کرونا وائرس کے سبب ایشیاء کپ اور ٹی20 ورلڈ کپ کو بھی شدید خطرات لاحق

حالات میں بہتری نہ آئی تو کرکٹ مقابلے بھی ملتوی ہوسکتے ہیں: آئی سی سی ترجمان

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب جمعرات مارچ 12:25

کرونا وائرس کے سبب ایشیاء کپ اور ٹی20 ورلڈ کپ کو بھی شدید خطرات لاحق
دبئی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26مارچ2020ء ) ٹوکیو اولمپکس ایک سال کیلئے ملتوی ہونے کے بعد دنیا بھر میں کرکٹ کی بڑی سیریز اور بڑے ٹورنامنٹ بھی شدید مشکلا ت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں ۔ حالات میں بہتری نہ آئی تو کرکٹ مقابلے بھی ملتوی ہوسکتے ہیں۔ آئی سی سی ترجمان نے بتایا کہ ٹیلی کانفرنس 27،28،29مارچ کو ہونا ہے ،اسکا ایجنڈا ابھی طے نہیں ہے اگر اس میٹنگ میں کوئی فیصلہ ہوا تو اس بارے میں میڈیا کو آگاہ کردیا جائے گا۔

آئی سی سی نے اس ٹیلی کانفرنس میں اپنے ڈائریکٹرز کو مختلف معاملات پر اپ ڈیٹ کرنا ہے جبکہ آئی سی سی میٹنگ مئی میں کرانے کا اعلان کیا ہوا ہے ۔کورونا وائرس کی وجہ سے اصل میٹنگ ملتوی کردی گئی ہے۔ مئی میں حالات بہتر ہونے پر میٹنگ ہوگی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاریاں جاری ہیں۔ ستمبر میں ایشیاء کپ ٹی 20 ہونا ہے جب کہ اکتوبر میں آسٹریلیا میں اس کا کوالی فائنگ رائونڈ شروع ہونا ہے۔

24اکتوبر سے آئی سی سی ٹی ٹونٹی کا افتتاحی میچ میزبان آسٹریلیا اور عالمی نمبر ایک پاکستان کے درمیان سڈنی میں شیدول ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے دو ماہ بعد ہالینڈ، آئر لینڈ اور انگلینڈ کا دورہ کرنا ہے کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کے دورے بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ پی سی بی مستقبل کی سیریز اور ٹورنامنٹ کے بارے میں محتاط بیان دے رہا ہے اور اس کا خیال ہے کہ پس پردہ ایشین کرکٹ کونسل اور انٹر نیشنل کرکٹ کونسل تیاریوں میں مصروف ہیں ۔

چند دن پہلے کراچی میں پی ایس ایل کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان کا کہنا تھا کہ اگر جولائی میں جاپان اولمپکس نہ ہوئے توستمبر میں ایشیا کپ اور اکتوبر میں ورلڈ کپ ٹی 20 کو بھی خطرات ہوسکتے ہیں۔ ہم پوری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چار دن پہلے ویڈیو لنک پر پریس کانفرنس میں وسیم خان نے ایک بار پھر اسی خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ایشیا کپ کو شدید خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ایشیا کپ کا میزبان ہے لیکن یہ ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات میں کرانے کی تجویز ہے۔ ہفتے کو وسیم خان نے کہا تھا کہ مستقبل میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورہ آئرلینڈ، ہالینڈ اور انگلینڈ کا انحصار ان ملکوں کے حالات پر ہوگا۔ پاکستان انگلینڈ کی سیریز کا بھی ویسٹ انڈیز میں ہونا غیر فطری ہے۔ اس بارے میں ویسٹ انڈیز بورڈ بھی وضاحت کرچکا ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کا پہلا ٹیسٹ 30 جولائی کو لارڈز میں ہوگا اسلئے اس سیریز کے بارے میں اس مرحلے کوکوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 26/03/2020 - 12:25:06

Your Thoughts and Comments