یپلزپارٹی کا جلسہ عوامی نہیں سرکاری ملازمین کا جلسہ تھا ،حلیم عادل شیخ

سندھ بھر میں ہر ٹی ایم ایز کو کہا گیا 100 گاڑیاں کرکے دی جائیں ان کا خرچہ کیا جائے ایم پی ایز اور عہدیداروں کو بندے لانے کا ٹاسک دیا گیا جبکہ بریانی کا ٹھیکہ کسی اور شخص کے حوالے کیا گیا،قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی

پیر 18 اکتوبر 2021 21:48

یپلزپارٹی کا جلسہ عوامی نہیں سرکاری ملازمین کا جلسہ تھا ،حلیم عادل شیخ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 اکتوبر2021ء) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا کہ گذشتہ روز پیپلزپارٹی کا جلسہ عوامی نہیں 1سرکاری ملازمین کا جلسہ تھا سندھ بھر میں ہر ٹی ایم ایز کو کہا گیا کہ 100 گاڑیاں کرکے دی جائیں ان کا خرچہ کیا جائے جبکہ ایم پی ایز اور عہدیداروں کو بندے لانے کا ٹاسک دیا گیا جبکہ بریانی کا ٹھیکہ کسی اور شخص کے حوالے کیا گیا بلاول اور مراد علی شاہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں انہوں نے بھٹو کی جماعت کو سرکاری ملازمین کی جماعت بنادیا ہے سندھ کے معاشی دہشتگرد شہید بھٹو کی جماعت کے وارث نہیں بن سکتے موجودہ پیپلزپارٹی بی بی اور شہدائ کارساز کے لہو کی سوداگر ہے موجودہ پیپلزپارٹی بنارسی ٹھگوں کی جماعت ہے ۔

(جاری ہے)

وہ سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کررہے تھے پریس کانفرنس میں رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی، جاوید اعوان، ایڈووکیٹ تنویر زیدی اور دیگر بھی موجود تھے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ کل جلسے میں کورنگی اورنگی ویسٹ ایسٹ کیاماڑی لیاری سے عوام نے شرکت نہیں کی رجیکٹڈ شخص کو کراچی کی عوام نے بھی ایک بار پھر رجیکٹ کردیا ہے سرکاری وسائل بھرپور نمونے سے استعمال کیے گئے پیپلزپارٹی کو کراچی پر سیاسی طور قبضہ کرنے کا شوق ہے بلاول صاحب کراچی پر قبضہ دلوں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے بریانی کے بلوں کے ذریعے نہیں کل جلسے میں سب نے خالی کرسیاں اور خالی گاڑیاں دیکھی شہدائ کارساز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان شہدائ کو پیپلزپارٹی نے نظرانداز کردیا ہے ان کے گھروں میں فاقہ کشی چل رہی ہے 18 اکتوبر کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے کل کے جلسے میں شہدائ کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائ بلال بھنگڑے ڈال رہے تھے بلاول زرداری بتائیں 13 سال سے ان کی حکومت ہے محترمہ کے قاتل ان شہدائ کے قاتل کیوں گرفتار نہیں ہوئے لوگ جانتے ہیں کہ اب اصلی بھٹو نہیں رہے اسی لیے لوگ اب آپ سے نفرت کرتے ہیں کل مزار قائد پر زیادہ لوگ تھیا ور جلسے میں لوگ نہیں تھے کل پیپلزپارٹی کے جھنڈے اٹھائے ہوئے لوگ سی ویو پر گھوم رہے تھے بلاول زرداری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اداروں کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں بلاول صاحب ٹائیگر نشان ہے ہمت بھادری جرات مندی کا گیدڑ اور ٹائیگر میں فرق ہوتا ہے جب پیپلزپارٹی کے گیدڑوں کی حکومت تھی تو اس وقت 360 ڈرون حملے ہوئے لوگ مارے گئے لیکن آج ایک ٹائیگر کی حکومت ہے جو ملک مخالف قوتوں سے ہمت سے بات کرتا ہے اینٹ سے اینٹ بجانے کی باتیں کرنے والوں کی ایسی اینٹ بجی کے ان کی آج تک دوڑیں لگی ہوئی ہیں پیپلزپارٹی کے گیدڑوں کی حکومت میں اداروں کو کمزور کیا گیا انہوں نے کہا کہ سندھ میں پولیس گردی جاری ہے 2018 میں پیپلزپارٹی کا پیک دور تھا آج صرف 13 سیٹوں کا فرق ہے ہم سندھ میں حکومت بنانے کے نزدیک ہیں پیٹرول کی قیمتیں انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق کم زیادہ ہوتی ہیں لیکن بلاول بتائیں سندھ میں آٹا سبزیاں دیگراشیائ کیوں مہنگی ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے بلاول سے کل سوالات پوچھے تھے ان کا جواب ابھی تک نہیں ملا بلاول صاحب اپنے درباریوں کو ہی کہہ دیں وہ ہمیں جواب دے دیں اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی نے کہا کہ ہم نے سوچا تھا کہ شاید کل کے جلسے میں پیپلزپارٹی اپنی 13 سالہ کارکردگی بیان کرے گی لیکن سوائ عمران خان پر تنقید کے جلسے میں اور کچھ نہیں تھا سندھ حکومت اگر ترقی کررہی ہے تو صرف منیشات فروشی اور شراب خانوں میں منشیات کا گراف روزبروز اوپر کی طرف جارہا ہے سندھ میں تمام ادارے تباہ ہوچکے ہیں روز نئے اسکینڈل سامنے آرہے ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments