کاشتکار کا دکھ

پیر جون

Mohsin Goraya

محسن گورایہ

ایک طویل عرصے بعد پنجاب کے کاشتکار نے سکھ اور اطمینان کا سانس لیا تھا ،اسے گندم اور گنے کی فروخت میں آسانیاں اور اپنی اجناس کا بہتر معاوضہ  ملنا شروع ہو گیا تھا،مگر  یہ گندم اور گنا  مافیا کو  کیسے ہضم ہو سکتا تھا ؟ اور یوں  خاموشی سے  گنے کے کاشتکاروں  کے ان حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی جو  سیکرٹری فوڈ شہر یار سلطان اور کین کمشنر پنجاب زمان وٹو نے بڑی جدوجہد کے بعد   کاشتکاروں  کو  دیےتھے۔

محکمہ خوراک کی طرف سے شوگر ملز کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون سازی کا  منصوبہ منظوری سے قبل ہی  چوری  کر لیا گیا  اور اس کی بجائے مافیا نے شوگر ملز کے حق میں مسودہ قانون اور ترامیم میں  تبدیلی کرکے  اسمبلی  سیکرٹریٹ میں رکھوادیا،کہا جا رہا ہے کہ یہ سازش  ایک با اثر سیاستدان  کے گھر  تیار کی گئی جس میں شوگر ملز مالکان کی اکثریت نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

سوال یہ ہے جس ملک میں حکومت اتنی کمزور اور مافیاز اس قدر  دلیر ہوں وہاں کسی مثبت تبدیلی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟  آپ وزیر اعظم عمران خان  سے لاکھ اختلاف کریں  مگر جہاں ان کو کرپشن اور عوام کے ساتھ زیادتی  محسوس ہو وہاں وہ ڈٹ جاتے ہیں  اور صد شکر کہ اس معاملے میں بھی انہوں  نے پتہ چلنے پر فوری ایکشن لیا ،معاملہ ابھی حل نہیں ہوا  مگر اس پر پیش رفت  شروع  ہو چکی  ہے ۔

اس چوری کی   تفصیل کچھ یوں ہے کہ   گنے کے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پنجاب حکومت نے  دو  آرڈیننس  نافذ کئے گئے تھے،تین ماہ کی پہلی میعاد ختم ہونے سے پہلے پنجاب اسمبلی نے ان دونوں آرڈیننس میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی، آرڈیننس کی معیادختم ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی نمبر 12 نے اسمبلی میں پہلے سے  موجود بلوں پر غور شروع کر دیا  اور  آخری تاریخ اپریل 2021 ء کے شروع میں کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ کچھ جرائم کو قابل ضمانت قرار دیا جانا چاہئے اور    محکمہ خوراک سے اس سلسلے میں تجاویز پیش کرنے کو کہا تو  محکمہ نے اگلی تاریخ پر اپنی تجاویز پیش کرنے کو کہا،  مگر اس  سے پہلے  ہی   بل 4 مئی 2021 ء کو پنجاب اسمبلی نے خاموشی سے  منظور کر لیا اور اس میں  وہ سارے اقدامات  ختم کر دئے  جن کی وجہ سے کاشتکار  کو ریلیف ملنا  شروع ہوا تھا  ۔

  حیرت کی بات ہے کہ  گنے کے  کرشنگ سیزن کا آغاز  کرنے کی تاریخ کا اختیارپنجاب حکومت کی بجائے   شوگر   ملوں کو  دے دیا گیا  کہ  وہ  یکم اکتوبر اور 30 نومبر کے درمیان کسی بھی وقت کرشنگ شروع کر سکتی  ہیں ۔اس  اختیار  سے  کسان کا نقصان ہوتا ہے اور  ملوں  والوں  کا فائدہ ،وہ  تاخیر  سے کرشنگ کا آغاذ  کرتے ہیں  جس کی وجہ سے  کاشتکاروں کو گندم کی فصل کی بوائی میں مشکلات کا سامنا رہتا  ہے  الغرض نئے  قانون میں کاشتکاروں کے مفاد میں شامل تمام شقوں کو ملز مالکان کے حق میں تبدیل کر دیا گیا۔


ہوتا یہ تھا کہ  کرشنگ سیزن کے دیر سے شروع ہونے کی وجہ سے کسان گنے کے جال میں پھنسے رہتے تھے اور یوں  گندم کی فصل پرتوجہ نہ دے سکتے  جس کے نتیجے میں گندم کا بحران پیدا ہوتا   ۔  محکمہ  خوراک  نے  بنک کھاتوں کے ذریعے کسانوں کے واجبات کی ادائیگی لازمی قرار دی  تھی مگر اسمبلی میں خفیہ طریقے سے پاس بل میں  یہ شق ختم کردی گئی، شوگر ملوں کو  نقد ادائیگی کی آزادی   دے دی گئی،جس کے بعدملوں کی طرف سے کاشتکاروں کو واجبات سے کٹوتیوں
 کی وسیع پیمانے پر شکایات  پیدا ہوتی ہیں اسی طرح  ادائیگی میں تاخیر کرکے 15 فیصد سے زیادہ کٹوتیوں پر راضی ہونے پر مجبور کرتی ہیں، محکمہ خوراک کے  آرڈیننس میں  اس استحصال کا دروازہ بند کردیا تھا جسے 17 مئی 2021 کی ترمیم نے دوبارہ کھول دیا۔


اور یوں  کسانوں کو شوگر ملوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا،ملوں کو تنازعہ کی صورت میں ادائیگیاں روکنے کا اختیار مل گیا، اس سے کسانوں کو ان کے جائز دعووں سے بھی محروم کردیا جائے گا،  1950 ء سے، شوگر فیکٹریاں گنے کی فراہمی کے پندرہ دن کے اندر اندر کسانوں کے واجبات ادا کرنے کی پابند تھیں، تاہم 17 مئی 2021  کو   کی گئی ترمیم نے شوگر ملوں کو 30 جون تک ادائیگی نہ کرنے کا اختیار دیدیا،نومبر کے مہینے میں گنے کی فراہمی اور ادائیگی نہ ہونے سے کاشتکار 8 ماہ تک اپنے واجبات  ہی نہیں  لے  سکیں گے، بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگی کی شرط کو ختم کرنے کے ساتھ  بر وقت ادائیگی نہ کرنے کاشتکاروں کو مل مالکان کے گھٹنوں میں ڈال دے گا جو اگلی فصل وقت پر بو سکیں گے نہ اچھی پیداوار حاصل کر سکیں گے، ان کے پیداواری اخراجا ت  بھی پورے نہ ہو سکیں گے، وہ آڑھتی،مڈل مین یا ملز کے عملے کو اصل کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پرفصل فروخت کرنے کے  لئے مجبور  ہوں گے،ماضی میں ایسے حربوں سے 25 فیصد تک کٹوتی کی جاتی رہی۔


1950 ء سے لاگو قانون کو شوگر ملوں کے فائدے میں تبدیل کرکے آرڈیننس کے ذریعے دفعہ 21 میں ترمیم کی گئی اور جرائم کونا قابل شناخت اور ناقابل ضمانت بنایا گیا، تاہم خفیہ  ترمیم نے ان جرائم کو  قابل ضمانت قرار  دے دیا۔۔اس طرح   درمیانی رابطے کے ذریعہ گنے کی غیر قانونی خریداری ایک بہانے یا دوسرے بہانے پر گنے کے وزن سے ملوں کے ذریعہ بھاری کٹوتی، قیمتوں میں کٹوتی وغیرہ سمیت ملوں کی زیادتیوں پر قابو پانے کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں ہوگا، کسان حتمی شکار ہوں گے، ریگولیٹری نظام کی کمی سے استحصالی مارکیٹ قوتوں کو تقویت ملے گی، اس کی وجہ سے گنے کی کاشت میں کچھ سالوں میں قلت پیدا ہوجائے گی اور دوسری فصلوں کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوگی، آئندہ کچھ سالوں میں چینی درآمد کرنا پڑے گی اور کاشتکاروں کا  استحصال دگنا ہو جائے گا۔


منظور ہونے والا  وہ  مسودہ قانون نہیں تھا جو حکومت نے  پیش کیا تھا،سیکرٹریٹ میں  اس کے مندرجات کو  خفیہ  طور  پر  تبدیل کیا گیا کہ ہم نے تجاویز کا جائزہ لیا ہے اور اس کو منظور کیا ہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے خفیہ طور پر دلچسپی لی تھی اور غیر قانونی طور پر اس مسودے کو تبدیل کیا  اور اسے مافیا فرینڈلی اور کسان دشمن بنا دیا گیا۔


اس  عمل  سے کاشت کاروں میں بدامنی پھیل چکی ہے  کیونکہ  خفیہ  طور پر پاس  ہونے والا  یہ  ایکٹ    گزشتہ اکتوبر میں جاری آرڈیننس کے  خلاف تھا جس نے حکومت کو کرشنگ سیزن کے آغاز کی تاریخ طے کرنے کی طاقت دی تھی، ملرز کو گنے کی خریداری سے 15 دن کے اندر کاشتکاروں کوباقاعدہ بینکاری کے ذریعے واجبات ادا کرنے کا پابند کیا تھا، کاشتکاروں کو بچانے کے لئے دوسرے حفاظتی اقدامات کے علاوہ کم تنخواہوں اور غیرقانونی کٹوتیوں کے عمل کو جانچنا بھی شامل تھا،دلچسپ بات یہ کہ پارلیمنٹ کے قواعد سے انحراف کرتے ہوئے بل کی کاپیاں اراکین کو نہیں دی گئیں مگر ترمیم کرنے والوں کے ہاتھ لگ گئیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Kashtkar Ka Dukh Column By Mohsin Goraya, the column was published on 07 June 2021. Mohsin Goraya has written 11 columns on Urdu Point. Read all columns written by Mohsin Goraya on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.