اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںشہباز شریف کا آئندہ قومی اسمبلی میں خطاب نہ کرنے کا اعلان مقررہ وقت ..

شہباز شریف کا آئندہ قومی اسمبلی میں خطاب نہ کرنے کا اعلان

مقررہ وقت سے زیادہ تقریر کرنے اور بلاول بھٹو کو موقع نہ دینے پر اسپیکر شہباز شریف کو مسلسل ٹوکتے رہے جس پر صدر مسلم لیگ ن ناراض ہوگئے

اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 اگست 2018ء)شہباز شریف کا آئندہ قومی اسمبلی میں خطاب نہ کرنے کا اعلان ، مقررہ وقت سے زیادہ تقریر کرنے اور بلاول بھٹو کو موقع نہ دینے پر اسپیکر شہباز شریف کو مسلسل ٹوکتے رہے جس پر صدر مسلم لیگ ن ناراض ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد
جمعہ کے روز پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کے انتخاب کا اہم ترین عمل مکمل کر
لیا گیا۔

جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے تاریخی اجلاس کے دوران ہونے والی
ووٹنگ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف
کو شکست دے کر وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوگئے۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد
مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی نے ایوان میں کوب طوفان بدتمیزی برپا کرتے
ہوئے عمران خان کی نشست کے سامنے شدید ہنگامہ آرائی کی۔

(خبر جاری ہے)

اسی باعث عمران خان
1 گھنٹے تک تقریر نہ کر پائے۔ بعد ازاں عمران خان نے اپنی اولین تقریر میں
کڑے احتساب کا اعلان کیا۔ عمران خان کی تقریر کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر
شہباز شریف نے بھی قومی اسمبلی میں اپنا اولین خطاب کیا۔ اس دوران شہباز
شریف کی جانب سے شدید تنقید کرتے ہوئے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا
گیا۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ دھاندلی زدہ
الیکشن کو نہیں مانتے۔

25 جولائی کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے سب سے
زیادہ متنازع انتخابات ہیں۔ 25 جولائی کے انتخابات میں دھاندلی کا شور
عالمی میڈیا میں بھی سنائی دیا گیا۔ شہباز شریف نے سوال کیا کہ یہ کیسا
الیکشن تھا جس میں آر ٹی ایس سسٹم جان بوجھ کر بند کر دیا گیا۔ شہباز شریف
نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

شہباز شریف
نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن بنا کر دھاندلی کے ذمہ داران کی نشاندہی کی
جائے اور پھر انہیں کیفر کردار تک بھی پہنچایا جائے۔ شہباز شریف نے فی
الفور جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف
نے الیکشن ایکٹ میں بھی ترمیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ شہباز شریف نے
مزید کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پھر وہ احتجاج کیلئے
سڑکوں کا رخ کریں گے۔

شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو چیلنج بھی کیا
کہ اگر دھاندلی ثابت ہوگئی تو وہ وعدہ کریں کہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے
استعفیٰ دیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، اپنے
مطالبات ہر صورت منوا کر رہیں گے۔ اس موقع پر مقررہ وقت سے زیادہ تقریر کرنے، بلاول بھٹو کو تقریر کا موقع نہ دینے اور خاموش نہ ہونے پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شہباز شریف کا اسپیکر بند کرنے کی ہدایت جاری کردی۔ اسپیکر کی ان ہدایات پر شہباز شریف ناراض ہو گئے اور انہوں نے آئندہ تقریر نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں