کوئٹہ،پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام یکم مئی کی مناسبت سے عظیم الشان جلوس

یوم مزدور کے جاںنثاروں کو زبردست خراج تحسین اور سرخ سلام پیش کیا گیا

منگل مئی 19:50

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام یکم مئی کی مناسبت سے عظیم الشان جلوس ریلوے اسٹیشن سے نکالا گیا جو زرغون روڈ، پرنس روڈ، جناح روڈ سے ہوتا ہوامنان چوک، کچہری سے گزرتے ہوئے لیاقت پارک پہنچا جہاں جلسہ منعقد ہوا۔ جلوس کے دوران مزدور اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے پر زور نعرہ بازی کرتے رہے۔

بعد ازاں جلسے سے کنفیڈریشن کے رہنمائوں محمد رمضان اچکزئی، خان زمان، حاجی بشیر احمد،عبدالمعروف آزاد، حاجی عزیز اللہ،خیر محمد فورمین،محمد یوسف، عزیز احمد شاہوانی، محمد قاسم کاکڑ،سیف اللہ، محمد رفیق لہڑی، فیض اللہ، غلام نبی بروہی، نظام الدین کرد، ملک عبدالوحید کاسی، عبدالباقی لہڑی، بخت نواب، عابد بٹ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے یوم مزدور کے جاںنثاروں کو زبردست خراج تحسین اور سرخ سلام پیش کیا اور کہا کہ یوم مئی کے مزدوروں نے سفید جھنڈے کو اپنے خون سے لال کرکے تمام مزدوروں کیلئے 16 تا18 گھنٹوں کی مزدوری کے بجائے 08 گھنٹے کرایااورمزدوروں کیلئے قانون سازی کروا کے ان کے حقوق کا تحفظ کیااور انہیں مراعات دلائیں۔

(جاری ہے)

آج ملک اور صوبے میں مزدور 1886 سے بد تر حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ملک بنانے والوں نے کہا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں برہمن اور شودرکے درمیان فرق اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ سے ایک آزاد ملک بنایا جارہا ہے جس میں اسلامی اور انسانی فلسفے کے مطابق تمام انسانوں کو زندہ رہنے کا حق ، روزگار، تعلیم،،صحت، روٹی، کپڑا، مکان، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضرورتیں میسر ہوںگی،شہریوں کے درمیان امتیاز نہیں ہوگا، انصاف، مساوات اور احتساب کے اسلامی فلسفے کے مطابق تمام شہریوں کو ان کے جائز حقوق ملیں گے۔

1973 کے آئین میں تمام شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل ہیں لیکن یہ حقوق تمام شہریوں کو مل نہیں رہے کیونکہ اس وقت ایک طرف مراعات یافتہ طبقہ امیر سے امیر تر ہو رہا ہے ان کی اولادیں بیرون ملک کاروبار کرتی ہیں، رہائش اختیار کرتی ہے، صحت وتعلیم بھی بیرون ملک حاصل کرتے ہیں، ملک میں لوٹ مار کرکے بیرون ملک کمپنیاں بنا کر مال و دولت، ڈالر،،پائونڈ اور یورو بیرون ملک رکھتے ہیں، ملک پر امریکہ برطانیہ،، یورپی یونین اور عرب ممالک کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں، ملک کو قرضوں میں ڈبو کر بیرون ملک آقائوں کی ڈکٹیشن قبول کرکے ملک کی خود مختاری اور آزادی کو دائو پر لگائے ہوئے ہیں،،جمہوریت کا مطلب ان کی نظر میں یہ ہے کہ وہ خود حکمران ہو ںیا ان کی اولادیں حکمران ہوں، پارٹیوں کی شہنشایت ہو اور ان کے بچے اور خاندان جانشین بنتے رہے، 22 کروڑ عوا م ووٹر ہو ںاور چند لوگ ووٹ لے کر پانچ سال تک ملک کے وسائل کو لوٹتے جائیں،ملک میں انصاف ،مساوات اوراحتساب نہ ہو بلکہ غریبوں کو مجسٹریٹ سزائیں دیں اور وہ قبول کریں اور لٹیروں کو سپریم کورٹ کے پانچ جج سزا دیں تو وہ گالم گلوچ پر اتر آئیں اور کہیںکہ پانچ اشخاص انہیں کس طرح کسی غلط کام پر پوچھ سکتے ہیں، اونچ نیچ کے اس امتیازی نظام میں غریب اور محنت کش طبقہ کی تنخواہیں 15 ہزار سے بھی کم مل رہی ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ سمیت بہت سے سرکاری محکموں اور پرائیویٹ محکموں میں 10 سے 15 لاکھ اور کروڑوں کی تنخواہیں لی جارہی ہیں، ملک میں 22 گریڈ بنائے گئے ہیں جو کہ اونچ نیچ کے فرق کو واضح کرتا ہے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ ملک میں 22 گریڈ زکو کم کرکے 06 گریڈ زبنائے جائیں ، بجٹ میں مہنگائی اور روپے کی قدر میں 20% کمی کے بعد تنخواہوں میں 50% اضافہ کیا جائے، تینوں صوبوں کی طرح صوبہ بلوچستان کے فوت شدہ ملازمین کے بچوںکو بھرتی کیا جائے،براہ راست بھرتی کیلئے شفاف نظام وضع کیا جائے، بھرتیوں کی خریدوفروخت بند کی جائے،نیب ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ میں بوگس بھرتیوں اور قائم مقام پوسٹوںپر ترقیوں کا نوٹس لے اور غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کے خلاف کارروائی کی جائے، میڈیا کے 700 سے زیادہ مزدوروں کو حکومت بلوچستان کے فیصلے کے مطابق ریگولر کیا جائے، 19 گریڈ کے موجودہ نااہل سیکریٹری محنت کو فی الفور تبدیل کرکے 20 گریڈ کے ایماندار اور اہل آفیسر کی تعیناتی کی جائے، ورکرزویلفیئر بورڈ میں گورننگ باڑی کے ممبروں کے بغیر کیے گئے تمام ٹینڈرز کرپشن ہیں ان تمام ٹینڈرز کو منسوخ کیا جائے، اسکول کے بچوںکی وردیوں اور ٹرانسپورٹ کی رقوم ورکرز کو چیک کے ذریعے ان کے اکائونٹ میں منتقل کی جائے، ریجنل کمیٹی اور سیکروٹنی کمیٹی کی رکاوٹوں کو ختم کرکے سرکاری آفیسروں پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے سیکروٹنی کرکے تمام ورکرز کی ڈیتھ گرانٹ، میرج گرانٹ اور اسکالر شپ کی ادائیگیاں کی جائیں،نواں کلی میں ورکرز کی تدفین کیلئے حاصل کی گئی 15 کروڑ روپے سے زائد قیمت کی زمین پر سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ اور سیکریٹری محنت کے ذریعے قبضہ کر رکھا ہے ورکرز کی اس قیمتی زمین پر قبضہ ختم کرایا جائے، حبیب اللہ کوسٹل پاور کمپنی سمیت تمام کمپنیوں میں حق ٹریڈ یونین دیا جائے، تمام اداروں سے نکالے گئے ملازمین کو فی الفور ملازمتوں پر بحال کیاجائے، پاک پی ڈبلیو ڈی کے پانچ ڈویژن صوبہ بلوچستان میں موجود ہیں اور کراچی سے ایک ڈویژن کی گوادر منتقلی سے گوادر کے لوکل لوگوں کو ملازمت نہیں ملے گی اس لئے اس ڈویژن کی کراچی سے گوادر منتقلی روکی جائے اور صوبہ بلوچستان کے کسی ایک ڈویژن کو گوادر میں کام کی ذمہ داریاں تفویض کی جائیں۔

مقررین نے کیسکو کے ملازمین کی گزشتہ عید الفطر پر منظور شدہ بونس کی ادائیگی کرنے اور پنجاب کے کمپنیوں کی طرح دوسرا بونس دینے، ہیڈ آفس الائونس 20% کی فیلڈ الائونس 20% دینے، آفیسروں کے 10 ہزار روپے الائونس کی طرح ملازمین کو بھی 05 سے 08 ہزار روپے الائونس دینے، تربت میں بااثر بجلی چور عبدالغفور بزنجو کے خلاف درج ایف آئی آر پر انہیں گرفتار کرنے اور سبی گرڈ اسٹیشن کے دو مزدوروں کو لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہ کرنے پر اغوا کرنے کا نوٹس لے کر کارکنوں کو فوری بازیاب کرنے کے مطالبات کیے گئے۔

مقررین نے قومی اداروں کی نجکاری ترک کرکے قومی اداروں کی حیثیت بحال کرنے، تمام نوجوان مرد اور خواتین کو روزگار فراہم کرنے اوربے روزگاروں کو سوشل پروٹیکشن کے طور پر ماہانہ 20 ہزار روپے الائونس دینے کے بھی مطالبے کیے۔ مقررین نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ تمام سی بی اے یونینز کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں اور رینٹ اے لیڈرز اور کاغذی یونینوں کے ذریعے عدالتوں میں بلا جواز کیسز کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ کنفیڈریشن کی ان سے کی گئی فریاد پر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہونے کا ازخود نوٹس لیں اور آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرکے مزدوروں میں پائی جانے والی بے چینی کا سد باب کریں۔