جنرل راحیل شریف نے عمران خان اور شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کو مذاکرات کے لیے بلایا

عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انہیں چاہئیے تھا کہ اپنے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہر القادری کو بلا کر صدرِ پاکستان بنا دیتے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 11:14

جنرل راحیل شریف نے عمران خان اور شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 ستمبر 2019ء) : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تو معروف صحافی ، تجزیہ کار و کالم نگار سہیل وڑائچ نے کہا کہ نادرِ روزگار شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا سیاست سے الگ ہونا ایک قومی اور بین الاقوامی المیہ ہے ۔ اس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2002ء میں جب لاہور کے غیور عوام نے شیخ الاسلام کو براہِ راست منتخب کر کے پارلیمان میں بھیجا، اگر ہماری قسمت میں کچھ اچھا لکھا ہوتا تو اس وقت ہم ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز جیسے لوگوں کو آگے لانے کے بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کو موقع دیتے مگر شومئی قسمت آمر جنرل پرویز مشرف لوگوں کو پہچاننے کا ملکہ نہیں رکھتے تھے۔

(جاری ہے)

جنرل مشرف کی اس فاش غلطی نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ آج اس ملک کے سب سے ٹیلنٹڈ شخص کو سیاست سے ریٹائر ہونا پڑا اور وہ بھی کسی عہدے پر آ کر ملک کی خدمت کیے بغیر۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے لیے دوسرا موقع 2018ء کے انتخابات کے بعد آیا، عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انہیں چاہئیے تھا کہ اپنے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہر القادری کو بلا کر صدرِ پاکستان بنا دیتے۔ خان صاحب کے دھرنے میں جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری ثابت قدم رہے تھے اس کا کم از کم تقاضا یہ تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے تجربے، علم اور فلسفے سے فائدہ اٹھایا جاتا مگر افسوس کہ اس قوم کی قسمت میں یاوری نہیں لکھی تھی وگرنہ آج عمران خان کی حکومت نہ معاشی جھمیلوں میں گرفتار ہوتی اور نہ اس کو گورننس کا مسئلہ درپیش ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب معاشی مسائل کے حل پر کئی کتب کے مصنف ہیں، وہ چٹکی بجانے سے بھی کم عرصے میں ان گھمبیر مسائل کا حل نکال سکتے ہیں اور جہاں تک گورننس کا تعلق ہے تو اس کا بہترین ماڈل تو وہ بنا کر دکھا چکے ہیں، جس طرح دنیا میں منہاج القرآن کا نیٹ ورک ہے اگر اسی کی نقل میں گورننس ماڈل بن جائے تو پاکستان دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے۔

صد افسوس کہ یہ موقع بھی ضائع کر دیا گیا۔ تیسرا موقع تب تھا جب دھرنے عروج پر تھے، جنرل راحیل شریف نے عمران خان اور شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کو مذاکرات کے لئے بلایا۔ کاش جب ڈاکٹر طاہر القادری اور جنرل راحیل شریف کی کئی گھنٹوں طویل ملاقات ہو رہی تھی عین اسی وقت اقتدار کا دروازہ کھول دیا جاتا اور آج ہم ویرانے میں بھٹک نہ رہے ہوتے، پاکستان آج اپنی منزل کی طرف تیزی سے رواں دواں ہوتا۔

نقصان سراسر ہمارا ہے، ڈاکٹر طاہر القادری تو ہمہ جہت ہیں وہ دینی خدمات پر توجہ دے لیں گے، مذہبی سرگرمیاں بڑھا لیں گے، تفسیر و ترجمہ اور تنظیم پر وقت صرف کر لیں گے مگر ہمارا کیا بنے گا، ہمارے پاس سیاست میں ایک ہی عبقری شخصیت تھی ہم اچانک اس سے محروم ہو گئے، اب یہ خلا صدیوں پورا نہ ہو سکے گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments