حریم شاہ اور مفتی صاحب

منگل 19 جنوری 2021

Hussain Jan

حُسین جان

حریم شاہ کی تازہ ترین ویڈیو یقینا سب کی نظر سے گزر چکی ہوگی جس میں وہ مفتی عبد القوی کو ایک نجی ہوٹل میں تھپڑ مارتے ہوئے دیکھائی دیتی ہیں.
مفتی عبد القوی مقتولہ قندیل بلوچ کی وجہ سے پہلی بار متنازع بنے. پاکستان تحریک انصاف سے ان کا تعلق بھی تھا. یہ الگ بات ہے کہ ان کی حرکتوں کی وجہ سے اسے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا. رویت حلال کمیٹی میں بھی عہدے پر رہے لیکن وہاں سے بھی نکالے گئے.
اب آتے ہیں موجودہ صورتحال کی طرف کہ آخر حریم شاہ نے انہیں تھپڑ کیوں مارا.

حریم شاہ نے ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ مفتی صاحب کو تھپڑ کیوں مارا اس کا جواب جلد مل جائے گا. لیکن اس کی وجوہات تو تلاش کیا جاسکتا ہے. مزے کی بات ہے تھپڑ والی ویڈیو سے پہلے حریم شاہ نے ایک اور ویڈیو شئیر کی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ بڑے خوبصورت انداز میں مفتی صاحب کے ساتھ ایک حال میں واک کرتی دیکھائی دے رہی تھی.
حریم شاہ کی بے باکی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے.

اس کے ساتھ ساتھ مفتی صاحب بھی ایسی حسیناؤں کے اکثر آگے پیچے دم ہلاتے نظر آتے ہیں. کیا مفتی عبد القوی کو ایسی حرکات زیب دیتی ہیں. ان کے ہزاروں شاگرد ہوں گے آخر ان پر اور ان کے والدین پر ان حرکتوں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہوں گے. اس شخص نے اسلام کو مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے. ایک شخص کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ عبد القوی دنیا کا ٹھرکی ترین انسان ہے.

یہیں نہیں بلکہ کچھ لوگ تو یہ بھی سوچتے ہوں گے یہ شخص جو مفتی کہلواتا ہے ہوس پرست ہے. حریم شاہ کو اس ویڈیو سے کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ تو وزارت خارجہ تک گھوم آئی تھی اس کا تب کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تو اب کیا ہو گا.ساری دنیا جانتی یے کہ حریم شاہ اپنی بے باکی کی وجہ سے مشہور ہے. بے باکی بھی کیا ہم سب کو پتا ہے اصل میں وہ کیا کام کرتی ہوگی.
مفتی قوی اور حریم شاہ جیسے لوگ کسی بھی معاشرے کے لیے بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں.

اب کوئی یہ نا کہے کہ یہ آزادی اظہار رائے ہے. یقین کریں ایسی بے ہودہ حرکتیں تو کسی یورپی ملک میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی. ہاں پورنوگرافی کی الگ بات ہے. کوئی شخص چاہے جتنا بھی لبرل ہو آخر اسے اپنے معاشرے کے مطابق ہی چلنا چاہیے. فنکار تو ویسے بھی ملک کے سفیر ہوتے ہیں لیکن اسے فنکار سوائے بدنامی کے اور کچھ حاصل نہیں کرتے.
بات بڑی سیدھی سی ہے حریم شاہ اچانک تو آئی نہیں ہوگی اس نے پہلے یقنا فون کرکے مفتی صاحب سے کنفرم کیا ہوگا کے جناب کیا واقعی ہوٹل میں موجود ہیں.

مفتی صاحب نے سوچا ہوگا چلو کچھ تفریح ہوجائے گی. لہذا کہا ہوگا جی تشریف لے آئیں خادم موجود ہے. اور پھر خادم کے حصے میں لال کرتے والی حریم شاہ کا تھپڑ آیا.
ویسے ایک بات ہے اس میں حیران ہونے والی بھی کوئی بات نہیں. ہھول کے ساتھ کانٹے بھی تو ہوتے ہیں. مفتی صاحب کو پھول ناک تک لانا نصیب ہی نہیں ہوا. ویسے تو ناجانے کتنے پھول مسل چکے ہوں گے موصوف.

اگر جناب اتنے ہی شوقین مزاج ہیں تو کھل کر میدان میں کیوں نہیں اترتے ہر وقت داؤ کے چکر میں کیوں رہتے ہیں.
حریم شاہ کا کیا ہے وہ اب کوئی بھی الزام لگا دے گی اور پھر میڈیا میں اک نئی بحث چل نکلے گی. علماء کے سامنے انتہائی ماڈرن خواتین کو ٹاک شوز میں بٹھایا جائے گا اور ایسے ایسے فقرے سننے کو ملیں گے کہ انسان دھنگ راہ جائے. پاکستانی میڈیا تو ویسے بھی چسکے کا مارا ہے.

جہاں کوئی چسکے دار خبر دیکھی وہیں رال ٹپکنے لگی.سوشل میڈیا پر بھی طوفان بدتمیزی برپا ہوچکا ہے.
میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ حکومت دونوں کو کچھ ایسی سزا دے کہ دونوں آئندہ محتاط ہوجائیں. بلکہ میں تو کہتا ہوں دونوں کا نکاح کروا دیں ایک دین سے جائے تو دوسری آزادی سے جائے. یا پھر کوئی بھی علامتی سزا جیسے کے حریم کو کسی خواتین کے مدرسے میں برتن دھونے کی ڈیوٹی اور مفتی صاحب کو کسی ڈسکو کلب کی چوکیداری شائد پھر ہی ان دونوں کو شرم آجائے کہ ان لوگوں نے معاشرے میں کیا گند ڈالا ہوا ہے.
ایک بات اور بھی ہے کہ جتنا سوشل میڈیا بری طرح ہمارے ملک میں استعمال ہوتا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی.

ہمارے ملک کے لوگوں کا حال اس میراثی جیسا ہے جس کے ہاں بیٹا ہیدا ہوجاتا ہے تو اسے چوم چوم کر ماردیتا ہے. اسی طرح ہمارے لوگ سوشل میڈیا کو باؤلے ہوکر استعمال کرتے ہیں کہ سارا دن برباد کردیتے ہیں. پب جی ہو یا فیس بک، ٹیوٹر ہویا انسٹاگرام، ٹک ٹاک ہویا واٹس ایپ یہ قوم میراثی کا کردار ضرور نبھاتی نظر آتی ہے

(جاری ہے)


ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Hareem Shah Aur Mufti Sahab Column By Hussain Jan, the column was published on 19 January 2021. Hussain Jan has written 170 columns on Urdu Point. Read all columns written by Hussain Jan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.