بھارت کی طرف سے بات چیت کی پیشکش مستردکئے جانے کے بعد بین الاقوامی برادری سے رجوع کیاجائے ‘جماعت اسلامی

قبائل کو احساس محرومی سے نکال کر انہیں عدالتی نظام دیاجائے جوکہ دستور کاتقاضا بھی ہے‘مجلس شوریٰ کی قرار دادوں میں مطالبہ

ہفتہ جنوری 23:12

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2019ء) جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیاہے کہ وزیراعظم پاکستان کی بات چیت کی پیشکش کوبھارت کی طرف سے مستردکئے جانے کے بعد بین الاقوامی برادری سے رجوع کیاجائے ،اب وقت آگیا ہے کہ شملہ معاہدہ جس کی بھارت بارہا مرتبہ خلاف ورزی کر چکا ہے کو مسترد کرتے ہوئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایاجائے نیز او آئی سی کا سربراہی یا وزراء خارجہ کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کرتے ہوئے بھارت پر مؤثر سفارتی دبائو بڑھانے کے لیے لائحہ عمل طے کیاجائے ۔

اجلاس حکومت پاکستان کو متوجہ کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت دفاع اور زراعت اور توانائی کے تمام امور مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہیں اس لئے مسئلہ کو ترجیح اول بنایاجائے اس حوالے سے ایک قومی کشمیر کانفرنس کا اہتمام کیاجائے نیز ایک ہمہ وقتی نائب وزیر خارجہ مقرر کیاجائے جو مسئلہ کشمیر پر فوکس رکھے ۔

(جاری ہے)

مرکزی مجلس شوریٰ نے یہ مطالبہ اپنے حالیہ اجلاس میں ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے کیا ۔

اجلاس کی صدارت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کی۔قرار داد میں کہاگیاہے کہ ریاست کے آزاد حصے آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان تحریک آزادی کا بطور بیس کیمپ ایک اثاثہ ہیں، اس لئے اس بیس کیمپ کو فعال و متحرک بنانے کے لئے آئینی لحاظ سے بااختیار و باوسائل بنایاجائے ۔دونوں خطوںکو تعمیر و ترقی کے لئے مزید وسائل دئیے جائیں بالخصوص متاثرین زلزلہ کے 56ارب روپے جو پیپلز پارٹی کے دور میں منتقل کئے گئے انہیں فی الفور واپس کیاجائے تاکہ متاثر ہ تعلیمی ادارے اور دیگر انفراسٹرکچر مکمل ہوسکے۔

اجلاس میں سیز فائر لائن اور ورکنگ بائونڈری سے متصل سول آبادی پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی ہے جس کے نتیجے میں آئے روز سویلین اور فوجی شہید ہو رہے ہیںاور آبادیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے نیز شہداء کے لواحقین ،زخمیوں اور متاثرین کو معقول معاوضہ جات دینے کا فوری اہتمام کیاجائے۔

ایک دوسری قرار داد میں مرکزی شوریٰ نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ حکومت قبائل کو احساس محرومی سے نکال کر انہیں عدالتی نظام دیاجائے جوکہ دستور کاتقاضا بھی ہے ۔بتدریج پولیس نظام کی توسیع کی جائے۔ اسی طرح سالانہ 100ارب روپے دینے کاوعدہ پورا کرکے قبائل میں ترقی کی راہیں کھول دی جائیں ۔ اسی طرح این ایف سی میں تین فیصد دینے کا وعدہ بھی پوراکیاجائے۔

بلدیاتی نظام کے لیے شیڈول کااعلان کیاجائے۔ یونیورسٹیوں ،میڈیکل کالجز اور دیگر اعلیٰ پروفیشنل اداروں کا قیام جلد عمل میں لایاجائے ۔ سکولزاور کالجز کا جال بچھا کر تعلیمی پسماندگی دور کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائل کے تعلیمی اداروں میں تقریباً پانچ ہزار خالی آسامیوں پر تعیناتی کی جائے۔30ہزارلیویزکی بھرتی کاوعدہ پورا کرکے بے روزگاری کے خاتمے اور امن کے قیام میں پیش رفت کی جائے۔ معدنیات اور جنگلات قبائلی عوام کی آمدن کے ذرائع ہیں ۔ ان پر قبائل کے حق کو تسلیم کیاجائے۔ قبائل کی ترقی کے لیے حکومت سنجیدہ کوشش کرے۔ وزیراعظم نے شمالی وزیر ستان کے دورہ کے موقع پر جو اعلانات قبائل کے لیے کیے وہ تاحال عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments