اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںاحتساب عدالت کا یوسف رضاگیلانی کیخلاف ریفرنس نوازشریف کیخلاف ریفرنسز ..

احتساب عدالت کا یوسف رضاگیلانی کیخلاف ریفرنس نوازشریف کیخلاف ریفرنسز نمٹانے کے بعد سننے کا فیصلہ

, سماعت 23 نومبر تک ملتوی وزیراعظم عمران خان کو یہ نہیں کہنا چاہیے فلاں کو پکڑوں گا، احتساب ہونا چاہیے مگر احتساب کا ادارہ آزاد ہونا چاہیے،سابق وزیر اعظم کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء)احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق نیب ریفرنس، سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف ریفرنسز نمٹانے کے بعد سننے کا فیصلہ کرلیا۔پیر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں پیشی کے موقع پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کی اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک میں ملاقات ہوئی۔

عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو پہلے روسٹرم پر بلا لیا، تاہم نیب پراسیکیوٹر عدالت میں موجود نہیں تھے۔جس پر یوسف رضا گیلانی نے جج ارشد ملک سے کہا کہ آپ پہلے میاں صاحب کا کیس سن لیں، میں انتظار کرلیتا ہوں۔تاہم جج احتساب عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میاں صاحب کے کیس میں پورا دن لگے گا۔

(خبر جاری ہے)

دوران سماعت عدالت نے یوسف رضاگیلانی کی مستقل حاضری سے استثنی کی درخواست پر نیب کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیخلاف ریفرنس کی سماعت نواز شریف کیخلاف ریفرنسز نمٹانے کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا۔

بعدازاں احتساب عدالت نے یوسف رضا گیلانی کیخلاف ریفرنس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کردی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم کئی سالوں سے نیب کورٹ آتے رہے ہیں، ابھی اور بھی وزیراعظم پیش ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ چار وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہوچکے ہیں، پانچواں وزیراعظم بھی احتساب عدالت آئیگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں فلاں کو پکڑوں گا، احتساب ہونا چاہیے مگر احتساب کا ادارہ آزاد ہونا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نے سوال کیا کہ میں نے 10 سال جیل مینوئل کے مطابق جیل کاٹی، مجھے باعزت بری کیا گیا تو میں وزیراعظم بن گیا، فیصلے میرے حق میں ہوئے، میرے ان 10 سالوں کاجواب کون دیگا واضح رہے کہ نیب راولپنڈی نے رواں برس 6 ستمبر کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیخلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ریفرنس میں وزارت اطلاعات کے سابق ملازم فاروق، سلیم، حسن، حنیف، انعام اور ریاض کو بھی شریک ملزم بنایا گیا ہے۔


نیب اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملزمان نے یونیورسل سروسز فنڈ سے متعلق غیر قانونی تشہیری مہم چلائی اور ان کے اس اقدام سے قومی خزانے کو 128 ملین روپے کا نقصان ہوا۔واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی 2008 سے 2013 کے دوران پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں وزیراعظم رہے تاہم وہ اپنی مدت مکمل نہ کرسکے اور سپریم کورٹ سے توہین عدالت کیس میں سزا پاکر نااہل ہوئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں