یورپ نقل مکانی کرنیواے پناہ گزین

ان کی مشکلات مزید بڑھ چکی ہیں

بدھ جنوری

Europe Naqal Makani Karnay Wlay Panah Gazeen
Serene Assir:
مشرقی وسطی کے کئی ممالک میں خانہ جنگی کی وجہ سے حالات بدترین اختیارکرچکے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کویورپی ممالک کی جانب ہجرت کرناپڑی۔ ان میں شام، عراق، لبنان اور مصرسب سے زیادہ متاثر ہونیو الے ممالک ہیں۔ یورپ جانیوالے افراد کیلئے وہاں حالات زیادہ سازگارنہیں ہیں۔ خاص طور پر پیرس حملوں کے بعد مسلم پناہ گزینوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

یورپ نقل مکانی کرنیوالے میں عراق کے 27سالہ احمد کی فیملی بھی شامل ہے۔ان کے سات ماہ کے بیٹے آدم کی راتیں یورپ کے کیمپ میں انتہائی بے چینی میں گزرتی ہیں۔وہ دیگر600فیملیزکے ساتھ جنوبی نیدرلینڈکے کیمپوں میں رہائش پذیرہے۔ ان کے ساتھ کمرے میں دوعراقی فیملیزبھی مقیم ہے۔ اس کیمپ کانہ توکوئی دروازہ نہ چھت ہے۔

صبح7بجے سورج کی روشنی رہتا۔

ا ن مشکلات کوالفاظ میں بیان کرناممکن نہیں ہے۔ یہ بات آدم کے 27سالہ باپ احمدنے کہی۔ اس کیمپ میں ان کی مثال اس پرندے کی ہے جیسے پنجرے میں قیدکردیاگیا ہوحالانکہ عراق کی خانہ جنگی نے احمداور اس کی 26سالہ اہلیہ علیہ کواپنے ساتھ ماہ کے بیٹے کے ہمراہ یورپ نقل مکانی پرمجبورکردیا۔ اس نقل مکانی کے پیچھے آدم کوبہتر مستقبل مہیاکرناتھا۔ بیٹے کی خاطر خطرات مول لیکریورپ جانے کا فیصلہ کیامگر یہاں آکرانہیں سخت مشکلات کاسامناہے۔

آدم کے بھرپورقہقے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مماپاپاکہناان کیلئے ایک خوشگوار تجربہ ہے جسے سے انہیں زندہ رہنے کی تحریک ملتی ہے۔ ان کے ساتھ رہائش پذیرفیملیزبھی آدم سے بے حد محبت کرتی ہیں اور وہ ان کی آنکھ کاتارابن چکاہے۔ عراقی نوجوان احمد کی بغدادمیں گارمنٹس کی دکان تھی جہاں سے وہ اچھی خاصی آمدنی کمالیتا تھا۔ اب دیگر پناہ گزینوں کی طرح اسے بھی بلیوبریسلٹ پہن کرکیمپ سے باہرجاناپڑتاہے تاکہ اپنی پناہ گزین کی شناخت برقراررکھ سکے۔

یہاں ان کیلئے سب اچھانہیں ہے کیونکہ ان کے پاس ورک پرمٹ نہیں ہے۔ اس کامزیدکہناہے کہ ہالینڈمیں ریکارڈتعدادمیں پناہ گزین رہائش کی تلاش میں ہیں۔ وہ ابھی تک اس خوف سے چھٹکارانہیں پاسکے کہ ڈچ حکام انہیں واپس عراق نہ بھجوادیں۔ پیرس دہشت گردی کے بعد یورپی ممالک کے رویہ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے ڈچ انہیں پبلک مقامات پرخوش آمدیدکہتے تھے اور ہیلوکہہ کربلاتے تھے مگراب ایساکچھ نہیں ہے۔

ہزاروں پناہ گزینوں کی یورپی حکام نے سپورٹس ہاسٹلراور شہری عمارتوں میں رکھاہواہے۔ رواں سال لگ بھگ دس لاکھ پریشان حال پناہ گزین یورپ کے ساحلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں احمد اور علیہ بھی شامل ہیں جو2014ء میں بغدادمیں ہونیوالے ایک بم دھماکے میں بال بال بچے تھے۔ گزشتہ موسم سرمامیں انہوں نے بھی تمام خطرات مول لیکرایجن سمندرپارکرنے کافیصلہ کیا۔

انتہائی نامساعدہ حالات میں وہ ہالینڈ پہنچے۔ انہیں بالکن ممالک میں نامساعد حالات میں غیرہموارزمین پرسونا پڑتا۔انہیں اپنی زندگی بھرکی پونجی9ہزاریوروانسانی سمگلرون کودیکریورپ میں بہتر زندگی گزارنے کیلئے یورپ آناپڑا۔ ان کی منزل ہالینڈتھی۔ یہاں یوٹریچ میں ان کی فیملی رہائش پذیرہے۔ اس سے پہلے انہیں سیٹورن قصبے میں رہنا پڑا جس کی آبادی 100.000نفوس پر مشتمل تھی۔ وہ یہاں 16اکتوبرکو پہنچے۔ یہاں ان کانام پناہ گزینوں کی فہرست میں درج ہونے میں پانچ ہفتے لگے۔اس دوران انہیں یہ محسوس ہوا کہ جیسے ڈچ انہیں کہہ رہے ہوں کہ آپ واپس چلے جائیں نومبرکے وسط میں پناہ گزینوں کی طرف پناہ کیلئے 54.000دراخوستیں درج کرائی گئی تھیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Europe Naqal Makani Karnay Wlay Panah Gazeen is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 06 January 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.