پی سی بی کے حق میں فیصلہ آنے پر بھارت کو پاکستان سے کھیلنا ہوگا، نجم سیٹھی

پی سی بی آئی سی سی کی تنازعات کو حل کرانے کی کمیٹی کے فیصلے کو قبول کرے گا، اگرکمیٹی نے اکتوبر میں ہمارے حق میں فیصلہ سنایا تو بھارت کو نئے ایف ٹی پی پروگرام میں ہمارے خلاف کھیلنا ہوگا،چیئرمین پی سی بی

پیر اپریل 21:58

پی سی بی کے حق میں فیصلہ آنے پر بھارت کو پاکستان سے کھیلنا ہوگا، نجم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) پاکستان کرکٹ بورڈ ((پی سی بی))کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پی سی بی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)کی تنازعات کو حل کرانے کی کمیٹی کے فیصلے کو قبول کرے گا، آئی سی سی کے پاکستان کے حق میں فیصلے کی صورت میں پاک بھارت مشترکہ سیریز کو مستقبل کے دوروں کے پروگرام(ایف ٹی پی)2019-2023میں کھیلا جائے گا۔

نجم سیٹھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشروط طور پر ایف ٹی پی کی دستاویزات پر دستخط کردیئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ بات واضح کردی ہے کہ اگرکمیٹی نے اکتوبر میں ہمارے حق میں فیصلہ سنایا تو بھارت کو نئے ایف ٹی پی پروگرام میں ہمارے خلاف کھیلنا ہوگا۔۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے دستاویزات پر دستخط اس شرط پر کیا ہے کہ اگر آئی سی سی کمیٹی نے پی سی بی کے حق میں فیصلہ دیا تو بھارت کو ایف ٹی پی میں شامل کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آتا تو بھی ہم نے نئے ایف ٹی پی میں 123 میچز کھیلنے کی تصدیق کرالی ہے جو اچھا اقدام ہوگا۔کولکتہ میں ہونے والے اجلاس میں آئی سی سی نے ایف ٹی پی کو حتمی شکل دے دی تاہم حالیہ شیڈول میں پاک بھارت کے مشترکہ میچز کو شامل نہیں کیا گیا۔۔پی سی بی کی جانب سے آئی سی سی میں معاوضے کا کیس بھی دائر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ بورڈ آف کنٹرول فور کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے 2014 میں ہونے والے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ان کی تنازعات کو حل کرنے والی کمیٹی اکتوبر کے مہینے میں دبئی میں 4 روزہ اجلاس کے بعد پاکستان کے 7 کروڑ ڈالر معاوضے کے دعوے پر فیصلہ سنائے گی۔۔نجم سیٹھی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان معاوضے کا کیس جیت جائے گا کیونکہ ان کی قانونی ٹیم نے بی سی سی آئی کے خلاف مضبوط کیس تیار کیا۔۔پی سی بی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف اب بھی وہی ہے کہ دونوں ممالک کے بورڈز کے درمیان 2014 میں آئی سی سی اجلاس کے دوران دستخط کیے جانے والے ایم او یو پر عمل کیا جائے، جس میں کہا گیا تھا کہ 2015 سے 2023 کے دوران 6 مشترکہ سیریز کھیلی جائیں گی۔

بی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ ایم او یو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس میں ایک شرط رکھی گئی تھی کہ پاکستان کو بگ 3 گورننس سسٹم کی حمایت کرنی ہوگی جو اب حل ہوچکا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت کی جانب پاکستان کے خلاف کھیلنے کے لیے کلیئرنس درکار ہے۔۔نجم سیٹھی نے واضح کیا کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن پہلے آئی سی سی کو کیس کا فیصلہ کرنا ہے۔