اے این پی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں گھوڑے نہیں اصطبل بکے تھے ، کپتان نے اس کی تصدیق کردی ، شاہی سید

بدھ اپریل 22:13

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ ہمارے مرکزی صدر اسفندیا ر ولی خان نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس مرتبہ سینیٹ الیکشن میں گھوڑے نہیں بلکہ اصطبل بکے تھے آج کپتان صاحب نے اس کی تصدیق کردی ہے عمران خاں صاحب نے بکنے والے تو بتادیے خریدنے والوں کا بھی نام بتائیںبکنے والے ،خریدنے والے اور ٹکٹ دینے والے سب برابر کے گناہ گار ہیں کپتان صاحب نے ووٹ بیچنے والوں کے نام تو بتادیے مگر اپنے ان اراکین کے بھی نام بتائیں جنہوں نے اپنے سینیٹ امیدوار کو پیسے لیکر ووٹ دیا کرپشن کا سونامی ملکی سیاست سے بچی کچی اقدار،ایمانداری بھی بہا کر لے گیا ہے کپتان صاحب یہ کام بروقت کردیتے تو زیادہ بہتر تھا اب وہ پنڈورا بکس کھلے گا کہ اب ان کو ، پرویز خٹک اور ان کے وزیروں کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نصیب نہیں ہوگی ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے کیماڑی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماء رمضان جدون کی سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری ،ضلع غربی کے صدر سرفراز خان جدون ، جنرل سیکریٹری ارشد سہیل اور رمضان جدون نے بھی خطاب کیا اس موقع پر اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ)) کے چیئر مین شاہی سید نے مذید کہا کہ شدید گرمی میں طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے عوام نڈھال ہوچکے ہیںپمپنگ اسٹیشن پر لوڈ شیڈنگ سے شہری پانی کی بوند بوند کے ترس چکے ہیںاہلیان کراچی گرمی اور پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے شدید پریشان ہیںانہوں نے مذید کہا کہ مطالبات اور احتجاج تو اپوزیشن جماعتیں کرتی ہیں اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کے لیے حکومتی جماعتیں بھی احتجاج اور مطالبات کررہی ہیںمیں رمضان جدون اور ان کے ساتھیوں کو عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہتا ہوں امید کرتا ہوں کہ وہ اور ان کے ساتھی کیماڑی میں پارٹی کی فعالیت میں اہم کردار ادا کریں گے ، انہوں نے مذید کہا کہ کراچی کے پختونوں کا اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کرنے کا انجام آپ سب کے سامنے ہے شہر کی پختون آبادیوں کی حالت زار آپ سب کے سامنے ہے ووٹ مانگنے والوں سے پوچھیں کہ انہوں نے پچھلے دس برسوں میں آپ کے لیے کیا کیا ۔