والدین اپنے بچوں کو خسرہ سے بچائو کے حفاظتی ٹیکہ جات ضرور لگوائیں، خواجہ عمران نذیر

منگل 16 اپریل 2024 22:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اپریل2024ء) صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر خواجہ عمران نذیر نے والدین سے بچوں کو خسرہ سے بچائو کے حفاظتی ٹیکہ جات ضرور لگوانے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ موسمی تبدیلی کے باعث پورے ملک میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے اس لئے والدین بچوں کے ویکسینیشن کا کورس مکمل کرنے پر خصوصی توجہ دیں ۔

ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یکم سے 30 اپریل تک پنجاب کے تمام اضلاع میں بچوں کی ویکسینیشن کے لئے خصوصی سرگرمی کا آغاز کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تکنیکی اور مالی تعاون سیاس آوٹ ریچ سرگرمی میں معمول کی ویکسینیشن مکمل کی جارہی ہے، علاہ ازیں نامکمل کورس، ویکسین سے رہ جانے والے بچوں سمیت کوئی بھی خوراک نہ لینے والے بچوں کو بھی ویکسین دی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بڑے شہروں اور دوسرے صوبوں سے متصل اضلاع میں بچوں کی خسرہ کی ویکسین پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ آؤٹ ریچ سرگرمی کے پہلے مرحلہ میں 4585 ویکسی نیٹر، 4585 سوشل موبلائزر اور 338 سپروائزر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات پنجاب ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ موجودہ مرحلہ میں دو سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ضروری ویکسین دی جا رہی ہیں جولائی میں دوسرے مرحلہ کا انعقاد کیا جائیگا جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ویکسین دی جائیگی۔

توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات دو سال تک کے بچوں کو بارہ بیماریوں کی ویکسین مفت فراہم کرتا ہے جو تمام مراکز صحت پر دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو خسرہ سے بچا کی ویکسین کی دو خوراکیں دی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر مختار نے مزید کہا کہ خسرہ کا وائرس تیزی سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بچے کے متاثر ہونے کی صورت میں اسے دوسرے بچوں سے دور رکھیں۔۔ وائرس سانس کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے ۔ والدین غذائی قلت اور کم قوت مدافعت والے بچوں کا خصوصی خیال رکھیں،چھوٹے بچوں کو صرف ماں کا دودھ دیں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

متعلقہ عنوان :

لاہور میں شائع ہونے والی مزید خبریں