شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کو ایک ساتھ نہ کھلائیں، سعید اجمل کا مشورہ

وزیراعظم کے ویژن سے متفق مگر روزگار کے مسائل پیدا ہوگئے،زمبابوے کیخلاف نئے ٹیلنٹ کو آزمائیں: سابق آف سپنر

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب بدھ ستمبر 13:16

شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کو ایک ساتھ نہ کھلائیں، سعید اجمل کا مشورہ
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 23 ستمبر 2020ء ) سعید اجمل نے زمبابوے کیخلاف سیریز میں نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کا مشورہ دیدیا۔ ایک انٹرویو میں 42 سالہ سعید اجمل نے کہا کہ زمبابوے سے ہوم سیریز میں ڈومیسٹک کرکٹ کے عمدہ پرفارمرز کو موقع دیا جائے تو مستقبل کیلیے کرکٹرز کی کھیپ تیار کرنے میں مدد ملے گی، عماد وسیم کو آرام دیکر کسی نئے بولر کو موقع دیں، ٹیم میں 50 فیصد سے زائد نوجوان کرکٹرز شامل کیے جائیں، ون ڈے میچز میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو بھی سکواڈ میں شامل کرنا چاہیے۔

اس سے جونیئرز کو سینئرز سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ قومی ٹیم کا دورئہ انگلینڈ شروع ہونے سے قبل مجھ سمیت کئی سابق کرکٹرز نے کہا تھا کہ ہم شاید ایک، آدھ میچ جیت سکیں اور ایسا ہی ہوا، ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے ایک اننگز میں اچھی بولنگ اور بیٹنگ کی، پہلے ٹیسٹ میں جیتنے کا موقع تھا جو ہاتھ سے نکل گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یاسر شاہ اور محمد عباس کے سوا تجربہ کار بولر ہی نہیں تھے۔

(جاری ہے)

سعید اجمل نے کہا کہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں تو نوجوان بولرز چل سکتے ہیں لیکن ٹیسٹ میچز تجربہ کار بولرز ہی جتواتے ہیں،شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ میں سے صرف ایک نوجوان بولر کو شامل کرنا چاہیے، دونوں پیسرزآگے چل کر بہتر ہو جائیںگے، ابھی تو ڈومیسٹک سیزن بھی ایک، ایک ہی کھیلے ہیں، انھوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی سکواڈ متوازن تھا اس لیے پاکستان ایک میچ جیت بھی گیا، مجموعی طور پر دورئہ انگلینڈ میں ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔

ایک سوال پر سعید اجمل نے کہا کہ بیشتر کرکٹرز ڈپارٹمنٹس سے ہی آگے آئے، میں وزیراعظم عمران خان کے ویژن سے متفق ہوں لیکن تبدیلی کا عمل مکمل کرنے کے لیے 2 یا 3 سال دینے چاہیے تھے، کھلاڑیوں کا بہت نقصان ہو گیا، کئی 12 یا 13 سال سے کھیل رہے تھے۔ ریٹائرمنٹ قریب تھی کہ ملازمت چھن گئی،اگر مستقل ملازم کھلاڑیوں کو فارغ نہیں کیا گیا تو انھیں اب ڈیسک پر جا کر کام کرنے کا کہا جا رہا ہے، میرے اندازے کے مطابق 80 فیصد کرکٹرز اب کھیل نہیں رہے یا دلبرداشتہ ہوکر چھوڑنے والے ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مصباح الحق و دیگر نے اگر ڈپارٹمنٹل کرکٹرز کے حق میں بات کرنے کے لیے وزیراعظم اور پیٹرن انچیف پی سی بی سے ملاقات کی تو اس میں کوئی برائی نہیں تھی، سابق کپتان کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے کئی دوست بھی ہیڈکوچ وچیف سلیکٹر کو اپنے مسائل کے بارے میں فون کرتے ہوںگے، میرے خیال میں پی سی بی کو اس ملاقات کا نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/09/2020 - 13:16:18

Your Thoughts and Comments