نواز شریف بمقابلہ خلائی مخلوق

”اوپر حکم “ کس کا ، اصل گیم پلان کیاہے؟ کیا سابق نااہل وزیر اعظم آئندہ انتخابات کا ریفرنڈم کی شکل دے پائیں گے؟

پیر مئی

Nawaz shareef ba muqabla khalayi makhlooq
سالک مجید
آصف زرداری اور عمران خان کے بارے میں نواز شریف نے بالکل دوٹوک الفاظ میں عوام کو بتا دیا ہے کہ ان دونوں سے ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ہے، ہمارا مقابلہ تو ” خلائی مخلوق“س سے ہے ان قوتوں سے ہے جو نظر نہیں آتیں، بات صاف ہوگئی ہے نواز شریف نے ساہیوال اور صادق آباد کے یکے بعد دیگرے کامیاب جلسے لاہور میں پی ٹی آئی اور کراچی میں بلاول کے جلسے کے جواب کے لئے نہیں بلکہ کھل کر اپنی بات کہنے کیلئے منتخب کئے اور وہ اپنے مخصوص انداز میں سیاسی مخالفین کو بھی للکار گئے اور اوپر کے حکم والوں کو بھی کافی کچھ سنا گئے۔

ان کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ نوے کی دہائی میں جب ان کو غلام اسحاق خان نے ضد میں آ کر حکومت کرنے سے محروم کرا دیا تھا اور عدالت سے بحالی کے باوجود جنرل عبدالوحید کاکڑ نے دونوں(غلام اسحاق خان اور نواز شریف) کو صدارت اور وزارت عظمیٰ سے فارغ کر کے گھر بھجوا دیا تھا تو اس کے بعد بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم بن گئیں تھیں۔

(جاری ہے)

تب نواز شریف نے ان کے خلاف تحریک نجات چلائی تھی۔ نواز شریف نے ایک مرتبہ کشمیر کے نیلابٹ کے مقام پرتقریر کے دوران بھارت کولکارا تھا اور پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان بھی کر گئے تھے تب تک ایٹمی دھما کے نہیں ہوئے تھے وہ تو 1998ء میں وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف نے خود کئے تھے جن کے بارے میں اب شہباز شریف بھی یاد دلاتے ہیں کہ بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کر دیئے تھے تو جواب میں نواز شریف نے امریکہ کے 5 ارب ڈالرٹھکرادیئے۔

لا لچ‘ دباوٴ سب کچھ مسترد کیا اور بھارت کے 5 دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے کر دکھائے۔ یہ نواز شریف کا ہی کمال تھا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر ناقابل تسخیر دفاعی پوزیشن دلا دی اور دنیا کے نقشے پر پاکستان پہلی مسلم ایٹمی قوت بن گیا مگر افسوس کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی معماروں کی قدر نہیں کی بلکہ ان کو رسوا کیا۔ ان کی توہین کی۔

ایٹمی قوت کی بنیاد زوالفقارعلی بھٹو نے رکھی ، اس بھٹو کو اس ملک میں پھانسی دی گئی۔ ایٹمی قوت کے سائنسی اعتبار سے اصل ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں لیکن اس قومی ہیرو کو مشرف کے آمرانہ دور میں قوم سے معافی مانگنے کے لئے سرکاری ٹیلی ویژن پر لایا گیا اور پھر تمام معاملات سے الگ تھلگ کر کے ایک طرح
کی نظر بندی جیسی زندگی تک محدود کر دیا گیا، اسی طرح ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف کو پہلے تو گرفتار کر کے ہائی جیکر بنا دیا گیا اور پھر جلاوطن کر دیا گیا۔

عوام نے اسے تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب کیا تو جن عناصر کی آنکھوں میں وہ شروع دن سے کھٹکتار ہا انہوں نے پھر سازشیں شروع کر دیں۔ نواز شریف یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، اگر کیس پاناما اور کرپشن کا بنایا تھا تو ا قاما پر کیوں نکالا۔ عوام میں نواز شریف کا بیانیہ دن بہ دن مقبولیت حاصل کرتا جارہا ہے جی ٹی روڈ کے تاریخی سفر سے لیکر اب شہر شہرعوامی سیاسی جلسوں تک ہر جگہ نواز شریف کی مقبولیت مسلمہ ہے اور یہ بات واضح ہے کہ تین مرتبہ اقتدار سے باہر نکالے جانیوالے اس لیڈر کو عوام میں بے پناہ محبت پیار اور عزت حاصل ہے اور عدالتی نااہلی کے باوجودعوامی عدالتوں کے فیصلے اس کے حق میں آرہے ہیں آنے والے دن نواز شریف اور ان کے خاندان اور پارٹی کے لئے مزید سخت اور مشکلات سے بھرے نظرآ رہے ہیں اس کے باوجود نواز شریف نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ جنگ لڑیگے اور پاکستان کے اگلے 70 برس پچھلے 70 برس جیسے نہیں ہوں گے اس مقصد کے لئے عوام کو ان کا ساتھ دینا ہوگا۔

ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گھر گھر پہنچانے والے نواز شریف عوام سے توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ اگلے 70سال کومختلف اور مثالی بنانے کیلئے آنے والے الیکشن کو ریفرنڈم سمجھ کر ووٹ دیا جائے اور نواز شریف کو اتنے ووٹ پڑیں کہ ملک میں انقلابی صورتحال جنم لے لے پر نواز شریف کو بھی واپس لایا جاسکتا ہے اور ان کے خلاف عدالتی فیصلے کبھی ختم کرایا جاسکتاہے، نواز شریف کی سیاسی سوچ ہے اور ان کے رفقاء اس حوالے سے ان کے ساتھ ہیں حالانکہ قانونی معاملات پر ماہرین کی رائے ان سے مختلف ہے۔

لیکن سیاستدان سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف قانون کے مطابق نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ہورہا ہے لہذا اسے سیاسی فیصلوں سے ہی ہینڈل کیا جاسکتا ہے جس طرح ماضی میں مشرف دور میں نواز شریف کو ہائی جیکنگ کیس میں عمر قید اور ہیلی کا پیڑ کیس میں 21 سال کے لئے نا اہل کیا گیا تھا جائیداد ضبط اور سیاست سے آوٴ کر دیا گیا تھا لیکن سیاسی ہوا کا رخ بدلا تو ساری سزائیں بھی ختم ہو گئیں تھیں اور سیاست کے دروازے بھی خود بخودکھل گئے تھے اور پھر جون 2013ء کو تیسری مرتبہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے تھے لہذا سیاستدانوں کی سوچ قانون سے مختلف ہوتی ہے اور ان کے پاس دلائل بھی ہوتے ہیں، اس وقت نواز شریف کس سے لڑ رہے ہیں اب یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

انہوں نے سیاست میں مقابلہ عمران اور زرداری سے نہیں بلکہ نظر نہ آنے والی قوتوں سے ہے جن کو نواز شریف نے خلائی مخلوق کا نام دے دیا ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کی تمام سیاسی مخالف قوتیں بھی ”اوپر کے حکم “پر اکٹھی ہو چکی ہیں اس کا عملی ثبوت سینیٹ کے الیکشن میں عوام کومل چکاہے اور اب عام انتخابات کے حوالے سے بھی نئے نئے صادق سنجرانی تلاش کئے جارہے ہیں، عام تاثر ہے کہ نواز شریف جسے خلائی مخلوق قرار دے رہے ہیں اس نے پورا گیم پلان تیار کر رکھا ہے۔

عمران اور زرداری اوپر کے حکم پر ہی بھائی بھائی بنے ہوئے ہیں اور نگران سیٹ اپ سے لیکر اگلی حکومت سازی تک سارے مراحل اسی طرح طے کرانے کی حکمت عملی نظر آ رہی ہے جس طرح سینیٹ میں دیکھی گئی جس طرح دھرنے میں عمران خان اور طاہر القادری نے اپنے اپنے کارکنوں کو سیاسی کزن قرار دے دیا تھا اسی طرح اب پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے سگنل ملے ہیں۔

سینٹ الیکشن میں ایسے سگنلز کے نتائج دیکھے جا چکے ہیں آنے والے دنوں میں مزید نمونے بھی ملیں گے۔ ایک طرف نواز شریف ان کے خاندان اور ساتھیوں کے خلاف نیب سمیت عدالتوں میں مقدمات میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔دوسری طرف آصف زرداری اور ان کے رشتے داروں اور پارٹی رہنماوٴں کے گردنیب کے گھیرے میں سختی آنے کی بجائے نرمی آنے کی اطلاعات ہیں۔

پیپلز پارٹی کے کئی سابق وفاقی وزرا، صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی کے خلاف نیب کیسز گوسلو پالیسی پر نظر آ رہے ہیں بلکہ کچھ کے خلاف تو انکوائریاں اور کیسز بھی بند کر دیئے گئے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو خصوصی رعایت دینے کا سیزن شروع ہو چکا ہے، ادھر خواجہ آصف نے تاحیات نااہلی کو گو کہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے لیکن اس بات کی توقع نہ ہونے کے برابر ہے کہ ان کی نا اہلی کی سزا ختم ہو۔

ایسا ہوناکسی معجزے سے کم نہیں۔ سوشل میڈیا میں خواجہ آصف کی مشرف دور میں اسمبلی میں کی جانے والی دھواں دھار تقریرکا چرچا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”مٹی کی محبت میں ہم آشوة سروں نے، وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے“۔ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سیاستدانوں پر اس ملک میں اب کوئی قرضہ نہیں ہے۔ سیاستدانوں نے پھانسی، جلاوطنی گرفتاری سب کچھ دیکھ لی۔

قرض کسی اور نے اتارتے ہیں۔ خواجہ آصف کے ساتھ جو کچھ ہوا۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ خواجہ سعد رفیق بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔ دانیا ل عزیز، طلال اور چودھری عابد شیر علی کا مستقبل بھی زیادہ روشن نہیں رہا۔ عام تاثر یہ ہے کہ مریم نواز شریف نے جو کہا بالکل ٹھیک ہے کہ جو ڈٹ گیا، وہ نا اہل جو جھک گیا، وہ اہل ،جس نے اوپر کا حکم نہیں مانا، وہ نا اہل، جس نے اوپر کا حکم مان لیا، وہ اہل“۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ نواز شریف کو جنرل ضیاء الحق کا وارث قرار دینے والی پیپلز پارٹی نے اپنی لڑائی چھوڑ دی۔ جمہوریت کے لیے جولڑائی پیپلز پارٹی کولڑنی چاہیے تھی آج وہ لڑائی نواز شریف لڑ رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے کا جو طعنہ ماضی میں نواز شریف کو دیا جاتا تھاوہ طعنہ آج پیپلز پارٹی کی قیادت کو دیا جارہا ہے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Nawaz shareef ba muqabla khalayi makhlooq is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 May 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.