شیخ الاسلام حضرت میاں میرصاحب ؒ

ہفتہ 16 اکتوبر 2021

Ma Gi Allah Walley

ماں جی اللہ والے

برصغیر پاک وہند کے عظیم صوفی بزرگ حضرت میاں میر صاحب ؒ کے 398ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات ان دنوں آپؒ کے مزار شریف واقع لاہور میں جاری ہیں۔ مزار مبارک کے اندر ایک تختی پر آپؒ کا شجرہ نسب لکھا ہوا ہے جس میں آپؒ کی تاریخ پیدائش، والدصاحب،والدہ ماجد،اور استاد کے نام اورآپؒ کی لاہور آمد اور رحلت کی تاریخیں درج ہیں اور یہ بھی درج ہے کہ آپؒ کا سلسلہ نسب امیرالمومنین حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔

آپؒ نے کوئی کتاب تصنیف نہیں کی تھی۔شہزادہ داراشکوہ نے آپؒ کی حیات،تعلیمات اور معجزات پر مبنی کتاب”سکینتہ الاولیاء“ لکھی جس سے عقیدت مند اب تک استفادہ کررہے ہیں۔
ایک روز حضرت میاں میرصاحبؒ  ایک باغ کے سامنے دریا کے کنارے آرام فرما رہے تھے۔

(جاری ہے)

آپ ؒکے مرید خاص شیخ عبدالواحد آپ کے پاؤں دبا رہے تھے۔ اچانک ایک بڑا سیاہ سانپ نمودار ہوا اور آپؒ کی طرف بڑھنے لگا۔

مرید کی نظر جیسے ہی سانپ پر پڑی، خوف سے اس کا چہرہ پیلا پڑگیا۔ حضرت میاں میرؒنے مرید خاص کے چہرے کی طرف دیکھااورفرمایا”عبدالواحد،کیا بات ہے؟“مرید خاص بولا”حضرت،ایک سانپ ہماری طرف آرہا ہے“۔آپؒ نے کہا،”آنے دو،اسے ہم لوگوں سے کوئی کام ہوگا“۔مرید ڈرتے ہوئے بولا”حضرت، سانپ کو ہم سے کیا کام ہوسکتا ہے؟“آپؒ نے فرمایا”دیکھتے جاؤ“۔

مرید خاص شیخ عبدالواحد اپنے مرشد کے حکم پر ادب سے خاموش ہوگئے لیکن سانپ کے خوف سے ان کادل ابھی بھی کانپ رہا تھا۔ادھر سانپ آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے پاس آگیا اور اپنا پھن پھیلا کرحضرت میاں میرؒ کے قدموں پررکھ دیا۔آپ ؒسانپ سے مخاطب ہوکر بولے”ٹھیک ہے، ایسا ہی سہی“۔اس کے بعدسانپ نے اپنا پھن اٹھایا اور حضرت میاں میرؒ کے گرد رینگتے ہوئے چکر لگانے لگا۔

سانپ نے تین چکر پورے کئے اورپھر آرام سے رینگتا ہوا واپس چلا گیا اور نظروں سے غائب ہوگیا۔سانپ کے واپس جاتے ہی آپؒ کے مرید نے حیرت سے پوچھا”سیّدی،یہ کیا راز تھا؟“۔آپ ؒنے فرمایا”کوئی راز نہیں تھا، اس سانپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ جب بھی مجھے دیکھے گا، میرے گرد تین چکر لگائے گا، اس بات کے لئے سانپ نے مجھ سے اجازت طلب کی تومیں نے اسے اجازت دے دی، پھر سانپ نے تین چکر لگائے اورواپس چلا گیا۔


ایک مرتبہ ایک شخص حضرت میاں میر صاحبؒکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرا بیٹا شدید بیمار ہے اور میں یہ اُمید لے کر آیا ہوں کہ آپؒ  توجہ اور دعا فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ کرم کردے گا۔ آپؒ نے پانی کا پیالہ طلب کیا، اس پر دعا پڑھی اور اس شخص کو دے کر فرمایا”اُس پیالے کو لے جاو اورپانی اپنے بیٹے کو پلا دو۔“ اس شخص نے جب اپنے بیمار بیٹے کو پانی پلایا تو وہ شفایاب ہوگیا۔

بعد میں وہی شخص اپنے بیٹے کو لے کر میاں میر ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ”یہ سات سال کا ہوگیا ہے لیکن گونگا ہے، بول نہیں سکتا۔“ حضرت میاں میرؒ نے اس لڑکے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا”کہو،بسم اللہ الرحمن الرحیم“۔آپؒ کا یہ فرمانا تھا کہ لڑکے کی زبان کھل گئی اور اس کا گونگا پن جاتا رہااور پھر اس لڑکے نے تھوڑی ہی مدت میں قرآن شریف بھی حفظ کرلیا۔

سلطنت مغلیہ کے بادشاہ شاہجہاں کا بیٹا شہزادہ داراشکوہ بھی آپؒکے دیئے ہوئے مٹی کے پیالے میں پانی کو پی کر صحت یاب ہواتھا۔شہزادہ داراشکوہ نے حضرت میاں میر ؒ  کے دیئے ہوئے مٹی کے پیالے سے چند گھونٹ پانی پی کر معرفت کا وہ سبق حاصل کیا کہ اس نے بادشاہی چھوڑدی اور زندگی بھر کے لیے فقیری اختیار کرلی۔
 اسی طرح ایک مرتبہ حضرت میاں میرصاحبؒ موچی دروازہ لاہور کے ایک باغ میں بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شکاری وہاں آگیا اس نے اپنی غلیل سے درخت پر چہچہاتی فاختہ کا نشانہ لگایا تو وہ زمین پر گرکر تڑپنے لگی۔

حضرت میاں میرؒ نے فاختہ کو اٹھا یا اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
کچھ لمحوں بعد فاختہ نے ایک دم جھر جھری سی لی اور اُڑ کر پھر سے درخت کی شاخ پر بیٹھ کرچہچہانے لگی۔یہ دیکھ کر شکاری نے پھر سے اسی فاختہ کا نشانہ باندھا۔ آپؒ نے شکاری کو ایسا کرنے سے منع کیا لیکن شکاری نے اپنی غلیل کو فاختہ کی طرف تان لیا۔اس سے پہلے کہ وہ فاختہ پر دوبارہ نشانہ لگاتا اس کے ہاتھ میں اس قدر شدید درد اُٹھا کہ غلیل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرنیچے گرگئی۔

شکاری درد سے کراہنے لگا،حضرت میاں میرؒ اس کے قریب پہنچے اور فرمایا”میں نے تجھے منع کیا تھا مگر تو نہ مانااور اب تو اس تکلیف میں مبتلا ہے۔“شکاری فورا آپؒ کے قدموں میں گرگیا اور معافی طلب کرنے لگا۔ آپؒ نے اسے معاف کردیا،معافی ملتے ہی شکاری کے ہاتھ کی تکلیف ختم ہونے لگی۔حضرت میاں میرؒ کی تبلیغ دین اور تعلیمات کتاب و سنت پر مبنی کاوشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں شیخ الاسلام کے لقب سے نوازا گیا۔آپؒ کے مزار مبارک پر سکھ اور ہندو بھی حاضری دیتے ہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Sheikh Ul Islam Hazrat Mian Mir Sahab Column By Ma Gi Allah Walley, the column was published on 16 October 2021. Ma Gi Allah Walley has written 24 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ma Gi Allah Walley on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.