نواز شریف کے خلاف سیاسی کیس نہیں ہے، عدالت نے بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے پر سزا سنائی ہے، سابق وزیراعظم کو برطانیہ سے واپس لایا جا سکتا ہے، ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری وصول نہ کرنا توہین عدالت ہے، حکومت نواز شریف کی واپسی کیلئے سفارتی تعلقات اور برطانوی عدالتوں سے رجوع کرے گی، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

جمعرات اکتوبر 01:01

اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف سیاسی کیس نہیں ہے، عدالت نے بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے پر انہیں سزا سنائی ہوئی ہے اس لئے سابق وزیراعظم کو برطانیہ سے واپس لایا جا سکتا ہے، نواز شریف کے خلاف عدالت کی طرف سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری وصول نہیں کئے گئے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، نواز شریف کو چاہیے کہ فوراً واپس آ جائیں، حکومت انہیں واپس لانے کیلئے تمام تر سفارتی تعلقات اور برطانوی عدالتوں سے رجوع کرے گی۔

بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی برہمی درست ہے، نواز شریف کے علاج کیلئے بیرون ملک جانے میں صرف حکومتی احکامات شامل نہیں تھے بلکہ لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے بھی احکامات تھے۔

(جاری ہے)

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدالت نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا تھا، جسٹس ثاقت نثار کا فیصلہ تھا کہ نواز شریف پارٹی کی قیادت نہیں کر سکتے، ن لیگی رہنمائوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ سابق وزیراعظم کو پارٹی سربراہ ماننے والے بھی توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ برطانوی عدالتیں پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کی قدر کرتی ہیں، توہین عدالت کے معاملے پر برطانوی عدالتوں میں ردعمل آتا ہے اور نواز شریف برطانوی عدالت کے سامنے کوئی بہانہ نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم اور نواز شریف کے کیس میں فرق ہے، نواز شریف کے خلاف پاکستانی عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں، ابھی بھی ان کے خلاف مقدمات چل رہی ہے جبکہ بانی ایم کیو ایم کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں کوئی کیس نہیں تھا تاہم عمران فاروق قتل کیس فیصلے کے بعد بانی ایم کیو ایم کیلئے برطانیہ میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ یا تو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس میں گڑبڑ کی گئیں یا تو وہ واقعی بیمار تھے اور لندن جانے کے بعد صحت مند ہو گئے ہیں، شہباز شریف نے ان کے واپس آنے کے حوالے سے ضمانت دی تھی، نواز شریف کے سفر کرنے کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے، امید ہے کہ نواز شریف عدالتی احکامات کی پابندی کریں گے، نواز شریف کو چاہیے کہ فوراً ملک واپس آ جائیں، حکومت انہیں واپس لانے کیلئے سفارتی تعلقات استعمال کرنے کے علاوہ برطانوی عدالتوں سے رجوع کر سکتی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments