نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ‘بیان ریکارڈ کروایا

بچے باہر جا کر کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے، ہمارے خلاف کرپشن یا کک بیک کا کوئی ثبوت نہیں ہے،سابق وزیراعظم

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر نومبر 12:20

نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ‘بیان ریکارڈ کروایا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 نومبر۔2018ء) وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت جاری ہے، نواز شریف اپنا بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں. تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کر رہے ہیں.

سابق وزیر اعظم نواز شریف عدالت میں پیش ہو کر بغیر حلف نامے کے 342 کا بیان قلمبند کروا رہے ہیں. نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز نمٹانے کی 17 نومبر تک کی چھٹی مہلت بھی ختم ہوچکی ہے۔

(جاری ہے)

نواز شریف فراہم کیے گئے 151 سوالوں میں سے اب تک 120 کے جوابات دے چکے ہیں. مزید سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میرے اکاﺅنٹ میں آنے والی رقوم ایف بی آر ریکارڈ میں ظاہر ہیں، سپریم کورٹ میں متفرق درخواست جمع کروائی گئی جس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے نام نہاد شواہد اور رپورٹ کو مسترد کرنے کی استدعا کی.

نواز شریف نے کہا کہ درخواست میں کہا کہ جے آئی ٹی محض تفتیشی ایجنسی سے زیادہ کچھ نہیں، عام فہم ہے جے آئی ٹی میں بیان عدالت میں بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا. جے آئی ٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی اور ثبوت کے بغیر تھیں، جے آئی ٹی کو انکم ٹیکس ریٹرن، ویلتھ اسٹیٹمنٹ اور ویلتھ ریٹرن جمع کروائی. سماعت کے دوران نواز شریف بیان لکھواتے ہوئے جذباتی ہوگئے‘ انہوں نے جج سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیس بنایا کیوں گیا ہے، استغاثہ کو بھی معلوم نہیں ہوگا کیس کیوں بنایا گیا.

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں، میرے بچوں نے اگر مجھے پیسے بھیج دیے تو کون سا عجوبہ ہوگیا‘وزیر اعظم رہا ہوں، میرے بچے یہاں کاروبار کریں تب مصیبت، باہر کریں تب مصیبت ہے . سابق وزیر اعظم نے کہا کہ شریک ملزمان کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ کے خلاف الگ درخواستیں دی گئیں، سپریم کورٹ میں حسن اور حسین نواز کا کیس میں نے نہیں لڑا.

حسن اور حسین نواز کے بیانات سے متعلق بیان لکھواتے ہوئے نواز شریف کی زبان پھسل گئی، انہوں نے کہا کہ حسن اور حسین نواز کا بیان میرے خلاف بطور شواہد پیش کیا جا سکتا ہے‘ وکیل نے لقمہ دیا تو نواز شریف نے درستگی کروائی کہ بیٹوں سے منسوب بیان میرے خلاف بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا. انہوں نے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران جو بیانات ریکارڈ کئے وہ قابل قبول شہادت نہیں اور جے آئی ٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی اور ثبوت کے بغیر تھیں.

نواز شریف نے روسٹرم پر سوالات کے جواب قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ میرے اکاﺅنٹ میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم درست ظاہر کی گئی ہیں، جے آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران جو بیانات ریکارڈ کئے وہ قابل قبول شہادت نہیں، تفتیشی ایجنسی کے سامنے دیا گیا بیان عدالت میں بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا اور جے آئی ٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی اور ثبوت کے بغیر تھیں.

نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کے مکالمے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کیس یہ نہیں کہ آپ بیرون ملک کیوں کاروبار کرتے ہیں، کیس یہ ہے کہ بیرون ملک کیسے کاروبار کرتے ہیں. نواز شریف نے کہا کہ ہمیں حکومت دھکے نہ دیتی تو بچے یہاں کاروبار کر رہے ہوتے، ہمیں پہلے 1971 میں دھکے دے کر نکالا گیا، پھر 1999 میں نکال دیا گیا، حالانکہ 1971 میں تو میں سیاست میں بھی نہیں تھا. ہم خوشی سے بیرون ملک نہیں گئے، میرے بچے باہر جا کر کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے، ہمارے خلاف کرپشن یا کک بیک کا کوئی ثبوت نہیں ہے، بچوں کے کاروبار سے متعلق سرکاری رقم کی خرد برد نہیں کی، میں خود سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میرے خلاف یہ کیا ہے؟.

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments