Rootless People

بدھ 16 دسمبر 2020

Ahmed Adeel

احمد عدیل

زندگی ہمیشہ تبدیلی کی متلاشی رہتی ہے وہ تبدیلی ذات کی ہو ، ہجرت کی صورت میں ہو یا فطرت کے اصولوں کی نفی کرنے کی، لیکن تبدیلی ضروری ہے․ فارنرکلب کے وسیع گولف کورس میں پام کے اداس درختوں کے نیچے ہیٹھے ہوئے وہ کسی خلائی نقظے پر نظریں جمائے بول رہا تھا ․ اسی طرح خواہشوں کا سلسلہ ہے سسلی یا ہوائی کے کسی ساحل پر بیٹھے بظاہر مطمئن لگتے ہر سیاح کے دل میں یہ خواہش بھی موجود ہو گی کہ کاش میں تھائی لینڈ یا فلپائن کے کسی گرم ساحل پر کوکونٹ کے درختوں کے نیچے کسی جھولے (Hammock)پر لیٹا ہوا بئیر پی رہا ہوتا ․ کچھ لوگ روزگار کی خاطر یا ایک اچھی زندگی کی خواہش میں اپنے ملک چھوڑ دیتے ہیں لیکن ان کا کیا جو ہرے بھرے خوبصورت پہاڑوں پر مضبوطی سے گڑ ے ہوئے اپنے خیموں کو صرف اس لیے اکھاڑ دیتے ہیں کہ انہیں کسی جھلستے ہوئے صحرا کی خواہش ستاتی ہے؟ یا پھر ان لوگوں کے احساسات کو کیا نام دوگے جو اپنا مال متاع کندھوں پر لٹکائے ہپی بن جاتے ہیں․ دوسرے دیسوں کی خاک چھاننے کی خا طر جوگی ہو جاتے ہیں؟
زندگی کے معنی ہر ایک بنی نوع کے لیے مختلف ہونے کے باوجود لامحدود خواہشات، تبدیلی کی چاہت، ایڈونچر، ڈے ڈریمنگ اور کبھی کبھی موت کی تلاش یہ سب ایک ایسا Glueہے جو ہمیں لا محدود خواہشات سے جوڑے رکھتا ہے اور کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیتا کہ زندگی کی رعنائی سے شروع ہونے والا یہ سفر اخیر کے ایک ایسے جزیرے پر ختم ہوتا ہے جہاں خواہشات اور تبدیلی کی خواہش مرتی جاتی ہے یہاں پہنچ کر اپنے وطنوں کی ہوائیں، موسم، کلچرحتی کے مصبتیں تک یاد آنے لگتی ہیں ․ خلیل جبران لبنان کے درختوں اور موسموں کو یاد کرتا مر گیا․ برسوں پہلے تم نے اپنے جاپانی پر و فیسر سل باسا کی کہانی سنائی تھی جو زندگی بھر در در کی خاک چھاننے کے بعدبھی جاپان میں ساکورا (Cherryblossom)کے درختوں کے نیچے مرنا چاہتا تھا یا پھر لوک (Luke)جو سالوں اس فارنر کلب کے سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھ کر صرف یہ خواہش کرتا رہا کہ اس کی موت کے بعد اس کی آخری رسومات عیسائی طریقے سے ادا کرنے کے بعد اسے پادری کی موجودگی میں دفن کیا جائے․ مونٹی کرسٹو کا ایک لمبا کش لگانے کے بعد مارک شاید مونٹریال کے اسی چھوٹے سے گاؤں میں پہنچ چکا تھا جہاں اس نے اپنی حیات کا ایک لمبا عرصہ گزارا تھا یا پھر اس کی روح اس آئل رگ (Oil rig)کے گرد پران چکر لے رہی تھی جہاں لا محدود خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اس نے زندگی کے کئی قیمتی برس روبوٹ نما انسا نوں کو سپر وائز کرتے گزار دیے تھے ․
سگار کا دھواں پام کے درختوں کی بلندی تک پہنچ کر ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا لیکن مارک کی نظریں اب بھی حیاتی سے پرے کسی ان دیکھے نقطے پر مر کوز تھیں اور اس کی آواز میں زندگی کے سو د وزیاں کی وہ ساری تلخیاں نمایاں تھیں جو کسی بھی سو چنے والے ذہن کا خاصہ ہیں ․ ہم پوری زندگی اپنی خواہشوں کی غلامی میں اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن کسی ایک سہانی صبح بڑھاپا ہمارے اندر گھس آتا ہے اور تب وہ احساس وہ Wisdomجنم لیتا ہے جس سے ہم کبھی آشنا ہی نہیں تھے وہ سب جس کی خاطر ہم زندگی گنوا دیتے ہیں ریت کی طرف بکھرتا دکھائی دیتا ہے ․ مونٹریال میں جیرڈ میرا سب سے اچھا دوست تھا ہم اکھٹے مو س (Moose)کے شکار پر جاتے اور ہفتوں جنگلوں میں گزارتے لیکن پھر میں یونیورسٹی چلا گیا اور اس کے بعد مڑ کر نہیں دیکھا ․ میری ماں کی قبر کے کنا رے جب پادری He will wipe away every tear from their eyes and death shall no more .

..پڑھ رہا تھا تو میں اس وقت سمندر میںآ ئل رگ پہ تھا لیکن جیرڈ میری ماں کی آخری ہچکی کا گواہ تھا ، میرے باپ نے جب ہسپتال میں کینسر سے ہار کر اپنی آخری سانس لی میں تب سسلی کے کسی ساحل پر تھا لیکن جیرڈ اب میرے ماں باپ کی موت کے برسوں بعد بھی ان کی قبروں پر ہر سنڈے کو پھول رکھ کر آتا ہے ․ ہمارا سٹیٹس بدل گیا وہ ایک مشکل سے گزارہ کرنے والا ایک پرانے گھر اور پرانے فودڑ ٹرک کا مالک ہے لیکن میں یہاں بیٹھا مونٹی کرسٹو اور سپنش وائن انجوائے کر رہا ہوں ․ جیرڈ نے شاید ہی کبھی کینڈا سے باہر قدم رکھا ہو اور میں دنیا گھوم چکا ہوں لیکن یہی Rootless لوگوں کا المیہ ہے کہ یہ آخر میں خسارے میں رہتے ہیں ہم ڈرائنگ روم میں سجے وہ سد ا بہار جڑوں کے بغیر درخت ہیں جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ہر مہمان کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لیتے ہیں اور موسموں کے سرد و گرم سے بے پراو ڈرائنگ روم ٹمپریچر کا لطف اٹھاتے ہیں حتی کہ ایک دن ہماری جگہ کوئی دوسرا Rootlessدرخت لے لیتا ہے اور ہمارا مقدر یا تو کوڑا اٹھانے والا ٹرک بنتا ہے یہ کوئی پرانی چیزیں سیل کر نے والی دوکان جہاں ہمیں ڈرائی کلین کر کے پھر سیل پر لگا دیا جاتا ہے․ ہمارے برعکس جیرڈ جیسے لوگ دھرتی سے جڑے رہتے ہیں وہ زمانے کے سارے سردوگرم سہتے ہوئے ہمیں حسرت سے دیکھتے ہیں ہم پر رشک کرتے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان کہ جڑیں ہیں جن سے ان کے سوکھنے کے بعد نئی کونپلیں پھوٹیں گی اور ان کی شاخوں پر پرندے گھونسلیں بنائیں گے ان کی جڑوں سے ان کی نسلیں آگے بڑھیں گی ․ انہی نسلوں میں سے کوئی جیرڈ کو My dad was so cool or My dad used to sayجیسے الفاظ میں یا د کرے گا لیکن ہماری جگہ اگر کوئی ہماری شاخوں سے پھوٹنے والا درخت لے گا تو بھی وہ ایسے ہی Rootleesہو گا جیسے ہم ہیں. .

Montecristo Ciudad de Musica کا سگار اپنے آخری دموں پر تھا لیکن مارک سگار کی بجائے حیاتی سے پرے وہ سب کچھ دیکھ اور بول رہا تھا جس سے میں اس کے بہت قریب ہوتے ہوئے بھی جہالت کی حد تک لا علم تھا․

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Rootless People Column By Ahmed Adeel, the column was published on 16 December 2020. Ahmed Adeel has written 65 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ahmed Adeel on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.