مودی حکومت کی مسلم پرسنل لاء سے چھیڑ چھاڑ جاری۔

اسلامی قوانین سنگھ پریوار کے نشانے پر........ طلاق ثلاثہ پر پابندی شریعت میں کھلی مداخلت

جمعرات جنوری

Modi Hukumat ki Muslim Personal law sy Chair charr
رابعہ عظمت:
مودی حکومت کی مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے مسلمان عورتوں کے فلاح و بہبود کا واویلا مچانے والے بھارتی وزیر اعظم نے طلاق،طلاق کی رٹ لگا رکھی تھی وی طلاق اثاثہ کو مسلمان خواتین کیخلاف بڑا ظلم قراردیتے ہیں حیرت ہے انہیں گجرات فسادات 2007 میں ہندو غنڈوں کے ہاتھوں عصمتیں لٹانے والی عورتوں کی آہ سنائی دیتی جو گزشتہ پندرہ سالوں سے انصاف کی منتظر ہیں افسوس ان مظلوم دبے بس لاچار خواتین کی حالت زارپر آج تک کوئی توجہ نہیں دی گئی نہ ہی کشمیر میں بھارتی قابض فوجیوں کی درندگی کا شکار ہونے والی عورتیں دکھائی دیتی ہے صرف اور صرف سنگھ پریوار کی حکومت کا نشانہ شرعی قوانین ہیں تاکہ یکساں سول کوڈ کے نام پر بھارت میں ہندؤ توا کے نفاذ کی راہ ہموار کی جاسکے اب بی جی مرکزی کا بینہ کی جانب سے مسلم خواتین شادی کے حوالے سے حقوق کا تحفظ بل 2017 پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا تاکہ ایک نشست میں طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیا جاسکے اور اس کے مرتکب کو سزا دی جائے بل کے منظور ہونے پر طلاق دینے والے شوہر کو تین سال قید کی سزا ہوگی چونکہ یہ ایک دستوری بل نہیں ہے اس لئے یہ معمولی اکثریت سے منظور کرلیا جائیگا وزیر قانون روی شنکر پر ساد نے کہا کہ بل کا مقصد مسلم خواتین کو انسانی ڈھال مہیا کرنا ہے اس بل کو فوری طور سے منظور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دئیے جانے کے باوجود طلاقیں ابھی بھی دی جارہی ہیں مجوزہ قانون میں یہ بھی گنجائش ہے کہ مطلقہ قانون مجسٹریٹ سے اپنے اوراپنے بچوں کے لئے ملزم شوہر سے گزرا الاؤنس بھی طلب کرسکتی ہے آل انڈیا مسلم پر سنل بورڈ نے تین طلاق سے متعلق حکومتی بل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کہا کہ تین طلاق کا بل شرعی قوانین کے خلاف ہے بل کا طلاق ہوا تو کئی خاندان تباہ ہوجائیں گے بل ڈرافٹ کے لیے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد نہیں کیا گیا بل سے متعلق ملکی متعلقہ شخص سے بات نہیں کی گئی وزیر اعظم سے بل واپس لینے اور منسوخی کا مطالبہ کریں گے تین طلاقوں کیخلاف علماء کرام سے بھی مشورہ لینا چاہیے دراصل بھارتی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آڑ میں شریعت میں مداخلت کررہی ہے اور مسلم خواتین کی ہمدردی کا بہانہ بنا کر مسلم پرسنل لاء سے چھیڑ چھاڑ کررہی ہے اگر کوئی مسلمان اس بل کی مخالفت کریگا تو سپریم کورٹ کی ڈھال کو استعمال کیا جائیگا کہ مسلمان عدالت کا احترام نہیں کرتے۔

حالانکہ غور سے دیکھا جائے تو بل میں کئی متضاد پہلو میں جو سرکار کی جلد بازی پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں مثلاً جہاں ایک طرف اس بل میں تین طلاق کے بے اثرو باطل ہونے کی باتیں کی گئی ہے وہیں تین طلاق کو جرم قرار دیکر تین سال کی قید اور جرمانہ کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کوئی جرم واقع ہی نہیں ہوا تو پھر اس کی کیوں سزا دی جائے وہیں یہ بات بھی حیران کن ہے کہ جس طبقے کے بارے میں بل پیش کیا جارہا ہے اس کے ذمہ داران سے مشورہ ہی نہیں لیا گیانہ کسی مسلم تنظیم سے رابطہ کیا گیا نہ ہی خواتین کی معمتد تنظیموں سے کوئی رائے لی گئی جبکہ مودی سمیت بی جے بی پی کے تمام لیڈر تین طلاق پر مسلم خواتین کی مطلوبیت کارونا روتے رہے اور اسے انتخابی ایشو بنادیا گیا پرسنل لاء بورڈ کے سیکرٹری کے مطابق مجوزہ بل میں تمام خامیاں اور تضاد ہیں اس میں ایک بار میں تین طلاق پر تین سال تک سزا اور جرمانے کی بات ہے حالانکہ یہ نہیں کہاگیا ہے کہ جرمانہ کس کے حق میں جائیگابل میں کہا گیا ہے کہ طلاق کے بعد بچہ ماں کے پاس ہی رہیگایہ بھی کہاگیا ہے کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان مسئلہ ہے تو کوئی تیسرا بھی شکایت درج کرواسکتا ہے یعنی شوہر سے ہر طرح کی طلاق دینے کا اختیار چھیننے کا بل ہے ویسے مودی حکومت اس بل کو پارلیمنٹ میں ضرور پیش کرئے گی کیونکہ وہ مسلمانوں کو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو ان کی مرضی کے بغیر ان پر لگام ڈالی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے طلاق بھی نہیں دئے سکے گے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اکثریتی رائے سے فیصلہ دیا تھا اس مسئلہ میں خاص طور پر دو باتیں تھیں ایک تو یہ کہ پرسنل لاء بنیادی حق ہے اس لئے اس میں نہ سپریم کورٹ تبدیلی کرسکتی ہے اور نہ پارلیمنٹ اس کے خلاف قانون سازی کرسکتی ہے فیصلہ کا دوسرا یہ تھا کہ اگر کسی نے بیک وقت طلاقیں دیں تو وہ طلاق کالعدم ہوگئی اور ازدواجی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں پرینگا مرکزی حکومت کے وزیر قانون کے اعلان کے مطابق اس فیصلے کے بعد اب کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں پڑیگی گجرات الیکشن مہم کے دوران بھارتی وزیر اعظم کو مسلمان مطلقہ عورتوں کی یاد ستانے لگی اور مرکزی حکومت کا یہ اعلان سامنے آگیا کہ مسلمان مردوں نے ابھی تک تین طلاقوں دینا بند نہیں کیا ہے اس لئے مرکزی قانون سازی ہوگئی گروپ آف منسٹرز بنائے گئے اس نے قانون کا مختصر مسودہ بنایا اور اسے خط کی شکل میں صوبائی حکومتوں کو بھیجا گیا تھا تاکہ وہ رائے دیں۔

حیدرآباد یونیورسٹی کے پرنسپل نے اپنے ایک آرٹیکل Why Criminalising Tripple Talaq Over is unnecessary Over kill میں اس سوال کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے ذیل میں اس کے ابتدائی چندنکات کے حوالے سے چند باتیں پیش کی جارہی ہے جیسا کہ شادی دو فریقوں کے درمیان ایک سول معاہدہ ہے اور سول معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں عدالت وہی معاوضہ دلاتی ہے جو معاہدہ میں درج ہو یا بصورت دیگر جو عدالت مناسب قرار دے لیکن جوجداری جرم کا معاملہ مختلف ہوتا ہے یہ جرم کسی فرد یا چند افراد کے خلاف نہیں ہوتابلکہ پورے معاشرے کے لئے مہلک ہوتا ہے اس لئے ریاست کو اس جرم کی سزا مقرر کرنے اور عدالت سے اس کو نافذ کروانے کا اختیار ہے تاکہ اس کی مجرمانہ ذہنیت سے کسی اور کو نقصان نہ پہنچے فوجداری معاملہ میں ایک دن کی سزا ایک روپیہ جرمانہ کا بھی یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کی ملازمت جاتی رہے اور پاسپورٹ ضبط ہوجائے جبکہ سول معاملہ میں ایک کروڑ جرمانہ بھی اتنا مہلک ثابت نہیں ہوتا چنانچہ اگر تین طلاق کو فوجداری معاملہ بنادیا گیا تو گویا سزا یافتہ تباہ ہوگیا مودی سرکار یہی مقصور ہے کہ اب طلاق ثلاثہ کی آڑ میں مسلمانوں کودہشت گردی کے الزام میں گرفتار کردیا جائے مودی حکومت سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کے جس فیصلہ کے بہانے یہ بل لارہی ہے اس کے پانچ میں سے دو ججوں کی رائے تھی کہ تین طلاقوں مسلم قانون کے تحت جائز ہے عدالت اسے روک نہیں سکتی البتہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہے کہ قانون بنا کر اسے کالعدم قراردیدے لیکن اس بنچ کے تین ججوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور طلاق ثلاثہ کو آئین دفعہ 141 سے متصادم قرار دیکر غیر قانونی ٹھہرا دیا جائے اسی اکریتی فیصلے سے وہ مقصد از خود پورا ہوگیا جو اقلیتی فیصلے میں پارلیمنٹ پر چھوڑا جارہا تھا قانون کی رو سے اب طلاق ثلاثہ بے اثر ہوچکی ہے اس لئے قانون کی ضرورت نہیں رہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر نے اس حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب ارساں کیا ہے جس کا متن حسب ذیل ہے۔


۱۔مسلم خواتین شادی کے حقوق کا تحفظ بل2017 بالعموم مسلم خواتین کے مفاد کیخلاف ہے اور مطلقہ خواتین اور ان کے خاندان کے لئے نقصان کا باعث ہے یہ شریعت کے اصولوں کے بھی برخلاف ہے اور مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے۔
۲۔بل کی مجوزہ دفعات دوسرے جاریہ قوانین میں دی گئی قانونی دفعات کے بھی خلاف ہے لہٰذا غیر ضروری ہیں گھریلو تشدد سے متعلق قانون2005 اور گارڈین شپ اینڈ وارڈ میں ایکٹ اور مجموعہ ضابطہ فوجداری پہلے سے موجود ہیں۔


۳۔مجوزہ بل میں درجہ احکامات مذہبی اکائیوں کو آئین ہند میں فراہم کی گئی ضمانتوں میں بھی مداخلت ہے۔
۴۔یہ عدالت عظمی کے 22 اگست 2017 کے فیصلہ کی روح کے بھی خلاف ہے اور کہا گیا کہ ہم اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے ہم بل کی چند قابل اعتراض دفعات کا ذیل میں حوالہ دیتے ہیں۔
دفعہ 2 میں تحفظ طلاق کو دی گئی تعریف طلاق بدعت تجاوز کرتی ہے جبکہ عدالت نے صرف طلاق بدعت کو ہی مسترد کیا تھا مجوزہ تعریف طلاق بائن وغیرہ کو بھی شامل کرسکتی ہے جس کو عدالت عظمیٰ نے غیر قانونی قرار نہیں دیا یہ بل نئی الجھنوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرنے والا ہے ساتھ آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کی دفعات اور سپریم کورٹ کے تین طلاقوں کے سلسلے میں دئیے گئے حالیہ فیصلے کے بھی خلاف ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Modi Hukumat ki Muslim Personal law sy Chair charr is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.