اِداروں سے تصادم جمہوری روایت کی نفی!

نئے پاکستان کی تشکیل کے طریقہ کار کیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نظام نہیں بدلے گا تو حالات کیسے بدلیں گے۔

جمعہ جنوری

iddaru se Tasadum Jamori rawayat ke Nafi
رحمت خان وردگ:
پاکستان کی تاریخ کا شفاف الیکشن یحیی خان نے کرایا تھا لیکن اس کے نتائج سیاستدانوں نے تسلیم کرکے ملک کو دو لخت کردیا ماضی میں سیاستدانوں کا رویہ ملکی تاریخ کا سیاہ باب ہے اب بھی بڑے بڑے عوامی عہدوں پر رہنے والے اداروں پر بے جا تنقید کرکے تاریخ میں سیاہ باب کا اضافہ ہی کررہے ہیں ماضی کے حکمران اگر عدلیہ پر تنقید کررہے ہیں اور اداروں سے تصادم کی راہ پر گامزن ہیں تو انہیں ہر کوئی برا ہی کہہ رہا ہے اس وقت حیرت اضافہ ہوا جب چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ بار خطاب کرتے ہوئے کہا سیاسی تقریر کی اور اپنے غصے کا اظہار کیا عدلیہ کے فیصلے بولتے ہیں اور ججوں کو کسی بھی پلیٹ فارم پر سیاست نہیں کرنی چاہیے صرف فیصلے صادر کرکے ملکی نظام کو بہتری کی جانب گامزن رکھنا چاہئے جہموری ادوار میں تمام قومی بھاری خسارے میں چلے جاتے ہیں کیونکہ سیاسی لوگوں سے ادارے چلوانے غیر ضروری اضافی بھرتی اور دیگر معاملات و کرپشن سے ادارے تباہ کیے جاتے ہیں اب الیکشن قریب ہیں اور ایسی کوئی خاص آئینی ترمیم نہیں ہوسکی جس سے نظام کی تبدیلی اور مسائل کے حل کی طرف پیش رفت نظر آسکے پاکستان میں انتخابی عدالتی نظام میں تبدیلی مسائل کے حل کے لیے اولین ترجیح ہونی چاہیے عمران خان نیا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں اور پانامہ کیس فیصلے کے بعد نواز شریف بھی انقلاب کی بات کرتے ہیں لیکن قوم کو واضح طور پر یا نئے پاکستان کی تشکیل کے طریقہ کار کے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کرنے کے لیے دونوں میں سے کوئی تیار نہیں۔

(جاری ہے)

2013 کے الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور برپا ہوا آئینی طور الیکشن ٹریبونل 4 ماہ کے لیے ہوتے ہیں لیکن انہوں نے 4 سال تک فیصلے نہیں دیے اور اسکی مدت میں اضافہ کیا جاتا رہا۔کیا اب بھی اسی انتخابی نظام کے تحت الیکشن ہوگا کیا ایک بار پھر الیکشن ٹریبونل کی مدت میں اضافہ کرکے پوری اسمبلی کی مدت کے دوران فیصلے نہیں ہوپائیں گے کیا ایک بار پھر جاگیر دار سرمایہ دار اور دولت مند ہی الیکشن میں حصہ لے سکیں گے اور صرف دولت مند ہی اسمبلیوں میں پہنچ پائیں گے کیا عوام کو ہر لحاظ سے ایک آئیڈیل نظام مل پائے گا؟نئے انتظامی صوبے بن پائیں گے؟چہرے نہیں نظام کو بدلو لوٹ کھسوٹ کے راج کو بدلو۔

میرے خیال میں ایسا ہونے کا تو دور دور تک کوئی امکان نہیں برطانیہ کی آبادی تقریباً6 کروڑ ہے لیکن وہاں نشستوں کی تعداد 600 کے قریب ہے پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے اس لیے یہاں پر صوبائی نشت کے حلقے کو قومی اسمبلی کا حلقہ قرار دیا جائے اور ہرصوبائی نشت میں 2 صوبائی نشتیں بنائی جائیں انتخابات بائیو میٹرک نظام کے تحت کرائے جائیں اور متناسب نمائندگی کے طریق کار کورائج کیا جائے تاکہ سیاست سے دولت کا عنصر ختم ہو نہ تو کوئی ووٹ ضائع ہو اور نہ ہی براہ راست امیدواروں کا چٹاؤ ہوا اس طریقے سے سیاست سے سرمایہ داروں کا دخل اور دولت کی چمک کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

الیکشن کمیشن کی تشکیل اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے ہو اور الیکشن کمیشن انتخابی اخراجات کی حد پر سختی سے عملدرامد کو یقینی بنائے جائیںآ ئین میں ترمیم کرکے آرمی چیف وزیر اعظم صدر چیف جسٹس اور چئیرمین سینیٹ کی مدت 4 سال کی جائے اور آرمی چیف بھی سینئر ترین جرنیل ہوتا کہ حق تلفی نہ ہوسکے عدالتی نظام کو بھی آئینی ترمیم کے ذریعے موثر بنایا جائے اور ہر تحصیل میں ایڈیشنل یا سیشن جج کا تقرر ضروری ہے ہر ڈویژن میں ہائی کورٹ ہونا ضروری ہے اس طرح سپریم کورٹ کا بھی ہر صوبے میں بینچ ہونا چاہئے اور ججوں کی تعداد میں اضافہ ہونا لازمی ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف مل سکے یہاں تو ایک شخص اگر اپنا حق لینے کے لیے کوئی کیس کرتا ہے تو اسکی تیسری نسل تک تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے جو سارا دن بیٹھ کر شام میں نئی تاریخ کے لیے رشوت دے کر اپنی جان چھڑوا کر نکل پاتے ہیں جب تک تھانہ پٹوار خانہ اور عدالتی نظام درست نہیں ہوگا اس وقت تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔


”چہرے نہیں نظام کو بدلو‘ظلم کی صبح و شام کو بدلو“
آئین میں ترمیم کرکے عدلیہ کو پابند کیا جائیک کہ دیوانی مقدمے کو فیصلہ ہر صورت 1 سال جبکہ فوجداری مقدمے کا فیصلہ ہر صورت 6 ماہ میں ہونا چاہیے پولیس اورپٹوار خانے میں اس وقت تک تبدیلی نہیں آسکتی جب تک میرٹ کا نظام نہ اپنا لیا جائے اور غیر سیاسی تقریروں کے بغیر نظام میں تبدیلی تو کجا بہتر نہیں ہوسکتی یہاں تو سرکاری ملازمتیں لاکھوں روپے میں فروخت ہوتی ہے اب IGسندھ نے سندھ پولیس میں میرٹ رائج کی ہے تو انہیں عہدے سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اسی طرح دوسرے صوبوں میں بھی میرٹ کی دھجیاں اڑانے کا سلسلہ جاری ہے نئے انتظامی منصوبے بناکر ہی وسائل و اختیارات کی درست تقسیم ممکن ہے البتہ انتظامی صوبوں کا نام لسانیت کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے وفاق میں صرف 4 امور داخلہ خارجہ دفاع اور خزانہ ہوں اس کے علاوہ تمام امور میں انتظامی صوبے خود مختار ہوں اور صوبے بھی چند امور اپنے پاس رکھ کر باقی تمام امور ضلع تحصیل اوریونین کونسل کو تقویض کریں بلدیاتی نطام ایسا ہوں جس میں تمام ترقیاتی فنڈز بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ ہوں البتہ مقامی رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور ترقیاتی بورڈ کے رکن ہوں اور یہ ترقیاتی بورڈ ہی ہر ضلع کے ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور نگرانی کرے اور ترقیاتی بورڈ ہی ہر ضلع کے ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور نگرانی کرئے اور ترقیاتی فنڈ کا استعمال مقامی ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے ہونا چاہیے موجودہ بلدیاتی نظام تو صرف دکھاوا ہے جس سے مسائل میں کوئی کمی نہیں آسکی۔

KPK میں بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر ہے بلدیاتی انتخابات ہر صورت وقت پر ہوں خدانخواستہ حالت جنگ میں بھی بلدیاتی الیکشن ہونے چاہئیں۔
”چہرے نہیں نظام کو بدلو۔”جاگیرداری راج کو بدلو“
موجودہ ڈیمو کریسی دراصل ڈاکو کریسی ہے اس جہموریت میں کونسی سیاسی جماعت ہے جس میں پارٹی انتخابات منصفانہ ہوں یہاں پر پارٹی ذاتی جاگیر کی طرح چلائی جارہی ہیں اور عام کارکن بھی اس پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا پارٹی عہدے اور سرکاری عہدے جہموریت کی آڑ میں اپنے خاندانوں تک محدود ہے ۔

آئیندہ الیکشن میں عوام سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کریں کیونکہ فی الوقت تو دور دور تک اس قوم کی تقدیر بدلنے اورمسائل کے حل کی کوئی امید نہیں ہے اور ایک بار پھرسیاست کو کاروبار بنانے والے ووٹ لینے آئیں گے اور عوام کو بیوقوف بناکر منتخب ہوئے تو پھر 5 سال تک ان کا کوئی اتا پتہ نہیں ہوگا۔

Your Thoughts and Comments

iddaru se Tasadum Jamori rawayat ke Nafi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 05 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.