بلا ول بھٹو اور مریم نواز: سیاسی قیادت میں جوہری تبدیلی

جمعہ مئی

Dr Lubna Zaheer

ڈاکٹر لبنی ظہیر

 اس بات کا کریڈٹ یقینا بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کی تمام قابل ذکر جماعتوں کو ایک میز پر لا بٹھایا۔ بلاول کی طرف سے دی جانے والی دعوت افطار کے بعد سے حکومتی صفوں میں ہلچل (بلکہ ہیجان) کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر یہ اعلان کہ عید کے بعد ایک آل پارٹیز کانفرنس برپا ہو گی۔ تمام اپوزیشن مل بیٹھے گی اور حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ ہو گا۔

اپوزیشن کن مطالبات کے ساتھ سامنے آئے گی؟ تحریک کی نوعیت کیا ہوگی؟ احتجاج پارلیمنٹ کے اندر کیا جائے گا یا سڑکوں پر؟ اپوزیشن پارلیمنٹ سے استعفوں کا آ پشن استعمال کرئے گی یا نہیں؟ تحریک کا مقصد حکومت پر دباو بڑھانا ہو گا یا اسے رخصت کرنا؟ ان سوالوں کے جوابات تو اے۔پی۔سی کے بعد ہی مل سکیں گے۔

(جاری ہے)


 فی الحال مگر اس دعوت افطار کے نتیجے میں جو حقیقت پوری طرح ابھر کر سامنے آئی ، وہ ہے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت میں ہونے والی جوہری تبدیلی۔

یعنی بلاول بھٹو اور مریم نواز۔
بلاول بھٹو کے پختہ اور مدبرانہ طرز سیاست نے میڈیا اور عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ مختلف قومی معاملات پر بلاول کا پختہ نقطہ نظر، پر اعتماد لہجہ، چہرے کے تاثرات اور جرات مندانہ بیانیے نے مبصرین کو چونکایا ہے۔ تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو بلاول میں اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی فکری اور نظریاتی شبیہہ دکھائی دیتی ہے۔

اگرچہ یہ پہلے سے طے تھا مگر اب واضح ہو چلا ہے کہ بلاول بھٹو ہی پیپلز پارٹی کا مستقبل ہیں۔
مریم نواز کا معاملہ مگر مختلف ہے۔ مریم نہ تو پارلیمنٹ کا حصہ ہیں، نہ ان کے پاس بلاول کی طرح بھاری بھرکم عہدہ ہے۔ ابھی حال ہی میں انہیں پارٹی کا نائب صدر بنایا گیا ہے۔ یعنی اب وہ پارٹی میں موجود درجنوں نائب صدور میں سے ایک ہیں۔ تاہم یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ کسی رسمی عہدے کے بغیر، مریم نے قومی سیاسی منظرنامے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ مستقبل میں پارٹی میں کوئی لیڈر نظر آتا ہے تو وہ شہباز شریف ہیں، نہ شاہد خاقان۔احسن اقبال ہیں ، نہ حمزہ شہباز ۔اور نہ کوئی اور۔ اگر کوئی شخصیت عوام کی اور میڈیا کی توجہ حاصل کر نے کی صلاحیت اور ، نواز شریف کا بیانیہ پوری قوت کیساتھ آگے بڑھانے کی مہارت رکھتی ہے تو وہ مریم نواز شریف ہے۔اگرچہ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف ہیں۔

سچ مگر یہ ہے کہ وہ کارکنوں کے جذبات گرمانے، ان میں تحرک پیدا کرنے، ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مریم نے کسی عہدے کے بغیر بھی یہ کام کر دکھایا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں بھی پارٹی کی صدارت رسمی طور پر شہباز شریف کے پاس ہی رہے۔ مگر پارٹی کا اصل چہرہ مریم نواز ہی ہونگی۔ مریم نواز نے اپنے عمل اور کردار سے ثابت کر دکھایا ہے کہ وہی نواز شریف کی سیاسی وارث اور جانشین بننے کی اہل ہیں۔


 یاد رہے کہ اس دعوت افطار میں تین سابق وزرائے اعظم (شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی) اور ایک سابق صدر (آصف علی زرداری) موجود تھے۔ مگر میڈیا اور عوام کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز ومحور صرف مریم نواز تھیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی سیاست میں نظریاتی اور فکری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ اور انداز بیاں الگ الگ سہی، مگر حقیقت یہی ہے کہ " ووٹ کو عزت دو "کا بیانیہ ہی مریم اور بلاول کا بیانیہ ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Bilawal Bhutto Or Maryam Nawaz Column By Dr Lubna Zaheer, the column was published on 24 May 2019. Dr Lubna Zaheer has written 11 columns on Urdu Point. Read all columns written by Dr Lubna Zaheer on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.