ورلڈکپ میں 9چوکے لگانےوالے سرفراز کو ”اے“ کیٹگری ملنے پر سوال کھڑے ہوگئے

گزشتہ سال کے ٹاپ پرفارمر محمد حفیظ سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم،حارث سہیل کو بھی”بی کیٹگری “ ملی

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب بدھ اگست 14:40

ورلڈکپ میں 9چوکے لگانےوالے سرفراز کو ”اے“ کیٹگری ملنے پر سوال کھڑے ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔14 اگست 2019ء) پاکستان کرکٹ بورڈ نے 8 اگست کو سینٹرل کنٹریکٹ 20۔2019 ءکےلئے 19 کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دےکر نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔پی سی بی کے مطابق نیا سینٹرل کنڑیکٹ عجلت میں دینے کی باتیں بے بنیاد ہیں، یہ فیصلہ کرنا اسلئے ضروری تھا کیونکہ جولائی میں شروع ہونےوالا سینٹرل کنٹریکٹ ویسے ہی ایک ماہ تاخیر کا شکار ہو چکا تھاتاہم دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے بغیرسینٹرل کنٹریکٹ کا سامنے آنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، پی سی بی حکام کے مطابق نئی سلیکشن کمیٹی سینٹرل کنٹریکٹ کے ناموں میں اضافہ کر سکتی ہے تاہم سینٹرل کنٹریکٹ کے بارے میں کئی تحفظات سامنے آرہے ہیں۔

سینٹرل کنٹریکٹ کی” اے“ کیٹگری میں یاسر شاہ کو شامل کرنےکی وجہ بتائی گئی کہ ایک سال میں انہوں نے 7 ٹیسٹ میں 38 وکٹیں حاصل کیں، یہ گذشتہ سال پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین باﺅلنگ پرفارمنس ہے، البتہ یاسر کی موجودگی میں قومی ٹیم 7 میں 4ٹیسٹ جیتی نہیں سکی، 33سالہ یاسر شاہ ٹی20 میں قومی ٹیم کےلئے منتخب ہوتے نہیں اور گذشتہ سال 8 ون ڈے میں وہ384رنز دیکر محض 6 وکٹ لے سکے جسکے بعد یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر ان اعدادوشمار پر یاسر شاہ کو ”اے“ کیٹگری مل سکتی ہے تو سابق ٹیسٹ کپتان اظہر علی کو کس بنیاد پر ”بی“کیٹگری میں رکھا گیا۔

(جاری ہے)

34سالہ اظہر علی نے گذشتہ سال ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی۔ انہوں نے گذشتہ سال 9 ٹیسٹ کی 17 اننگز میں ایک سنچری اور 3 نصف سنچریوں کیساتھ 480 رنز بنائے،اظہر علی نے 73 ٹیسٹ میں 43.27 کی اوسط سے 5669 رنز 15سنچریوں کی مدد سے بنا رکھے ہیں۔”اے کیٹگری“ پانےوالے 32 سالہ سرفراز احمد نے ورلڈ کپ کے 8 میچوں میں ایک نصف سنچری کی مدد سے 143 رنز بنائے اور صرف 9 چوکے لگا سکے، گزشتہ سال 34 ون ڈے میں انہوں نے 631 رنز اور 7 ٹیسٹ میں 375 رنز بنائے، سرفراز احمد کیساتھ قومی ٹیم کے ریزرو وکٹ کیپر محمد رضوان نے اس دوران 7ون ڈے کی 6 اننگز میں دو سنچریوں کیساتھ 255 رنز بنائے لیکن انہیں ”سی“ کیٹگری ملی ہے۔

ادھر سینٹرل کنڑیکٹ میں سابق ٹیسٹ کپتان محمد حفیظ جنھوں نے ورلڈ کپ کے 8 میچوں میں ایک مین آف دی میچ کیساتھ 253رنز بنائے،کو شامل نہ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔گزشتہ سال حفیظ نے 18 ون ڈے میں 91 کے سٹرائیک ریٹ کیساتھ 507 رنز بنائے جس کے بعد یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اس کارکردگی کے محمد حفیظ کیسے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں ہو سکتے ؟۔ 30 سالہ مڈل آرڈر بلے باز حارث سہیل نے ورلڈ کپ کے 5 مقابلوں میں 2 نصف سنچریوں کیساتھ 193 رنز بنائے، گذشتہ سال حارث سہیل نے ون ڈے میں 2 سنچریاں بنائیں جبکہ11ٹیسٹ اننگز میں 443 رنز بھی بنا ئے لیکن اسکے باوجود انہیں بھی ”اے کیٹگری “ نہیں مل سکی ۔ 

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/08/2019 - 14:40:57

Your Thoughts and Comments