ابھی نندن کے بیان پر ایاز صادق معافی مانگے، اس سے کم پر بات نہیں ہوگی، شبلی فراز

بلاول بھٹو، مریم نواز یا مولانا فضل الرحمن جیسی مرکزی قیادت نے بیان کی مذمت نہیں کی،قوم پی ڈی ایم سے حساب لے گی ،وزیراطلاعات ایک عدالتی مفرور ملکی اداروں پر گولا باری کررہا ہے ، قائد کے مزار کی بے حرمتی کی گئی، یہ لوگ ذاتی مفادات کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں،نوازشریف کو واپس لائیں گے ان سے پیسے بھی نکالیں گے ،پریس کانفرنس

جمعرات اکتوبر 19:01

ابھی نندن کے بیان پر ایاز صادق معافی مانگے، اس سے کم پر بات نہیں ہوگی، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے ابھی نندن کے بیان پر قوم ایاز صادق اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ای) سے حساب لے گی ،ہم چاہتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر معافی مانگے اس سے کم پر بات نہیں ہوگی۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ اس ملک میں دہشت گردی کون کرواتا ہے اور کلبھوشن کہاں سے پکڑا جاتا ہے سب جانتے ہیں اور ایسی جگہ پر اس قسم کی بات کرنے والا خود آکر وضاحت کرتا ہے جبکہ بلاول بھٹو، مریم نواز یا مولانا فضل الرحمٰن جیسی مرکزی قیادت نے اس بیان کی مذمت نہیں کی۔

انہوںنے کہاکہ یہ بات یہی پر ختم نہیں ہوئی بلکہ عوام ان باتوں پر سوچ رہے تھے کہ کیا ہورہا ہے جب کورونا کے باوجود ہماری حکومت کی بہتر حکمت علی کی وجہ سے بہتری جانب گامزن ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک کے خلاف مختلف سازشیں ہورہی ہیں اس دوران ان کے ایک لیڈر جو قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور مسلم لیگ (ن) سے وابستگی ہے اورا نہوں نے سو فیصد دشمن کو خوش کرنے کے لیے بات کی۔

انہوںنے کہاکہ بھارت کے چینلوں میں شادیانے بجائے جارہے ہیں، ایک ذمہ دار شخص نے ایسی بات کی اور ثابت کیا کہ وہ اس کے منصب کے اہل نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کی گرفتاری کا واقعہ ہوا تو بھارت کے دفاع کی قلعی کھل گئی تاہم ہم نے ذمہ دار ریاست کے طور پر وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ ابھی نندن کو واپس کیا جائے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اس فیصلے سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوا اور اس بہترین فیصلے کی پذیرائی عالمی سطح پر ہوئی جبکہ ہمارے دشمن بھارت کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور اس شکست سے بچنے کے لیے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے تو ایسا نہیں ہوتا۔

اپوزیشن کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی فتح کو شکست میں تبدیل کرتے ہیں اور آپ نے تصدیق کردی ہے جو ہم کہتے تھے کہ دشمن کے بیانیے کو تقویت پہنچاتے ہیں اور بیانات سے لگتا ہے کہ اداروں پر حملہ کرتے ہیں اور فوج میں تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور آج آئی ایس پی آر نے وضاحت بھی کردی اور کہا کہ بھارتی جنگی قیدی ابھی نندن کی رہائی ریاست کے ذمہ دارانہ قدم کے سوال کسی اور بات سے جوڑنا افسوس ناک اور گمراہ کن ہے۔

انہوںنے کہاکہ ذاتی مفاد حاصل کرنے کے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اداروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اس کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان کی سیاست قومی مفادات کے گرد گھومے گی جبکہ ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہوگی جو اپوزیشن کا ایجنڈا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کے بیان پر قوم ایاز صادق سے حساب لے گی اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر معافی مانگے اور اسی طرح پی ڈی ایم کی قیادت بھی ندامت اور مذمت کرکے پاکستان کے عوام معافی مانگے کیونکہ ہم اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔

شبلی فراز نے کہا کہ کوئٹہ میں جو بیان دیا گیا اور لندن سے تقریر کی گئی وہ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے، اگر پی ڈی ایم کی قیادت نے پارلیمنٹ میں معافی مانگی تو پھر ٹھیک ہے ورنہ قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے پھر یہ نہیں ہوگا کہ سیاسی مخالفت میں ایسا ہو رہا ہے کیونکہ انہوں نے خود کو ایکسپوز کر دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ انہوں نے خود اپنی اصلیت بتادی ہے کہ یہ لوگ ذاتی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ ہم اس کو آسانی سے برداشت نہیں کریں گے، نہ پاکستان کے عوام برداشت کریں گے اور انہیں معافی مانگنی پڑے گی اس سے کم پر بات نہیں ہوگی جبکہ دیگر باتیں بعد میں دیکھی جائیں گی۔

انہوںنے کہاکہ ایک عدالتی مفرور ملکی اداروں پر گولا باری کررہا ہے اور قائد کے مزار کی بے حرمتی کی گئی۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے جو ڈرامہ رچایا جارہا ہے وہ عوام کے لیے نہیں ہے،بنیادی مقصد سینیٹ کا انتخابات ہے،انشاء اللہ سینیٹ کے الیکشن بھی ہوں گے۔ انہوںنے کہاکہ تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف کو واپس لائیں گے ان سے پیسے نکالنے ہیں

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments