
گلی محلوں میں موت کے سائے
پیر 29 جون 2020

ڈاکٹر جمشید نظر
(جاری ہے)
پاکستان میں کورونا کی آمد سے لے کر اب تک وزیر اعظم عمران خان،وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور ،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد،صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان سمیت تمام وفاقی و صوبائی وزراءکورونا کی روک تھام کے سلسلے میں اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی زور دیتے رہے کہ کورونا وائرس سے بچاو کے لئے لوگ میل جول کم کریں،سماجی فاصلہ برقراررکھیں،ماسک کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بار باردھوئیں۔
حکومت کے اقدامات کے باوجود جب تک لوگ کورونا کے پھیلاو کو روکنے میں موثر کردار ادانہیں کریں گے اس وباءسے بچنا مشکل ہے۔پچھلے لاک ڈاون کے دوران میں نے دیکھا کہ گلی محلوں میں رہائشی گھروں سے باہر نکل کرملنے ملانے اور حالات حاضرہ پرگفتگو کرنے کے لئے محفلیں جما رہے تھے جبکہ نوجوان اور بچے کورونا سے بے خبرکرکٹ اوردیگرکھیلوں میں لگے ہوئے تھے، جب اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث علاقے میں کورونا کے باعث ایک دو ہلاکتیں ہوئیں تو وہی گلی محلے یکدم سنسان ہوگئے،سب اپنے اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے۔محلے داروں نے آپس میں ملنا ملانا بند کردیا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک لوگوں کی آنکھوں کے سامنے کورونا کسی کی جان نہ لے لے تب تک کوئی یقین نہیں کرے گا اور کیا فائدہ ایسے یقین کا جب اتنی جانیں چلی جائیں اور پھر سبق حاصل کیا جائے۔لاہور کے جوعلاقوں سیل کئے گئے ہیں اب ان علاقوں کے رہائشیوں کوکم از کم اس بات کا اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ کورونا وائرس مذاق نہیں ایک حقیقت ہے اوراس حقیقت کا سامنا ان سب کوبھی کرنا پڑسکتاہے جو کوروناکو مذاق یا خیال تصور کرتے ہیں۔
انڈیا کی صورتحال کو ہی لے لیجئے جہاں سخت لاک ڈاون کے باوجود کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔حالیہ رپورٹ کے مطابق انڈیا میں سخت اور ظالمانہ لاک ڈاون کے باوجود کورونا کے باعث ایک ہی دن میں 2000 سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔اس خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں اب ہوش کے ناخن لینا ہونگے ،بے شک ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیئے کہ ہمارے ملک میں کورونا سے اموات کی شرح بہت کم ہے لیکن اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کورونا سے لاپرواہ ہوجائیں اور کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کر لیں اور دل میں یہ سوچیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے ،خطرہ ٹلا نہیں بلکہ اب شروع ہوا ہے اس لئے ہمیں ہر طرح کی احتیاط کرنا ہوگی۔ کورونا سے خود کو اور دوسروں کو بچانے کی کوششیں کرنا ہونگی۔کورونا کے مرض میں مبتلا مریضوں کی جان بچانے کے لئے ان خوش نصیبوں کو آگے آنا ہوگا جنھوں نے کورونا کے مرض کوشکست دی۔کورونا کے مشکل تر ین حالات میں بھی50ہزار سے زائد ایسے خوش قسمت افراد ہیں جنہوں نے کورونا کو شکست دی ہے ۔ان صحت یاب افراد کو چاہیئے کہ وہ اپنا پلازمہ عطیہ کر کے دوسروں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار اداکریں کیونکہ صحت یاب ہونیوالوں کو اللہ تعالیٰ نے موقعہ دیا ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کریں، اللہ پاک قر آن پاک میں فر ماتے ہیں جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
ڈاکٹر جمشید نظر کے کالمز
-
محبت کے نام پر بے حیائی
بدھ 16 فروری 2022
-
ریڈیو کاعالمی دن،ایجاد اور افادیت
منگل 15 فروری 2022
-
دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاک فوج کی کارروائیاں
جمعرات 10 فروری 2022
-
کشمیری شہیدوں کے خون کی پکار
ہفتہ 5 فروری 2022
-
آن لائن گیم نے بیٹے کو قاتل بنا دیا
پیر 31 جنوری 2022
-
تعلیم کا عالمی دن اور نئے چیلنج
بدھ 26 جنوری 2022
-
برف کا آدمی
پیر 24 جنوری 2022
-
اومیکرون،کورونا،سردی اور فضائی آلودگی
جمعہ 21 جنوری 2022
ڈاکٹر جمشید نظر کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.