بچپن کی وہ ایک بات

امرِ واقعہ یہ ہے کہ انسان جو کچھ بھی ہے اپنے اندر واقع ہے -وہ اوروں کو خود پہ قیاس کرتا ہے -اگر وہ خود برا ہے تو دوسروں سے متعلق اس کی رائے بھی بری ہے اور اگر خود اچھا ہے تو اور بھی اسے اچھے معلوم ہوتے ہیں

یاسر شاہ راشدی ہفتہ جون

bachpan k vo aik bat
بچپن میں ہم کسی کی ناشائستہ اور غیرمہذب بات کا ایک شائستہ اور مہذب جواب اس فقرے سے دیا کرتے تھے:''آدمی جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتا ہے -'' کسے خبر تھی کہ یہ معصومانہ، بھولا بھالا،ننھا منا اور سادہ سا جملہ اپنے اندر ایک بڑا فلسفہ رکھتا ہے -اب جب ایک عمر گزر چکی تو معلوم ہوا کہ اس جملے میں، جسے ہم سرسری طور پر کہتے تھے، زندگی کا ایک بڑا راز پوشیدہ ہے بقول مجذوب
 بظاہر یہ ہیں چھوٹی چھوٹی سی باتیں
 جہاں سوز لیکن یہ چنگاریاں ہیں 
 کہیں اس مفہوم کی حکایت ملاحظے سے گزری کہ ایک مرید اپنے مرشد، ایک اللہ والے کے پاس اپنے بگڑے ہوئے دوست کو لایا کرتا تھا، اس امید پر کہ شاید حضرت کی صحبت بابرکت سے کچھ سنور جائے گا -جب ایک زمانہ دوست کونیک مجلسوں میں لاتے،لے جاتے گزر گیا تو مرید نے ایک دن پوچھا:''بھائی! یہ تو بتاؤ ہمارے مرشد تم کو کیسے لگے؟'' تب وہ بولا :''سچ کہوں،جب پہلی بار آیا تھا، تمھارے پیر ایک دم خنزیر معلوم ہوتے تھے،پھر کچھ عرصے بعد یوں لگا کہ کتے ہوں اور آج کل مجھے انسان معلوم ہوتے ہیں - ''یہ باتیں سن کر مرید تو بہت آگ بگولا ہوا مگر ضبط کر گیا ۔

(جاری ہے)

 مرشد کو کشف کے ذریعے اس بات چیت سے اللہ نے آگاہ کر دیا -جب بیان کرنے بیٹھے تو مجمع میں مرید اور ان کے دوست بھی تھے- دوران بیان فرمایا ''صاحبو!ہم نے مجاہدے کر کے اپنے دل کو آئینہ بنا لیا ہے -اب جو شخص ہمارے پاس آتا ہے،ہم میں اپنا ہی عکس دیکھتا ہے- اگر جانور آتا ہے تو ہم میں ایک جانور پاتا ہے،اگر انسان آتا ہے تو ہم میں ایک انسان پاتا ہے -'' بیچارہ مرید کا دوست بہت شرمندہ ہوا اور ممنون بھی کہ حضرت کی صحبت بابرکت نے اسے جانور سے انسان بنا دیا۔

 اپنی مثنوی میں مولانا روم نے ایک حکایت بیان کی ہے کہ ایک حبشی جنگل سے گزر رہا تھا،راہ میں ایک آئینہ زمین پر پڑا پایا،اٹھاکر جو دیکھا تو اس میں اسے اپنا عکس نظر آیا -نہایت غصّہ ہوا اور بولا ایسی کالی رنگت،ایسی موٹی ناک ایسے بھدے ہونٹ،تم تو واقعی اس قابل تھے کہ جنگل میں پھینک دیے جاتے یہ کہہ کر زور سے آئینے کو زمین پر پٹخا -آئینہ تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا -سچ ہے کہ آدمی جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہی اوروں کو سمجھتا ہے۔

 ایک اور حکایت اسی مثنوی میں ہے کہ ایک حکیم نے طوطا پال رکھا تھا جو بھانت بھانت کی بولیاں بولتا، میٹھی میٹھی باتیں کرتا یوں حکیم کا دل بہلا رہتا -ایک دن حکیم صاحب کسی کام سے باہر گئے-جب واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی ایک قیمتی تیل کی بوتل، میاں مٹھو نے لات سے گرا دی ہے،جس سے روغن گر کر ضایع ہو چکا ہے -حکیم صاحب نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ میاں مٹھو کومارے طیش کے، مار مار کے گنجا کر دیا۔

 اب طوطے کو ایک دم چپ لگ گئی -وہ بھانت بھانت کی بولیاں نہ رہیں،وہ میٹھی میٹھی باتیں نہ رہیں -حکیم نے خوب کوششیں کیں، ہر طرح ناز اٹھائے،چوریاں کھلائیں مگر طوطا بھی بول کے نہ دیا -اس سانحے کو کئی ماہ گزر گئے، ایک دن حکیم صاحب کے پاس کوئی گنجا مریض علاج کے لئے آیا - میاں مٹھو نے جو گنجے کو دیکھا فورا چپ شاہ کا روزہ توڑا اور بولا '' ارے گنجے! تم نے بھی حکیم صاحب کی بوتل گرا دی تھی کیا؟ '' حکیم صاحب کی تو مارے خوشی کے باچھیں کھل اٹھیں کہ ان کا پالتو طوطا پھر سے بول اٹھا ۔

 امرِ واقعہ یہ ہے کہ انسان جو کچھ بھی ہے اپنے اندر واقع ہے -وہ اوروں کو خود پہ قیاس کرتا ہے -اگر وہ خود برا ہے تو دوسروں سے متعلق اس کی رائے بھی بری ہے اور اگر خود اچھا ہے تو اور بھی اسے اچھے معلوم ہوتے ہیں,یہاں تک کہ برے آدمی میں بھی وہ کوئی خیر کا پہلو ڈھونڈھ ہی نکالتا ہے -اگر کسی کو دوسرے حاسد نظر آتے ہیں تو سمجھ لیجیے وہ اس مرض سے خوب آشنا ہے -وگرنہ اوروں کی خوشی میں خوش ہونے والے کو کیا خبر کہ حسد کس چڑیا کا نام ہے، جس نے آگ کبھی محسوس نہ کی ہو اسے کیا پتا کہ اس کی جلن کیسی ہے -دوسروں کے متعلق بدگمانی کا گمان بھی بجائے خود ایک بدگمانی ہے ورنہ کسی کے گمان کی کسی کو کیا خبر؟-اسی طرح اوروں کو منافق کہنے والا خودساری علامات نفاق کا مظہر ہوتا ہے، اس کی اوروں سے نفرت بھی در اصل اپنے آپ سے نفرت ہے۔

 ہماری ایک رشتے دار باپردہ خاتون کسی سلسلہء گفتگو میں کہنے لگیں ''فلاں مرد مجھے تاڑتا رہتا ہے -''ہم نے ان سے پوچھا '' آپ کو کیسے پتا چلا کہ کوئی آپ کو تاڑتا ہے؟''کہنے لگیں ''میں نے کئی بار نوٹ کیا '' میں نے پھر پوچھا ''کیسے نوٹ کیا؟'' تلملا کر کہنے لگیں:''ظاہر سی بات ہے دیکھا '' ہم نے بھی کہہ دیا ''یعنی آپ نے یہ تاڑنے کے لئے کہ وہ آپ کو تاڑتا ہے کہ نہیں، کئی بار اسے تاڑا- حساب برابر ہوا، اب اسے کیوں لتاڑا؟-کیا سورہ نور میں مردوں اور عورتوں کو علیحدہ سے حکم نہیں دیا گیا کہ اپنی نگاہیں پست کرو - ''ناراض ہو گئیں۔

 ایک صاحب کتب خانے کے مالک تھے -ان کے کتب خانے میں لوگوں کو بیٹھ کر کتابیں پڑھنے کی تو اجازت تھی مگر کتابیں گھر لے جانے کی سختی سے ممانعت تھی -ایک دن ان کے دوست نے ان سے پوچھا کہ بھائی ماجرا کیا ہے؟،تم لوگوں کو کتابیں گھر لے جا نے کیوں نہیں دیتے کہ پڑھ کے واپس کر دیں؟ -وہ بولے ''بات یہ ہے بھائی کہ اس کتب خانے کی ساری کتابیں دیگر کتب خانوں سے مستعار لی ہوئی ہیں،جو واپس نہیں کی گئیں -اب میں نہیں چاہتا کہ اس روایت کو مزید فروغ دیا جائے اور اس طرح کے دیگر کتب خانے وجودمیں آئیں- ''سچ ہے کہ آدمی جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہی اوروں کو سمجھتا ہے۔

 یہ تو چند حکایات و واقعات ضبط تحریر میں لائے گئے اس فلسفے کی آفاقیت کے باب میں، جو ہمارے بچپن کے یادگار،اس معمولی جملے میں پوشیدہ ہے:''آدمی جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتا ہے - '' اس جملے کی آفاقیت کا ایک بھیانک رخ یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے جیسا لوگوں کو سمجھتے سمجھتے اللہ کو بھی خود پر قیاس کر بیٹھے -یعنی وہ تباہی جس کی ابتدا لوگوں سے بدگمان ہوکر ہوئی اللہ سے بدگمان ہو کر اپنی انتہا تک پہنچی مَثَلاً اگر کوئی کینہ پرور ہے،لوگوں کی غلطیاں معاف کرنے کے بجائے ان سے انتقام لینے کے درپے رہتا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ اللہ کو بھی خود پر قیاس کربیٹھتا ہے اور توبہ سے محروم رہتا ہے - حالانکہ بیوقوف کو خبر نہیں کہ انسان کو انسان کی غلطی سے نقصان پہنچتا ہے،اس لیے انسان کو دوسرے انسان کو معاف کرنے میں کچھ مشکل ہوتی ہے مگر اللہ کو ہمارے گناہوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا -گناہ کر کے دراصل ہم خود پر ہی ظلم کرتے ہیں -وہ قادر مطلق غفّار ذات تو ہماری توبہ کی منتظر ہے چاہے ہم نے زمین و آسمان ہی گناہوں سے کیوں نہ بھر دیے ہوں - ادھر سچی توبہ کی، ادھر سب کچا چٹھا صاف، یہاں تک کہ فرشتوں سے بھی بھلوا دیا ۔

 علی ھذا القیاس بدگمانی بھی ایک گھناؤنا مرض ہے جو قنوطیت کی طرف لے جاتا ہے -ایسا آدمی ہر شخص، ہر چیز اور ہر بات کا منفی پہلو دیکھتے دیکھتے آخرِ کار اللہ سے امید کھو بیٹھتا ہے اور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کیونکہ ایمان تو نام ہی ایک ایسی کیفیت کا ہے جو اللہ سے خوف و امید کے بین بین ہو -بدگمانی کے لاعلاج مریض کو مرتے وقت یہ بد اعتقادی گھیر لیتی ہے کہ وہ بدبخت ہے اور اللہ نے اسے پیدا ہی دوزخ کے لیے کیا ہے- نتیجہ یہ کہ اپنا خاتمہ ہی خراب کر دیتا ہے ''کیا جی کے پایا، اپنی ہی مٹی پلید کی'' - حالانکہ بیوقوف کو خبر نہ تھی کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں:
 اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ قدر شناس ہے خوب جاننے والا ہے
 (سورہ نساء)
 حاصلِ کلام یہ کہ اللہ اللہ لگے، انسان انسان دکھے ،نیز کائنات کی ہر چیز ایسی لگے جیسی کہ وہ ہے،اس کے لیے آئینہِ دل کی صفائی و صیقل کا کام نہایت ضروری ہے- اسی کام کو قرآن میں تزکیہ سے تعبیر کیا گیا اور فلاح کے لیے لازم قرار دیا گیا، یہی تزکیہ رحمت للعالمین ﷺکی بعثت کا ایک مقصد بھی ہے - آئینہِ دل کی صفائی کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اللہ کی معرفت جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اسی پر موقوف ہے -آئینہِ دل اگر گدلا ہے تو معرفتِ الہیہ کا انعکاس بھی صاف ستھرا اور درست نہیں ہو سکتا -کیا خوب فرمایا مجذوب نے
 دل گلستاں تھا تو ہر شے سے ٹپکتی تھی بہار
 دل بیاباں ہوگیا عالم بیاباں ہوگیا

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

bachpan k vo aik bat is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 June 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.