعمر نے مالی سال 2018-19ء کے لئے جو دوسرا منی بجٹ پیش کیا ہے یہ مجموعی طور پر ایک متوازن اور حقیقی انداز میں ریلیف فراہم کرنے والا بجٹ ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت جس نے ملک میں خوشحالی لانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا موجودہ منی بجٹ اس تناظر میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اپوزیشن کی روایتی اور دقیانوسی تنقید سے ہٹ کر مجموعی طور پر تمام کاروباری حلقے اس بجٹ کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

بلخصوص ٹیکس فائلرز کو بینک اکاؤنٹس پر ودہولڈنگ ٹیکس سے چھوٹ دینے پر کاروباری حضرات حد سے زیادہ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز سے لے کر مختلف اشیاء تیار کرنے والے پیداواری حلقے اس بجٹ کو متوازن اور خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ عوام کی طرف سے بھی بجٹ کو تسلی بخش اور متوازن قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اس بجٹ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ کسی بجٹ میں الفاظ کو بطور گورکھ دھندا استعمال نہیں کیا گیا۔

بجٹ کو صنعتی، تجارتی، زرعی اور برآمدی حلقے شاید اسی بناء پر خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ویلکم کر رہے ہیں۔ منی بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا کہ عوام پر مہنگائی کا نیا بم گرایا جائے گا لیکن وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے بجٹ کو جس انداز میں پیش کیا ہے اس پر یقینی طور پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس وقت پاکستان کو متحدہ عرب امارات کی طرف سے سٹیٹ بینک کے مطابق ایک ارب ڈالر بھی موصول ہو چکا ہے۔

چین کے علاوہ مختلف ممالک پاکستان کو امداد دینے کے لئے پیش قدمی کر رہے ہیں لہٰذا معاشی و اقتصادی حلقے برملا تجزیہ کر رہے ہیں کہ وطن عزیز میں جو سابقہ حکومت نے اسحاق ڈار کی صورت میں معیشت کا بیڑہ ڈبو دیا تھا وہ معیشت مختصر دورانیے کے دوران نہ صرف پھل پھول سکے گی بلکہ معیشت مضبوط ہو گی کیونکہ صرف متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایک ارب ڈالر ملنے کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کسی حد تک مستحکم ہوئے ہیں اور آئندہ حکومت کو سرکلر ڈیبٹ کم کرنے میں خاصی معاونت حاصل ہو گی۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے سابقہ حکمرانوں اور اپوزیشن سے ہر حال میں قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کو واپس حاصل کرنے کے لئے اپنی کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں جس پر شدید احتجاج بھی سامنے آ رہا ہے اور ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ آئندہ قومی خزانے میں بھاری رقم جمع کروائی جا سکتی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے داماد پہلے ہی قومی خزانے میں کچھ رقم جمع کروا چکے ہیں اور ذرائع بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آئندہ مزید کئی سابقہ نامی گرامی حکمران قومی خزانے میں رقم جمع کروا سکتے ہیں۔

اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت معیشت کو جس انداز میں چلانا چاہتی ہے آئندہ اگر اس سمت پر حکومت گامزن رہی اور اس کے ساتھ اگر حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق چاہے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کیا یا قرضہ حاصل نہ کیا اور آئی ایم ایف سے بالاخر جان چھڑا لی تو پاکستان کی معاشی و اقتصادی ترقی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ حیرت کی بات ہے کہ موجودہ بجٹ پیش ہونے کے بعد سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر جانے، تمام صنعتی، زرعی، کاروباری اور برآمدی حلقوں کی طرف سے منی بجٹ کو خوش آئند قرار دینے کے باوجود اس کی اپوزیشن کی طرف سے مکھی پر مکھی مار کے مصداق مخالفت سمجھ میں نہیں آ رہی اور ایسے لگتا ہے کہ اپوزیشن کو صرف اپنے ذاتی مفادات کے سوا کچھ عزیز نہیں۔

بلاشبہ موجودہ حکومت پر اس کی کج ادائیوں پر تنقید ہونی چاہیے اور ہم بھی انہی رپورٹس میں متواتر حکومت پر تنقید کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حکومت کو آئینہ دکھا کر عوامی مسائل کا حل بتانا یا عوامی رائے حکومت کے سامنے پیش کرنا صحافی کا کام ہوتا ہے۔ بطور صحافی ہمیں کسی بھی بااثر شخصیت کی سمت کی ضرورت نہیں۔ اصل حقائق پر بات ہونی چاہیے اور اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ پیش کیا گیا منی بجٹ انتہائی خوش آئند ہے۔

اس بجٹ سے غریب آدمی کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کو بھرپور ریلیف ملے گا اور اگر حکومت نے آئندہ مالی سال 2019-20ء کا سالانہ وفاقی بجٹ بھی اسی انداز میں آئی ایم ایف یا کسی ادارے کی ڈکٹیشن یا مداخلت کے بغیر پیش کر دیا تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا کم از کم سفر شروع کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد کے مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments

mini budget tabdeeli hukoomat ka khosh aindah iqdaam is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 30 January 2019 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.