جماعت اسلامی کے تحت بلدیاتی قانون کے خلاف اسمبلی کے باہر دھرنا پچیس دن گزرنے کے باوجود شرکاء کا جوش و خروش اور حوصلہ بدستور برقرار

سڑک پر ٹریفک بلاک ،شرکاء کے بلدیاتی قانون اور کراچی میں با اختیار شہری حکومت سمیت دیگر مطالبات کے حق میں پرجوش نعرے

منگل 25 جنوری 2022 00:17

!کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 جنوری2022ء) جماعت اسلامی کے تحت کالے بلدیاتی قانون کے خلاف اسمبلی کے باہر دھرنا پچیس دن گزرنے کے باوجود شرکاء کا جوش و خروش اور حوصلہ بدستور برقرار ہے ، گزشتہ روز دھرنے میں شہر بھر سے عام عوام ، سیاسی، سماجی،مزدور تنظیموں کے علاوہ اساتذہ کے نمائند ہ وفود شریک ہوتے رہے ۔ علاو ہ ازیں رکن سندھ اسمبلی و امیر ضلع جنوبی سید عبد الرشید کی قیادت میں سینکڑوںافراد نے ٹاورپر بھی دھرنا دیا جس کے باعث سڑک پر ٹریفک بلاک ہو گیا ۔

دھرنے کے شرکاء نے کالے بلدیاتی قانون اور کراچی میں با اختیار شہری حکومت سمیت دیگر مطالبات کے حق میں پرجوش نعرے لگائے ۔ بعد ازاں دھرنے کے شرکاء مرکزی دھرنے گاہ سندھ اسمبلی پہنچے ۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکاء ، وفود اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کا پچیسواں دن ہے،ان دنوں میں لوگ بڑے پیمانے پر شریک ہوئے،ہمارے جلسے میں عوام نے ہمارا بڑا ساتھ دیا،بدھ 26جنوری کو شہر کے پانچ اہم مقامات پر دھرنا دینگے،ہم دھرنوں میں صرف ایمبولینسز کو راستہ دینگے،ہم سیکریٹریٹ کو بند کرنے کا آپشن رکھتے ہیں،پی پی کھاد اور یوریا کی قلت اور ہاریوں کے حق میں ریلی نکال رہی ہے، ہم سندھ حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ وہ بتائے کیا وہ ہاریوں کو طے شدہ پچیس ہزار روپے اجرت دے رے ہیں یوسیز کا ماہانہ پانچ لاکھ روپے فنڈ ناکافی ہے، ہم حکمرانوں سے پوچھتے ہیں کہ کراچی کو یہ کیا خیرات دے رہے ہو یہ شہر پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے، صوبائی حکومت اگر چیزوں کو ٹھیک کرنا چاہتی ہے تو اس کی ابتداء بلدیاتی قانون کے درست کر کے شروع کرے اور اس کے لیے سب سے پہلے بلدیاتی قانون کو کا لعدم قرار دیا جائے،ٹرانسپورٹ سمیت ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کو شہری انتظامیہ کے ماتحت ہونا چاہیے،آج سندھ میں تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ دیہاتوں میں اسکول وڈیروں کی اوطاقیں بنی ہوئی ہیں،اسکولوں کے ٹیچرز اسٹاف کی ٹریننگ کاسرے سے کوئی انتظام نہیں ہے ،شہر میں ایک جانب ٹرانسپورٹ کا پورا نظام تباہ ہے دوسری طرف گرین لائن ابھی تک ادھورا منصوبہ ہے،سندھ حکومت نے دو کلو میٹر کا اورینج لائن منصوبہ تاحال مکمل نہیں کیا،پی ایف سی ایوارڈ13 سالوں سے نہیں بنایا جا رہا ،کراچی کو صرف مال بنانے ذریعہ بنالیا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

بلدیاتی اداروں پر مزید قبضہ کر کے رہی سہی کسر بھی پوری کردی گئی ہے ۔ ہیلتھ اور تعلیم کے اداروں پر سندھ حکومت نے قبضہ کر لیا،ہارٹ ڈیزیز کے ادارے پر بھی قبضہ کر لیا گیا، آئی ٹی منسٹر ایم کیو ایم سے ہیں بتائیں وہ کراچی کے لیے کیا کر رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کے خلاف احتجا ج کررہی ہے اور سعید غنی خاصخیلی ہم کوسمجھا رہے ہیں کہ عوام کو گیس چاہیئے بلدیاتی نظام نہیں ،سعید غنی خاصخیلی وفاقی حکومت کی نااہلی کے پیچھے اپنی نااہلی، کرپشن اور سندھ حکومت کے آمرانہ اور غاصبانہ طرز عمل کو چھپانے کی کوشش نہ کریں ،عوا م کو صرف گیس نہیں بجلی ،پانی ،صفائی ستھرائی ،اچھی سڑکیں ،صحت ، تعلیم ،اسکول،کالجز،تعلیمی ادارے ،اسپتال اور بنیادی مسائل کا حل بھی چاہیئے ۔

آپ اپنے حصے کا کام اور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور عوام کو دھوکا دینا چاہتے ہیں ،عوام کے بہت سے مسائل بلدیاتی نظام سے متعلق ہے سندھ حکومت نے نہ صرف کالے بلدیاتی قانون کے زریعے شہری اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہے ۔بلدیاتی اختیارات سلب کیے ہیں بلکہ کراچی کے ساتھ مسلسل ظلم و زیادتی اور حق تلفی کا رویہ اختیار کررکھا ہے ۔کراچی سندھ کو 95فیصد تک ریونیو دیتا ہے مگر سندھ حکومت صوبائی بجٹ میں محض چند فیصد کراچی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے رکھتی ہے ۔

پیپلزپارٹی 14سال سے سندھ پر حکمران ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے بلدیاتی اداروں کوبھی اپنے کنڑول میں کرلیا ہے لیکن کراچی کی جو حالت زار ہے وہ سب کے سامنے ہے ،عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ،شہر میں سرکاری سطح پر ٹرانسپورٹ کا عملاً کوئی نظام موجود نہیں ،سڑکوں کا برا حال ہے ،اہل کراچی کے مسائل کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں ، دھرنے میں ایک سیشن اساتذہ کا بھی ہواجس میں نجی اسکولوں کے اساتذہ نے شرکت کی دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کیا، اساتذہ نے اردو ،انگریزی اور سندھی میں تعلیمی مسائل تقاریر کیں ۔

امیر ضلع شمالی محمد یوسف نے اساتذہ کاخیر مقدم کیا اور خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کرام کا شکریہ ادا کیا کہ جماعت اسلامی صرف اہل کراچی ہی نہیں سندھ بھر کے مظلوم و محکوم عوام کی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے ، ہمارا دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا ، دھرنے کا پیغام اندورن سندھ کے عوام کو دڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف متحد اور بیدار کررہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اندرون سندھ کے ہاری کسان اور جاگیرداروں کے خلاف بغاوت کریں گے۔

دھرنے میں سینئرصحافی و کالم نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان ، سابق سیکریٹری پریس کلب ارمان صابر و دیگر صحافیوں نے بھی شرکت کی ۔دھرنے سے سیکریٹری کراچی منعم ظفر ،رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید ، سابق رکن صوبائی اسمبلی یونس بارائی ، سیکریٹری ضلع غربی ڈاکٹر نور الحق ، سابق نائب امیر ضلع وسطی محمد احمد قاری ، کنٹونمنٹ کونسلر ابن الحسن ہاشمی اور بدین سے آنے والے اسد اللہ نے بھی خطاب کیا

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments