سرد جنگ ، ایران اور سعودی عرب

سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں لیکن حال ہی میں اس کشیدگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ایساکیوں؟

بدھ جنوری

Sard Jang Iran Aur Saudi Arab
سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں لیکن حال ہی میں اس کشیدگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ایساکیوں؟ سعودی عرب اور ایران مشرق وسطیٰ کے دوبڑے ملک ہیں اور دونوں اس خطے میں اپنی اپنی بالادستی چاہتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان کھچاؤکی ایک بڑی وجہ مذہب ہے۔ ایرانیوں کی بڑی اکثریت شیعہ ہے جبکہ سعودی عرب سنی اکثریت کا ملک ہے۔ یہی شیعہ سنی تفریق مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔

بعض ملک اکثریتی سنی اور بعض اکثریتی شیعہ ہیں۔ شیعہ اکثریت والے ملک تعاون کے لیے ایران کی طرف دیکھتے ہیں جبکہ سنی ملک سعودی عرب کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اسلام کا آغاز سعودی عرب سے ہوا تھا۔ اس لیے وہ آج بھی خود کو مسلم دنیا کا رہنما سمجھتا ہے۔ تاہم 1979ء میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد خطے میں ایک نئی طرز کی مذہبی ریاست وجود میں آگئی، جس کا واضح مقصد یہ تھا کہ اپنا ماڈل اپنی سرحدوں سے باہر برآمد کیا جائے۔

(جاری ہے)

اس ریاست نے سعودی عرب کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ گذشتہ کئی سالوں سے اوپر تلے پیش آنے والے کئی واقعات نے دونوں کے درمیان تلخی میں اضافہ کیا۔ 2003ء میں امریکہ نے عراق پردوسری دفعہ حملہ کر کے سنی صدام حسین کو معزول کردیا۔ اس سے علاقے میں طاقت کا پلڑا ایران کی طرف جھک گیا کیونکہ عراق میں اقتدار اب شیعہ اکثریت کے ہاتھ میںآ گیا تھا۔ 2011ء ”عرب سپرنگ “کے تحت اس خطے میں خاصی ہلچل پید ا ہوئی اور کئی ملک عدم استحکام کا شکار ہوئے۔

سعودی عرب اور ایران نے اس غیر یقینی صورت حال کو اپنا دائرہ اثر بڑھانے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ شام ،بحرین اور یمن خاص طور پر اس رسہ کشی کا شکار ہوئے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان خلیج مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ایران کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ پورے مشرق وسطیٰ میں اپنے آلہ ِ کار نصب کرکے ایران سے بحیرہ روم تک کے علاقے پر اپنا غلبہ چاہتاہے۔

اس مقصد میں ایران کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہورہی ہے۔ شام میں ایرانی اور روسی پشت پناہی کی بدولت صدر بشارالاسد باغیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب ان باغیوں کا سب سے بڑا حامی تھا۔ سعودی عرب بڑھتے ہوئے ایرانی اثرو رسوخ روکنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ اس کے نوجوان ولی عہد محمد بن سلیمان کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔

اسی نے سعودی عرب کے جنوب میں واقع یمن میں باغیوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے تاکہ وہاں ایرانی اثر ختم کیا جاسکے۔ لیکن تین برس سے جاری یہ جنگ اب تک ایک مہنگا جو ا ثابت ہوئی ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودیوں نے لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیاتاکہ لبنان کوکمزور کیا جاسکے۔ جہاں ایران کی اتحادی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا غلبہ ہے۔

اس کے علاوہ یہاں بیرونی طاقتیں بھی سرگرم ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو شہ دے رکھی ہے ، جب کہ اسرائیل بھی ایران کو اپنا دائمی دشمن سمجھتے ہوئے ایک لحاظ سے سعودی عرب کی بالواسطہ مدد کررہاہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران نواز شامی جنگجو کہیں اس کی سرحد تک نہ پہنچ جائیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب ہی وہ دوملک تھے جنہوں نے 2015ء میں ایران کے ایٹمی پروگرام پرطے پانے والے بین الاقوامی معاہدے کی شدت سے مخالفت کی تھی۔

ان کا اصرار تھا کہ معاہدہ ناکافی ہے۔سعودی عرب کے کیمپ میں متحدہ عرب امارات ، کویت ، مصر اور اردن ہیں۔ دوسری طرف ایران کے طرف داروں شامی حکومت کے علاوہ حزب اللہ کی طرز کی جنگجو تنظیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت بھی ایران کی حلیف ہے، حالانکہ وہ دولت ِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکی امداد پر انحصار کرتی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کی رسہ کشی کئی اعتبار سے امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کے مترادف ہے۔

یہ دونوں ملک براہ ِراست ایک دوسرے سے تو نہیں لڑتے لیکن اپنے کارندوں
 ( پراکسی) کے ذریعے بر سر ِ پیکار ہیں۔ شام اس کی واضح مثال ہے جبکہ سعودی عرب نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ شیعہ حوثی باغیوں کو میزائل فراہم کر رہا ہے اور وہ اسے سعودی حدود پر حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یمن کی دلدل میں پھنسنے اور شام میں تقریباََ شکست کھانے کے بعد سعودی عرب نے بظاہر لبنان کو نیا میدان ِ جنگ منتخب کیا ہے۔

خدشہ ہے کہ کہیں لبنان بھی شام کی طرح انتشار کا شکار نہ ہوجائے۔ لیکن ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ وہاں بھی سعودی عرب کو کوئی خاص کامیابی نہیں ملنے والی۔ لبنان میں ان دونوں کے درمیان کشمکش کے بیچ اسرائیل بھی بڑی آسانی سے کود سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا حزب اللہ سے پہلے سے ہی بیر چل رہاہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ہوسکتاہے کہ سعودی ولی عہد جان بوجھ کر حزب اللہ کو اسرائیل سے لڑوانا چاہتے ہوں تاکہ ایران نواز جنگجو تنظیم کو کسی طرح کمزور کیا جاسکے۔

فی الحال تو ریاض اور تہران پراکسی وار لڑ رہے ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی براہِ راست ایک دوسر ے سے لڑائی نہیں چاہتا۔ لیکن یمن کی طرف سے سعودی عرب پر پھینکا گیا ایک کامیاب میزائل سارا نقشہ تلپٹ کر سکتاہے۔ ایک جگہ جہاں یہ دونوں لڑ سکتے ہیں وہ خلیج فارس ہے ، جہاں دونوں کی بحری سرحدیں ملتی ہیں۔ امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں کے لیے خلیج فارس میں نقل و حمل کی آزادی بہت اہم ہے اگر یہاں جنگ چھڑ گئی تو تیل کی صنعت کے لیے بے حد اہم یہ بحری گذر گاہ بند ہو جائیگی۔

اس سے امریکہ بھی جنگ میں کود سکتاہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک عرصے سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایران مشرقِ وسطیٰ کو عدمِ تحفظ کا شکار کرنے پر تلا ہوا ہے۔ سعودی قیادت ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور ولی عہد اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ دوسر ی طرف سعودی عرب کی نئی مہم جوئی اس خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان فوجی طاقت کا توازن کچھ اس طرح ہے۔ایران کے پاس مسلح افواج 563000ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس 251500 ہے۔ ایران کے پاس 1513 ٹینک ہیں اور سعودی عرب کے پاس900 ہیں۔ ایران کے پاس 6798 توپ خانہ ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس صرف 761ہیں۔ ایران کے پاس لڑاکا جہاز 336ہیں جو کہ پرانے ہیں جبکہ سعودی عرب کے پاس 345جدید لڑاکا جہاز ہیں۔ ایران کے پاس جنگی کشتیاں194ہیں جبکہ سعودی عرب کے پاس صرف 11جنگی کشتیاں ہیں۔

ایران کے پاس آبدوزوں کی تعداد صرف 21ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس ایک بھی نہیں۔ اسطرح دونوں کے اسباب کا بغور دجائزہ لیا جائے تو یہ بظاہر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اتنا کم اسباب ہونے کے باوجود شور شرابا سمجھ سے بالا تر ہے۔ اگر دوسروں پر انحصار کر کے بیٹھے ہیں تو یہ ان دونوں کی خام خیالی ہے۔ اس سے بڑھ کر قابل افسوس بات اور کیا ہو سکتی ہے، دونوں مسلم ممالک ہو کے ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ صرف اس لیے کہ یہ دونوں الگ الگ مسلک کے ہیں۔ روز محشر کسی نے یہ نہیں پو چھنا کہ تم کس مسلک سے تھے۔ مسلک ان کے باپ کی جاگیر تو ہوسکتا ہے مذہب نہیں۔ اب بھی وقت ہے یہ دونوں سدھر جائیں۔اور مسلمانوں کو مزید تقسیم سے بچائیں۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Sard Jang Iran Aur Saudi Arab is a international article, and listed in the articles section of the site. It was published on 24 January 2018 and is famous in international category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.